حیدرآباد جی پی او کا درجہ کم نہ کیا جائے: اویسی

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 26-09-2026
حیدرآباد جی پی او کا درجہ کم نہ کیا جائے: اویسی
حیدرآباد جی پی او کا درجہ کم نہ کیا جائے: اویسی

 



حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے مرکزی وزارت مواصلات سے مطالبہ کیا ہے کہ حیدرآباد جنرل پوسٹ آفس (جی پی او) کا درجہ گروپ ’اے‘ سے کم کرکے گروپ ’بی‘ کرنے اور اسے حیدرآباد سٹی ڈویژن میں ضم کرنے کی تجویز واپس لی جائے۔ اویسی نے وزیر مملکت برائے مواصلات پیمّاسانی چندر شیکھر کو خط لکھ کر حیدرآباد جی پی او کو آزاد گروپ ’اے‘ پوسٹ آفس کے طور پر برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے، یہاں کام کا بوجھ بھی کافی زیادہ ہے اور حیدرآباد کے لوگوں کو ڈاک سے متعلق خدمات فراہم کرنے میں اس کا اہم کردار ہے۔

اویسی نے کہا کہ حیدرآباد جی پی او ایک صدی پرانا ادارہ ہے اور شہر کے ڈاک کے نظام میں مسلسل اہم کردار ادا کرتا آیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ تلنگانہ کا فلٹیلی بیورو بھی اسی جی پی او میں موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ادارے کی انتظامی حیثیت کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اس کی تاریخی اور ادارہ جاتی اہمیت کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ اے آئی ایم آئی ایم صدر نے مرکزی وزیر مواصلات جیوتی رادتیہ سندھیا سے بھی اپیل کی کہ وہ جی پی او کی تاریخی اہمیت، اس کے کام کے حجم اور وہاں فراہم کی جانے والی خدمات کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اس تجویز کا دوبارہ جائزہ لیں۔

انہوں نے مرکز سے حیدرآباد جی پی او کو ایک آزاد گروپ ’اے‘ ادارے کے طور پر برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔ حیدرآباد جی پی او کی انتظامی حیثیت کا معاملہ اس سے پہلے بھی انتظامی اور قانونی تنازع کا موضوع رہ چکا ہے۔ 2021 میں مرکزی انتظامی ٹریبونل کے سامنے ہوئی کارروائی کے دوران ایسے سرکاری ریکارڈ پیش کیے گئے تھے جن میں حیدرآباد جی پی او کا درجہ گروپ ’اے‘ سے گروپ ’بی‘ کرنے کی تجویز کا ذکر تھا۔ یہ تجویز نظرثانی شدہ ضوابط کی بنیاد پر ادارے کے قیام اور عملے سے متعلق جائزے سے منسلک تھی۔

ٹریبونل کے سامنے پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق، محکمہ نے گروپ ’اے‘ کا درجہ برقرار رکھنے کے لیے 11 ہزار پوائنٹس کی ضرورت بتائی تھی، جبکہ اس وقت کے جائزے میں یہ تعداد 7,343 پوائنٹس سامنے آئی تھی۔ اس جائزے میں عملے کی کچھ اضافی اسامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی تھی اور محکمہ نے کچھ ملازمین کو دوسرے ڈاک ڈویژنوں سے منسلک کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم، یہ اعداد و شمار اس وقت کیے گئے سابقہ جائزے سے متعلق ہیں اور ضروری نہیں کہ حیدرآباد جی پی او میں موجودہ کام کے بوجھ یا عملے کی موجودہ صورتحال کی عکاسی کرتے ہوں۔ حیدرآباد جی پی او تاریخی طور پر شہر کے اہم ڈاک خانوں میں شامل رہا ہے اور یہاں ڈاک سے متعلق مختلف خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

روایتی ڈاک کے علاوہ وقت کے ساتھ ڈاک کے نظام میں پارسل سروس، بچت اور مالیاتی خدمات، انشورنس سے متعلق سہولتیں اور شہریوں کے لیے کئی دیگر خدمات بھی شامل ہوئی ہیں۔ اویسی کا کہنا ہے کہ مجوزہ انتظامی تبدیلی کا جائزہ جی پی او کی تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ عوامی خدمات میں اس کے موجودہ کردار کو سامنے رکھتے ہوئے لیا جانا چاہیے۔

انہوں نے وزارت مواصلات سے اپیل کی کہ حتمی فیصلہ لینے سے پہلے جی پی او کا درجہ کم کرنے اور اسے دوسرے ڈویژن میں ضم کرنے کی تجویز پر دوبارہ غور کیا جائے۔ اے آئی ایم آئی ایم صدر نے مرکزی وزیر مواصلات سے یہ بھی اپیل کی کہ حیدرآباد جی پی او کو آزاد گروپ ’اے‘ جی پی او کے طور پر کام کرنے دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ادارے کی تاریخی وراثت، کام کا بوجھ اور حیدرآباد و تلنگانہ کے لوگوں کے لیے اس کی اہمیت اس کے موجودہ درجہ کو برقرار رکھنے کی متقاضی ہے۔