نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ’انڈیا‘ اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف دہلی میں گاندھی اسمارک پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف پُرامن دھرنا دیں گے۔ اپوزیشن ارکان کے احتجاج کا یہ مسلسل تیسرا دن ہوگا۔ منگل کو انہوں نے نروچن سدن تک مارچ کیا تھا، جبکہ بدھ کو جنتر منتر کے قریب احتجاج کیا تھا۔
ارکان پارلیمنٹ بسوں میں سوار ہوکر راج گھاٹ کی طرف روانہ ہوئے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا، ’’ہم انڈیا اتحاد کے ارکان گاندھی اسمارک کی طرف جارہے ہیں، جہاں ہم پُرامن دھرنا دیں گے۔ ہم وہاں بیٹھ کر دعا کریں گے کہ بی جے پی حکومت، خاص طور پر وزیر اعظم مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو یہ سمجھنے کی عقل نصیب ہو کہ ان کے اقدامات ملک کے مفاد میں نہیں ہیں۔ چاہے معاملہ ووٹ چوری کا ہو، بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ہو، نوجوانوں کو درپیش مسائل کا ہو یا ان کی پیدا کردہ کوئی اور مشکل، ہر معاملہ عوام کے مفاد کے خلاف ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اسی لیے ہم گاندھی اسمارک جاکر دعا کریں گے۔ ہم یہ اجاگر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ہم سے وہ آزادی چھین رہے ہیں جو عظیم رہنماؤں پنڈت جواہر لال نہرو، مہاتما گاندھی اور ولبھ بھائی پٹیل نے ہمارے لیے حاصل کی تھی اور اسے تباہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ وہ ہمارا ووٹ دینے کا حق چھین رہے ہیں۔ ہم وہاں دعا کرنے جارہے ہیں کہ انہیں عقل نصیب ہو اور وہ ہمیں ان حقوق اور آزادیوں سے محروم کرنا بند کریں، جن میں ووٹ دینے کا حق بھی شامل ہے اور جو ان عظیم رہنماؤں نے ہمارے لیے حاصل کیے تھے۔ ہم وہاں بیٹھیں گے اور احتجاج کریں گے۔‘‘
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت پر ’’مجرمانہ سازش‘‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’تقریباً 300 ارکان پارلیمنٹ پُرامن احتجاج کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں گزشتہ دو دنوں سے احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ پہلے دن ہمیں الیکشن کمیشن کے سامنے روک دیا گیا، اگلے دن جنتر منتر کے قریب روک دیا گیا۔ ہمارے لوگوں کو مارا پیٹا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ نریندر مودی، امت شاہ، گیانیش کمار اور موہن بھاگوت نے مجرمانہ سازش کے ذریعے ہندوستان کو یرغمال بنا لیا ہے، آئین کو تباہ کردیا ہے اور ’ووٹ چوری‘ کی ہے۔ کارروائی ہوگی، انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ یہ ہمارا وعدہ ہے۔‘‘ کانگریس اور ’انڈیا‘ اتحاد کے دیگر ارکان پارلیمنٹ نے اس سے قبل کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی میزبانی میں ظہرانے کی میٹنگ بھی کی، جس کے بعد راج گھاٹ پر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔