ڈیجیٹل ڈیٹا پروٹیکشن قانون میں صحافت کو چھوٹ نہ ملی تو نیوز روم بند ہو جائیں گے

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 27-10-2026
ڈیجیٹل ڈیٹا پروٹیکشن قانون میں صحافت کو چھوٹ نہ ملی تو نیوز روم بند ہو جائیں گے
ڈیجیٹل ڈیٹا پروٹیکشن قانون میں صحافت کو چھوٹ نہ ملی تو نیوز روم بند ہو جائیں گے

 



نئی دہلی: ڈیجیٹل نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن (ڈی این پی اے) نے منگل کے روز سپریم کورٹ سے کہا کہ اگر ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن (ڈی پی ڈی پی) قانون اور اس کے قواعد کے تحت صحافیوں کو خبریں شائع کرنے سے پہلے متعلقہ افراد سے اجازت لینی پڑی تو نیوز روم بند ہو جائیں گے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ صحافتی سرگرمیوں کو اس قانون سے چھوٹ نہ ملنے کی صورت میں خبر جمع کرنے اور اسے شائع کرنے کے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے ڈی این پی اے کی عرضی اور اس کے دلائل کا نوٹس لیا۔

عدالت نے مرکزی وزارت قانون و انصاف اور وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (مائٹی) کو نوٹس جاری کیا۔ اس تنظیم میں 21 ڈیجیٹل نیوز پبلشرز شامل ہیں، جن میں امبانی اور اڈانی گروپ کی ملکیت والی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ عدالت نے معاملے کی مزید سماعت 17 نومبر کو پہلے سے زیر التوا دیگر معاملات کے ساتھ مقرر کی ہے۔ سماعت کے آغاز میں ڈی این پی اے کی جانب سے پیش ہونے والی سینئر وکیل مادھوی دیوان نے عدالت سے عبوری روک لگانے کی درخواست پر بھی غور کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ صحافتی سرگرمیوں کو قانون سے چھوٹ نہ ملنے کے باعث خبر جمع کرنے اور رپورٹنگ کے طریقے بنیادی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔

مادھوی دیوان نے کہا کہ یہ روایتی میڈیا کی جانب سے دائر کی گئی شاید پہلی جامع عرضی ہے۔ شہری صحافت پر پہلے بھی بحث ہوتی رہی ہے، لیکن ڈی این پی اے روایتی اور پرانے میڈیا اداروں کی نمائندگی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صحافیوں کو کسی شخص کے بارے میں معلومات شائع کرنے سے پہلے اس کی اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا تو اس سے نیوز روم کے کام کاج پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، صحافتی سرگرمیوں کو چھوٹ نہ دینا پریس پر پیشگی سنسرشپ کے مترادف ہوگا، جس کے خبریں شائع کرنے پر سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ سینئر وکیل نے کہا، ’’اگر ہمیں خبر شائع کرنے سے پہلے اجازت لینی پڑے تو نیوز روم بند ہو جائیں گے۔ یہ مکمل طور پر پیشگی سنسرشپ کا نظام ہے۔ اگر ہم آپ کے بارے میں رپورٹنگ کریں تو کیا ہمیں آپ سے اجازت لینی ہوگی؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ ورنہ خبر کیا رہ جائے گی؟ اگر ہم کوئی غلط، غیر درست یا بے بنیاد خبر شائع کرتے ہیں تو ہمیں اس کے نتائج بھگتنے چاہئیں۔‘

‘ انہوں نے کہا کہ پہلے کے قوانین میں صحافت کو اس طرح کی پابندیوں سے چھوٹ دی گئی تھی اور سوال اٹھایا کہ اس قانون میں یہ رعایت برقرار کیوں نہیں رکھی گئی۔ ان کے مطابق، قانون کی تفصیلی جانچ سے واضح ہوگا کہ اسے صحافت کے لیے بنایا ہی نہیں گیا تھا، کیونکہ اس کے ابتدائی مسودوں میں صحافت کو مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔ ڈی این پی اے نے اپنی عرضی میں ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور اس کے قواعد کی متعدد دفعات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے انہیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ صحافت کو مخصوص چھوٹ نہ ملنے سے خبروں کی رپورٹنگ میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، تحقیقاتی صحافت متاثر ہو سکتی ہے اور ذرائع کی شناخت خفیہ رکھنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

عرضی میں عدالت سے یہ اعلان کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے کہ ڈی پی ڈی پی قانون 2023 کی دفعہ 44(3) کے ذریعے اطلاعات کے حق (آر ٹی آئی) قانون 2005 کی دفعہ 8(1)(j) میں کی گئی ترمیم آئین کے دائرے سے باہر ہے اور غیر آئینی ہے۔ آر ٹی آئی قانون کی یہ دفعہ سرکاری اداروں کے پاس موجود ذاتی معلومات کے افشا سے متعلق ہے۔ ڈی این پی اے میں نیٹ ورک 18، این ڈی ٹی وی، انڈین ایکسپریس، ٹائمز انٹرنیٹ، دی ہندو، انڈیا ٹوڈے، زی میڈیا، اے بی پی پرائیویٹ لمیٹڈ، ملیالا منورما، ماتربھومی، امر اجالا اور ایناڈو ٹیلی ویژن پرائیویٹ لمیٹڈ سمیت کئی میڈیا ادارے شامل ہیں۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد حکومت کا موقف سنے بغیر قانون پر عبوری روک لگانے سے انکار کر دیا۔ چیف جسٹس نے کہا، ’’دوسرے فریق کو سنے بغیر کوئی روک نہیں لگائی جا سکتی، تاہم عبوری روک کی درخواست پر نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔‘‘

عرضی میں کہا گیا ہے کہ قانون کی متعدد دفعات آئین کے آرٹیکل 14، 19(1)(a)، 19(1)(g) اور 21 کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ یہ دفعات مساوات، تقریر و اظہار کی آزادی، پیشہ اختیار کرنے کے حق اور زندگی و شخصی آزادی کے حقوق کی ضمانت دیتی ہیں۔ ڈی این پی اے کے مطابق، ڈی پی ڈی پی قانون اور اس کے قواعد کے تحت صحافیوں اور خبر رساں اداروں پر ذاتی معلومات کے استعمال سے متعلق نوٹس دینے، رضامندی حاصل کرنے، رضامندی واپس لینے اور ذاتی ڈیٹا مٹانے جیسی ذمہ داریاں عائد ہو سکتی ہیں۔ اس سے تحقیقاتی صحافت پر سنگین پابندیاں لگ سکتی ہیں۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ بدعنوانی، بدانتظامی یا عوامی معاملات میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرنے والے صحافیوں کو بعض اوقات انہی افراد کی ذاتی معلومات حاصل کرکے ان کا تجزیہ کرنا پڑتا ہے جن کے طرز عمل کی وہ جانچ کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں اجازت اور رضامندی سے متعلق پابندیاں صحافت کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

تنظیم نے جسٹس کے ایس پٹاسوامی مقدمے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا، جس میں رازداری کے حق کو بنیادی حق تسلیم کیا گیا تھا۔ عرضی کے مطابق، ڈیٹا پروٹیکشن کا نظام بناتے وقت تقریر و اظہار کی آزادی اور عوام کے جاننے کے حق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ قانونی چیلنج میں ڈی پی ڈی پی قانون کی دفعہ 44(3) کے علاوہ دفعات 36 اور 37، ڈی پی ڈی پی قواعد کے قاعدہ 23 اور ساتویں شیڈول کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ڈی این پی اے کا بنیادی مطالبہ ہے کہ ذاتی معلومات کے تحفظ کے ساتھ صحافت کی آزادی اور تحقیقاتی رپورٹنگ کے لیے واضح قانونی چھوٹ فراہم کی جائے۔