پنجاب میں پرالی جلانے کے 2,347 واقعات، 40.37 لاکھ روپے جرمانہ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 05-11-2026
پنجاب میں پرالی جلانے کے 2,347 واقعات، 40.37 لاکھ روپے جرمانہ
پنجاب میں پرالی جلانے کے 2,347 واقعات، 40.37 لاکھ روپے جرمانہ

 



پٹیالہ: پنجاب میں دھان کی کٹائی کا موسم جاری رہنے کے دوران کھیتوں میں پرالی جلانے کے واقعات انتظامیہ کے لیے بدستور ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ پنجاب پولیوشن کنٹرول بورڈ (پی پی سی بی) کی 4 نومبر 2026 تک کی رپورٹ کے مطابق ریاست میں پرالی جلانے کے مجموعی طور پر 2,347 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ان معاملات میں محکمہ نے ماحولیاتی جرمانے کے طور پر 40.37 لاکھ روپے عائد کیے ہیں، جن میں سے اب تک 23.05 لاکھ روپے وصول کیے جاچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ریاست میں پرالی جلانے کے واقعات کے سلسلے میں 1,942 کھیتوں کا معائنہ کیا گیا، جن میں 868 مقامات پر آگ لگانے کی تصدیق ہوئی۔ اس کے علاوہ 801 معاملات میں ماحولیاتی معاوضہ عائد کیا گیا ہے۔

انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے 647 ایف آئی آر درج کی ہیں، جبکہ 723 معاملات میں محکمہ مال کے ریکارڈ میں ’ریڈ انٹری‘ کی گئی ہے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے 689 انتباہی نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ترن تارن ضلع میں پرالی جلانے کے سب سے زیادہ 558 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد فیروزپور میں 316، امرتسر میں 207، بھٹنڈہ میں 167 اور سنگرور میں 163 واقعات سامنے آئے ہیں۔ اعداد و شمار سے واضح ہے کہ ریاست کے کئی اضلاع میں پرالی جلانے کا مسئلہ اب بھی برقرار ہے۔ پٹیالہ ضلع میں اب تک پرالی جلانے کے 110 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ محکمہ نے 67 مقامات کا معائنہ کیا، جن میں 24 مقامات پر آگ لگانے کی تصدیق ہوئی۔

ان میں سے 15 معاملات میں ماحولیاتی معاوضہ عائد کیا گیا۔ مجموعی طور پر 80,000 روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جس میں سے 35,000 روپے وصول کیے جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ پرالی جلانے کے سلسلے میں 21 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور 10 معاملات میں محکمہ مال کے ریکارڈ میں ’ریڈ انٹری‘ کی گئی ہے۔ ضلع میں 25 انتباہی نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔ پی پی سی بی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں دھان کی مجموعی 32.87 لاکھ ہیکٹر اراضی میں سے 85.10 فیصد رقبے پر فصل کی کٹائی مکمل ہوچکی ہے۔ اس کے باوجود کھیتوں میں پرالی جلانے کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔

محکمہ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے معائنے، جرمانے، ایف آئی آر اور دیگر کارروائیاں کی جارہی ہیں، لیکن کھیتوں میں پرالی جلانے کے واقعات کو مکمل طور پر روکنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ادھر دہلی کے ماحولیات کے وزیر منجندر سنگھ سرسا نے جمعرات کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کے دھان کی کٹائی سے متعلق دعووں کو چیلنج کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے دھان کی کٹائی اور پرالی جلانے کے بارے میں غلط معلومات دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرالی جلانے کی وجہ سے قومی دارالحکومت کی ہوا کا معیار بری طرح متاثر ہوا ہے۔

شاستری پارک میں واقع انٹیگریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (آئی سی سی سی) میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سرسا نے بھگونت مان کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ خود پنجاب حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 77 فیصد پرالی جلائی جاچکی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’بھگونت مان نے کل ایک پریس کانفرنس میں غلط دعویٰ کیا کہ دھان کی کٹائی ابھی شروع نہیں ہوئی ہے، لیکن ان کی اپنی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 77 فیصد پرالی پہلے ہی جلائی جاچکی ہے۔‘‘ سرسا نے کہا کہ صرف 4 دن میں دہلی کی ہوا کے معیار میں نمایاں گراوٹ آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 30 اکتوبر کو قومی دارالحکومت کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 60 تھا، جو 4 نومبر تک بڑھ کر 377 ہوگیا۔

انہوں نے کہا، ’’30 اکتوبر کو دہلی کا اے کیو آئی 60 تھا، 31 اکتوبر کو یہ بڑھ کر 117 ہوگیا اور 4 نومبر تک 377 تک پہنچ گیا۔ صرف 4 دن میں ایسا کیا ہوگیا کہ دہلی کی ہوا اتنی شدید آلودہ ہوگئی، جسے صاف رکھنے کے لیے دہلی کے لوگوں نے پورا سال محنت کی تھی؟ جب دہلی کی ہوا صاف تھی، اس وقت پنجاب میں پرالی جلانا شروع نہیں ہوا تھا۔‘‘