پاکستان سے دہشت گردی ہوئی تو پہلے سے بڑا حملہ ہوگا: راجناتھ سنگھ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 15-10-2026
پاکستان سے دہشت گردی ہوئی تو پہلے سے بڑا حملہ ہوگا: راجناتھ سنگھ
پاکستان سے دہشت گردی ہوئی تو پہلے سے بڑا حملہ ہوگا: راجناتھ سنگھ

 



نئی دہلی: وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستان کے امن کے عزم کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ امن برقرار رکھنے کے لیے طاقت اور صلاحیت بھی ضروری ہے۔ قومی راجدھانی میں ٹائمز نیٹ ورک کے نیشنل ڈیفنس کانکلیو 2026 سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کی تہذیبی سوچ اور ثقافتی اقدار مکالمے، باہمی میل جول اور پُرامن حل کی راہ دکھاتی ہیں، لیکن امن کی خواہش کا مطلب کمزوری نہیں ہے۔

انہوں نے کہا، ’’امن کی خواہش ہماری تہذیبی سوچ اور ثقافتی اقدار کا لازمی حصہ ہے۔ ہماری ثقافت ہمیں بات چیت، بقائے باہمی اور مسائل کے پُرامن حل کا راستہ دکھاتی ہے۔ لیکن امن کے لیے ہمارے عزم کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ امن برقرار رکھنے کے لیے طاقت اور صلاحیت بھی ضروری ہیں۔‘‘ وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان کی طرف سے مزید دہشت گردانہ سرگرمیاں ہوئیں تو ہندوستان پہلے کی کارروائیوں سے بھی بڑا حملہ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردانہ حملوں کے جواب میں ہندوستان ہمیشہ فیصلہ کن کارروائی کرتا رہا ہے۔ راجناتھ سنگھ نے دہشت گردی کے بڑے واقعات کے بعد ہندوستان کی فوجی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2016 میں اُڑی دہشت گردانہ حملے کے بعد سرجیکل اسٹرائیک کی گئی، 2019 میں پلوامہ حملے کے بعد بالا کوٹ میں فضائی حملے کیے گئے اور گزشتہ سال پہلگام میں شہریوں کے قتل کے بعد آپریشن سندور کے تحت کارروائی کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا، جو دہشت گردی کے خلاف ایک فیصلہ کن ضرب تھی۔ وزیر دفاع نے کہا، ’’جن لوگوں نے دہشت گردی کا راستہ اختیار کیا ہے، وہ اب زیادہ عرصے تک اس راستے پر نہیں چل سکیں گے۔ ہماری مسلح افواج انہیں بہت جلد ختم کر دیتی ہیں۔ 2014 کے بعد سے بیشتر دہشت گردوں کی عمرِ سرگرمی ایک سال سے بھی کم رہ گئی ہے۔ یعنی ہندوستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے ایک سال کے اندر ہماری حفاظتی فورسز بیشتر دہشت گردوں کو ہلاک کر چکی ہوتی ہیں۔‘‘

دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں انفرادی بہادری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کیپٹن اسمت مچھر کی بہادری کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت پر یقین رکھنے والے کسی ایک شخص کا حوصلہ بھی نفرت اور دہشت پھیلانے والوں کے ارادوں پر بھاری پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’انسانیت پر یقین رکھنے والے کسی ایک شخص کی بہادری، نفرت سے بھرے کسی دہشت گرد کے ارادوں سے زیادہ طاقتور ہو سکتی ہے۔ کیپٹن اسمت مچھر کی بہادری اس یقین کو مضبوط کرتی ہے کہ دہشت کی طاقت چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، انسانیت کے لیے وقف شخص کا عزم اسے شکست دے سکتا ہے۔‘‘

راجناتھ سنگھ نے کہا، ’’یاد کیجیے، 2019 میں جب پلوامہ میں دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا تو ہماری مسلح افواج نے بالا کوٹ میں فضائی حملے کیے تھے۔ اسی طرح گزشتہ سال جب پہلگام میں دہشت گردوں نے بے گناہ شہریوں کو قتل کیا تو ہم نے آپریشن سندور کے ذریعے پاکستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا۔ ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب ہماری مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف اس کے مرکز پر فیصلہ کن ضرب لگائی۔‘‘ وزیر دفاع نے کہا کہ جب بھی دہشت گردوں نے ہندوستان کی سرزمین کو خون سے رنگنے کی کوشش کی، ملک نے انہیں منہ توڑ جواب دیا۔

انہوں نے 2016 کے اُڑی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد ہندوستانی فوج کے بہادر جوانوں نے سرجیکل اسٹرائیک کرکے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو پوری طرح تباہ کر دیا تھا۔ راجناتھ سنگھ نے ایک بار پھر خبردار کیا، ’’اگر پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کی کوئی اور سرگرمی ہوئی تو اس بار پہلے سے بھی بڑا حملہ کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے بارہ برسوں میں ہندوستان کی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور قومی سلامتی کے معاملے میں ملک کے نقطۂ نظر میں بھی بڑی تبدیلی آئی ہے۔

وزیر دفاع کے مطابق، وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں کی گئی اصلاحات، کام کرنے کے طریقوں میں تبدیلی اور سوچ کے نئے انداز نے ہندوستان کو اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے معاملے میں زیادہ پراعتماد بنایا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہندوستان کے نئے اعتماد کے پیچھے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں کی گئی اصلاحات، کام کرنے کے طریقوں میں تبدیلی اور سوچ میں آنے والی تبدیلی ہے۔ گزشتہ ساڑھے بارہ برسوں میں نہ صرف ہمارے دفاعی شعبے کی صلاحیت بڑھی ہے بلکہ قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے ہمارے نقطۂ نظر میں بھی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اب ہماری توجہ صرف موجودہ ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ ہم ایک خود کفیل اور مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھ کر دفاعی نظام قائم کرنے کی سمت آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘