چنئی: آئی آئی ٹی مدراس کے محققین کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہندوستان میں مالیاتی سائبر جرائم کا شکار ہونے والے افراد میں اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد بھی شامل ہیں۔ یہ تحقیق اس عام تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ سائبر فراڈ کا شکار ہونے والے لوگ عموماً لاپرواہ، مالی معاملات سے ناواقف یا لالچی ہوتے ہیں۔ ادارے کی جانب سے منگل کو جاری ایک بیان کے مطابق، تحقیق میں پایا گیا کہ زیادہ ڈیجیٹل خواندگی بھی لوگوں کو سائبر فراڈ سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھتی۔
سائبر جرائم کے متاثرین میں آئی ٹی پروفیشنلز، بینکرز، ڈاکٹر، مینجمنٹ اور مالیاتی شعبے کے ماہرین، سرکاری شعبے کے افسران اور حتیٰ کہ سائبر سکیورٹی کی سند رکھنے والے افراد بھی شامل تھے۔ تحقیق کے مطابق ہندوستان میں موبائل فون کی تقریباً عام دستیابی، یو پی آئی اور وسیع پیمانے پر چلائی جانے والی ڈیجیٹل انڈیا مہم کے نتیجے میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران کروڑوں لوگ پہلی بار ڈیجیٹل مالیاتی خدمات سے جڑے ہیں۔ اس کے ساتھ سرمایہ کاری اور شیئر مارکیٹ سے متعلق فراڈ، ٹاسک اور ملازمت کے نام پر دھوکہ دہی، ڈیجیٹل ادائیگیوں میں فراڈ، میل ویئر حملوں اور خاص طور پر ہندوستان میں سامنے آنے والے ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ جیسے جرائم کا دائرہ بھی وسیع ہوا ہے۔ ہندوستانی سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (آئی4سی) کے سرکاری اعداد و شمار مالی لین دین سے متعلق جرائم کو ریکارڈ کرتے ہیں، لیکن ان جرائم کے نتیجے میں متاثرین کو پہنچنے والی ذہنی اذیت کی تصویر سامنے نہیں آتی۔
اسی وجہ سے محققین نے سائبر جرائم کے تکنیکی پہلو کے بجائے اس کے انسانی پہلو کو سمجھنے کی کوشش کی۔ محققین نے پایا کہ سائبر ٹھگ اکثر ایسے وقت میں لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں جب وہ بیماری، خاندان میں کسی پریشانی، ریٹائرمنٹ، ملازمت کی تلاش یا کام کی جگہ کے دباؤ جیسے ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، ٹھگوں نے خوف، مالی توقعات اور عزت و وقار سے متعلق خدشات کا فائدہ اٹھا کر متاثرین کو ایسی کیفیت میں پہنچایا جسے محققین نے ’انجینئرڈ برین فریز‘ قرار دیا ہے۔ متاثرین نے اسے ایسی ’ذہنی گرفت‘ کی کیفیت بتایا، جس میں وہ واضح طور پر سوچنے کی صلاحیت کھو بیٹھے تھے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ مالی نقصان چند ہزار روپے سے لے کر ایک کروڑ روپے سے زیادہ تک رہا۔ متاثرین نے شرمندگی، بے خوابی، ڈپریشن اور خاندان کے اندر اعتماد کم ہونے جیسے مسائل کا بھی ذکر کیا۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ مختلف اداروں کا ردعمل یکساں نہیں تھا۔ کچھ بینکوں اور سائبر کرائم یونٹس نے فوری کارروائی کی، جبکہ بعض اداروں میں ضروری تکنیکی صلاحیت اور باہمی رابطے کی کمی پائی گئی۔ یہ تحقیق چنئی، بنگلورو، حیدرآباد، نئی دہلی اور ممبئی کے 33 متاثرین کے انٹرویوز پر مبنی ہے۔ ان میں 22 مرد اور 11 خواتین شامل تھیں، جبکہ 12 متاثرین بزرگ شہری تھے۔
یہ انٹرویوز انگریزی، ہندی اور تمل زبانوں میں کیے گئے۔ اس تحقیق کو آئی آئی ٹی مدراس کے وادھوانی اسکول آف ڈیٹا سائنس اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی حمایت حاصل تھی۔ وادھوانی اسکول آف ڈیٹا سائنس اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس، آئی آئی ٹی مدراس کے پروفیسر نندن سدرشنم نے کہا، ’’ہمارے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالیاتی سائبر جرم صرف ڈیجیٹل خواندگی کی کمی کا مسئلہ نہیں ہے۔ ٹھگ خوف، ذہنی دباؤ اور جلد بازی جیسی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ڈیجیٹل طور پر تجربہ کار لوگوں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘‘
آئی آئی ٹی مدراس کے ڈیٹا سائنس اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس شعبے اور شعبۂ مطالعاتِ انتظامیہ کے اسسٹنٹ پروفیسر پی. کانداسوامی، جو آئی پی ایس سے ریٹائرڈ ہیں، نے کہا کہ سائبر جرائم سے نمٹنے کا طریقہ متاثرین کو مورد الزام ٹھہرانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جرائم کی ابتدائی شناخت، فوری مداخلت اور بہتر باہمی رابطے کے لیے مضبوط نظام قائم کرنے کے ساتھ ساتھ متاثرین کو بہتر مدد فراہم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔