نئی دہلی: راجستھان میں غیر قانونی کان کنی روکنے کی کوشش کے دوران ڈمپر کی زد میں آکر ایک فاریسٹ رینجر کی موت کے حالیہ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے بدھ کو کہا کہ ایسے معاملات میں احتیاطی حراست لازمی ہونی چاہیے۔ یہ معاملہ جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس آگسٹین جارج مسیح اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ کے سامنے زیر سماعت ازخود مقدمے ’اِن ری: نیشنل چمبل سینکچری میں غیر قانونی ریت کان کنی اور خطرے سے دوچار آبی حیات کو لاحق خطرہ‘ کے تحت اٹھایا گیا۔
معاملہ عدالت کے سامنے پیش کرنے والے وکیل نے بتایا کہ ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے، جس میں راجستھان میں ایک فاریسٹ افسر کو ڈمپر نے کچل کر ہلاک کر دیا۔ بنچ نے اس معاملے کی سماعت 6 اکتوبر کے لیے مقرر کردی۔ راجستھان کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل سے بنچ نے کہا، ’’جواب کے لیے پوری تیاری کے ساتھ آئیے۔‘‘ سپریم کورٹ نے کہا، ’’ایسے معاملات میں لازمی احتیاطی حراست ہونی چاہیے۔‘‘ حکام نے 22 ستمبر کو بتایا تھا کہ یہ واقعہ پیر کی دیر رات چھوٹی ساڈری کے جنگلاتی علاقے میں پیش آیا۔ فاریسٹ رینجر پرتاپ سنگھ چنڈاوت اور ایک فاریسٹ گارڈ غیر قانونی کان کنی کی اطلاع ملنے کے بعد موقع پر پہنچے تھے۔
حکام کے مطابق سنگھ نے مٹی لے جانے والے ایک ڈمپر کو روکنے کی کوشش کی، جس پر ڈرائیور نے مبینہ طور پر انہیں ٹکر مار دی اور موٹر سائیکل سمیت کئی میٹر تک گھسیٹتا ہوا لے گیا، جس کے بعد وہ فرار ہوگیا۔ زخمی فاریسٹ رینجر کو اسپتال لے جایا گیا اور بعد میں نیمباہیڑا کے ضلعی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں دوران علاج ان کی موت ہوگئی۔ ڈویژنل فاریسٹ افسر سریش چندر اگروال نے بتایا کہ محکمہ جنگلات کو علاقے میں غیر قانونی کان کنی کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد ایک ٹیم کارروائی کے لیے موقع پر بھیجی گئی۔
اس سے قبل 22 جولائی کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ نیشنل چمبل سینکچری اور اس کے آس پاس غیر قانونی ریت کان کنی کی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے والوں کے خلاف احتیاطی حراست کے احکامات جاری کیے جانے چاہئیں۔ عدالت نے کہا تھا کہ ایسے افراد قدرتی وسائل کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کی ہمدردی نہیں ہونی چاہیے۔ نیشنل چمبل سینکچری کو نیشنل چمبل گھڑیال وائلڈ لائف سینکچری بھی کہا جاتا ہے۔ تقریباً 5,400 مربع کلومیٹر پر پھیلا یہ محفوظ علاقہ راجستھان، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش، تین ریاستوں میں واقع ہے۔ یہاں خطرے سے دوچار گھڑیال کے علاوہ سرخ تاج والے چھت دار کچھوے اور خطرے سے دوچار گنگا کی ڈولفن بھی پائی جاتی ہیں۔
چمبل ندی کے کنارے راجستھان، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کے سنگم کے قریب واقع اس سینکچری کو 1978 میں پہلی مرتبہ مدھیہ پردیش میں محفوظ علاقہ قرار دیا گیا تھا۔ اب یہ تینوں ریاستوں کے مشترکہ انتظام میں ایک طویل اور تنگ ماحولیاتی محفوظ علاقے کی شکل میں موجود ہے۔ 26 مئی کو سپریم کورٹ نے نیشنل چمبل گھڑیال سینکچری کے اندر اور آس پاس بڑے پیمانے پر جاری غیر قانونی ریت کان کنی سے متاثرہ علاقوں میں ماحولیاتی اور قانونی حفاظتی اقدامات کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے لیے متعدد ہدایات جاری کی تھیں۔ عدالت نے تینوں ریاستوں کو اپنے متعلقہ محکمہ جنگلات میں فیلڈ سطح پر نفاذ کرنے والے اہلکاروں کی تعداد فوری طور پر بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کو کہا تھا۔
اس میں خالی عہدوں پر فاریسٹ گارڈز اور دیگر فرنٹ لائن اہلکاروں کی بھرتی بھی شامل تھی۔ سپریم کورٹ نے ریاستوں کو یہ ہدایت بھی دی تھی کہ غیر قانونی کان کنی اور اس کے لیے سامان کی نقل و حمل میں استعمال ہونے والی گاڑیوں اور مشینری کے خلاف متاثرہ علاقوں میں سخت، مسلسل اور مربوط کارروائی کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ غیر قانونی کان کنی اور نقل و حمل میں ملوث گاڑیوں کے صرف ڈرائیوروں کے خلاف ہی نہیں بلکہ مالکان، مالی معاونت کرنے والوں، آپریٹروں، ٹھیکیداروں اور ان تمام افراد کے خلاف بھی مناسب فوجداری کارروائی شروع کی جائے جو متاثرہ علاقوں میں سرگرم منظم غیر قانونی کان کنی کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں، اسے سہولت فراہم کرتے ہیں یا اس سے کسی بھی طرح وابستہ ہیں۔