جے پور۔:ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور نے جمعرات کو راجستھان کے مہاجن فیلڈ فائرنگ رینج کا دورہ کیا اور ہندوستانی فوج اور امریکی فوج کے درمیان جاری مشترکہ فوجی مشق یدھ ابھیاس 2026 کا جائزہ لیا۔سرجیو گور نے ایکس پر اپنے پیغام میں ہندوستانی اور امریکی فوجیوں کو ایک ساتھ تربیت کرتے دیکھنے کو متاثر کن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشق دونوں ممالک کے دفاعی تعاون۔ باہمی اعتماد۔ تیاری۔ باہمی آپریشنل تعاون اور مشترکہ مقاصد کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے مہاجن فیلڈ فائرنگ رینج پہنچنے کے بعد ایکس پر کہا کہ وہ ہندوستان کی جانب سے کسی بھی ملک کے ساتھ کی جانے والی سب سے بڑی دو طرفہ دفاعی مشق یدھ ابھیاس 2026 میں امریکی اور ہندوستانی فوجیوں کو ایک ساتھ تربیت کرتے دیکھنے کے منتظر ہیں۔مشترکہ فوجی مشق یدھ ابھیاس کا 22 واں ایڈیشن 15 ستمبر کو اتراکھنڈ کے آولی فارن ٹریننگ نوڈ میں باضابطہ طور پر شروع ہوا تھا۔ افتتاحی تقریب کی قیادت میجر جنرل امریش گنجن اور امریکی فوج کی 11 ویں ایئر بورن ڈویژن کی پہلی انفنٹری بریگیڈ کامبیٹ ٹیم کے کمانڈر کرنل بینجمن جیک مین نے کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے 600۔600 فوجی اہلکار موجود تھے۔
موجودہ فوجی مشقیں آولی اور راجستھان کے فائرنگ رینج میں بیک وقت جاری ہیں۔ہندوستانی فوج کے ایڈیشنل ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پبلک انفارمیشن کے مطابق مشق کے دوران پہاڑی اور صحرائی علاقوں میں مشترکہ تربیت کے ذریعے دونوں افواج کے درمیان باہمی آپریشنل تعاون کو بہتر بنایا گیا۔ اس میں چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ۔ توپ خانے کی کارروائیاں۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے نظام اور اٹیک ہیلی کاپٹر آپریشنز شامل ہیں۔
ہندوستانی فوج کے مطابق دونوں افواج نے مربوط مشقوں۔ جنگی کارروائیوں کے مشترکہ طریقہ کار اور مختلف فوجی صلاحیتوں کو یکجا کرتے ہوئے تربیت حاصل کی۔مشق کا مقصد مختلف جغرافیائی علاقوں میں تعینات انٹیگریٹڈ بیٹل گروپس کی مشترکہ آپریشنل صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔ اس میں انفنٹری حکمت عملی اور فوجی کارروائیوں کے طریقہ کار میں ہم آہنگی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
وزارت دفاع کے مطابق ٹیکنالوجی کا استعمال بھی مشق کا اہم حصہ ہے۔ مہاجن فیلڈ فائرنگ رینج میں نگرانی اور جاسوسی کے لیے ڈرونز اور خودکار نظاموں کا استعمال کیا جائے گا۔ جدید ہتھیاروں کے نظام کا مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔وزارت دفاع نے بتایا کہ دونوں افواج کے ماہرین ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور کثیر الجہتی جنگی صلاحیتوں میں ہونے والی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
مشق یدھ ابھیاس 2026 دونوں افواج کو مختلف علاقوں اور آپریشنل حالات میں مشترکہ فوجی کارروائیوں کی صلاحیت بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ حکمت عملی۔ تکنیک اور آپریشنل طریقہ کار کے تبادلے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔