احمد آباد،:کھیلوں کے وزیر منسکھ مانڈویا نے پیر کو کہا کہ ہندوستان مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور کھیلوں کو قومی تعمیر کے مرکز میں لا رہا ہے۔ انہوں نے احمد آباد میں برکس کے روایتی اور مقامی کھیلوں کے مظاہراتی مقابلوں کا افتتاح کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ ایک روزہ اس تقریب کا مقصد مقابلہ آرائی کے بجائے روایتی کھیلوں کا مظاہرہ کرنا اور مختلف ملکوں کے درمیان کھیلوں کے روایتی طریقوں کا تبادلہ کرنا ہے۔ اس تقریب میں ہندوستان کی جانب سے ملکھمب، یوگ آسن اور کلری پائٹو جیسے کھیل پیش کیے جا رہے ہیں۔
منسکھ مانڈویا نے کہا کہ ہندوستان ایک جامع حکمت عملی کے تحت مستقبل کے لیے کھیلوں کا پائیدار نظام تیار کر رہا ہے۔ اس میں ابتدائی سطح پر کھلاڑیوں کی شرکت، صلاحیتوں کی شناخت، تربیت، کھیلوں کی سائنس، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود اور بین الاقوامی سطح پر مواقع فراہم کرنے جیسے پہلو شامل ہیں۔ انہوں نے حکومت کی اہم اسکیم ’کھیلو انڈیا‘ کے لیے 3.76 ارب امریکی ڈالر، یعنی 36,400 کروڑ روپے سے زیادہ کی بجٹ رقم مختص کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت ملک بھر میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے گا اور نوجوان کھلاڑیوں کو تربیت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارا مقصد صرف آج کے لیے عالمی معیار کا کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا نہیں ہے، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے کھیلوں کی ایک پائیدار میراث قائم کرنا بھی ہے۔‘‘
ہندوستان کے علاوہ برکس کے دس دیگر ممالک بھی ان کھیلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں چین، روس، برازیل اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ مانڈویا نے کہا کہ دنیا میں کھیلوں کا منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ آج کھیل صرف مقابلے کا ذریعہ نہیں رہے، بلکہ نوجوانوں کی ترقی، سماجی شمولیت، ثقافتی سمجھ بوجھ اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کا ایک طاقت ور وسیلہ بھی بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے روایتی کھیل دنیا کو جسمانی صلاحیتوں کی ترقی کا ایک منفرد نمونہ پیش کرتے ہیں، جس میں قدیم ورثے اور جدید دور کی اعلیٰ کارکردگی کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس کی ایک مثال ملکھمب ہے، جس میں لکڑی کے ایک کھمبے پر جسمانی توازن اور کرتبوں کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔
اس کھیل میں جسم پر غیر معمولی قابو درکار ہوتا ہے، جبکہ اسے انجام دینے کے لیے بہت کم بنیادی سہولتوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسانی جسم کی حرکات اور ساخت پر گہری مہارت کا مظاہرہ کلری پائٹو میں بھی ہوتا ہے، جو دنیا کے قدیم ترین جنگی فنون میں سے ایک ہے۔ کھیلوں کے وزیر نے کہا کہ کسی روایتی کھیل کے مقبول اور بڑے پیمانے پر کھیلے جانے والے کھیل میں تبدیل ہونے کی بہترین مثال کبڈی ہے۔ یہ ایک ایسا ٹیم کھیل ہے جس میں کھلاڑیوں کے درمیان جسمانی ٹکراؤ بھی ہوتا ہے۔ ان کے مطابق کبڈی نے اپنی ثقافتی شناخت برقرار رکھتے ہوئے دیہی مٹی کے میدانوں سے تجارتی نشریات تک کا سفر طے کیا ہے۔
کبڈی ایشیائی کھیلوں میں تمغوں کے لیے کھیلا جانے والا کھیل بھی ہے۔ مانڈویا نے کہا کہ ہندوستان کی روایتی اقدار، خصوصاً ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ یعنی پوری دنیا ایک خاندان ہے، جسمانی نظم و ضبط اور ہمہ جہت صحت و تندرستی، اولمپکس کی اقدار یعنی اعلیٰ کارکردگی، احترام اور دوستی سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں۔
ہندوستان احمد آباد میں 2036 کے اولمپک کھیلوں کی میزبانی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی شہر میں 2029 کے عالمی پولیس اور فائر گیمز اور 2030 کے دولتِ مشترکہ کھیل بھی منعقد ہوں گے۔ کھیلوں کے وزیر نے تجویز پیش کی کہ برکس ممالک کو روایتی اور مقامی کھیلوں کا ایک مشترکہ ذخیرہ تیار کرنا چاہیے، جس میں ان کھیلوں کی تاریخ، قواعد، استعمال ہونے والے آلات اور کھیل کے میدان سے متعلق ضروریات کو دستاویزی شکل میں محفوظ کیا جائے۔