نئی دہلی: موجودہ مالی سال 2026-27 کے اپریل سے اگست کے دوران ہندوستان کے کاروباری شعبے کو بینکوں کے ذریعے دیے جانے والے قرض میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جبکہ بانڈ کی شرحِ منافع بڑھنے کے باعث غیر مالیاتی کمپنیوں کی جانب سے کارپوریٹ بانڈ جاری کرکے سرمایہ جمع کرنے میں کمی آئی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی اکتوبر کی ماہانہ اقتصادی جائزہ رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2026-27 کے پہلے پانچ ماہ میں بینکوں اور غیر بینک ذرائع سے کاروباری شعبے کو فراہم کیے جانے والے مجموعی مالی وسائل میں 55.4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ رقم 17.5 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ رقم 11.2 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اضافے کی سب سے بڑی وجہ بینکوں کی جانب سے غیر غذائی شعبے کو دیے جانے والے قرض میں اضافہ ہے۔ اس مد میں بینکوں نے اپریل سے اگست کے دوران 9.8 لاکھ کروڑ روپے کے قرض فراہم کیے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ رقم 3.8 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ اس کے برعکس، غیر مالیاتی کمپنیوں کی جانب سے کارپوریٹ بانڈ جاری کرکے جمع کی گئی رقم گھٹ کر 0.3 لاکھ کروڑ روپے رہ گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 1.5 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ رپورٹ کے مطابق، اس کمی کی ایک بڑی وجہ بانڈ کی شرحِ منافع میں اضافہ ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان پانچ مہینوں کے دوران کاروباری اداروں کو مالی وسائل فراہم کرنے میں بینکوں کے قرض کا اہم کردار رہا، جبکہ کارپوریٹ بانڈ کے ذریعے سرمایہ جمع کرنے کا رجحان کمزور پڑا۔ جائزہ رپورٹ کے مطابق، بینکوں کے مجموعی قرض میں بھی مضبوط اضافہ درج کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 30 ستمبر تک بینکوں کے قرض میں 21.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایک سال پہلے اسی مدت میں یہ اضافہ 10.4 فیصد تھا۔ غیر غذائی شعبے کو دیے جانے والے قرض میں بھی 21.4 فیصد کی شرح سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ معیشت کے بڑے شعبوں میں قرض کی فراہمی بڑھنے سے اس رفتار کو تقویت ملی۔
رپورٹ کے مطابق، اگست 2026 میں صنعتوں کو دیے جانے والے قرض میں سالانہ بنیاد پر 18.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ اضافہ 7 فیصد تھا۔ درمیانی درجے کی صنعتوں کو دیے جانے والے قرض میں 31.8 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے بعد چھوٹی اور بہت چھوٹی صنعتوں کو قرض کی فراہمی میں 23 فیصد اور بڑی صنعتوں کو دیے جانے والے قرض میں 14.9 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ خدمات کے شعبے میں بھی قرض کی فراہمی میں مضبوط اضافہ دیکھا گیا اور یہ سالانہ بنیاد پر 24.3 فیصد رہا۔ جہاز رانی کے شعبے کو دیے جانے والے قرض میں 25.6 فیصد، جبکہ کمپیوٹر سافٹ ویئر خدمات کے شعبے میں 41.8 فیصد اضافہ ہوا۔ وزارتِ خزانہ کو توقع ہے کہ مالی سال 2026-27 کے باقی مہینوں میں بھی بینکوں کے قرض دینے کی یہی رفتار برقرار رہے گی۔
جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال کے بقیہ حصے میں بھی بینک قرض میں اضافے کا یہ رجحان جاری رہنے کی امید ہے۔ رپورٹ میں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے مالی سال 2026-27 کی دوسری سہ ماہی کے تازہ ترین بینک قرض سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بینکوں نے معیشت کے مختلف شعبوں میں قرض کی مانگ بڑھنے کی اطلاع دی ہے۔ قرض کی مانگ سے متعلق خالص ردعمل کا اشاریہ گزشتہ سہ ماہی کے 32.1 سے بڑھ کر 46.7 ہو گیا ہے۔ بینکوں کو یہ بھی توقع ہے کہ تیسری سہ ماہی میں قرض کی مانگ مضبوط رہے گی۔ اس سلسلے میں توقعات کا خالص ردعمل 43.3 درج کیا گیا ہے۔