بھوپال: مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کو مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے ضمنی انتخاب میں بلا مقابلہ منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب دو دیگر امیدواروں کے نامزدگی کاغذات مسترد کر دیے گئے۔ جمعرات کو ریاستی اسمبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال نے ریٹرننگ افسر امیش کمار شرما سے ہردیپ پوری کا انتخابی سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔
اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ جگدیش دیوڑا کے علاوہ بی جے پی کے ارکان اسمبلی رامیشور شرما اور بھگوان داس سبنانی بھی موجود تھے۔ جانچ کے دوران کانگریس رہنماؤں اور آزاد امیدواروں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات مسترد کیے جانے کے بعد 3 نومبر کو ریٹرننگ افسر نے پوری کے نامزدگی کاغذات منظور کر لیے تھے۔ دو دیگر امیدواروں راج کمار لوہانی اور کانٹے سیاننا کے نامزدگی کاغذات مسترد ہونے کے بعد میدان میں صرف پوری ہی باقی رہ گئے تھے۔
حکم نامے کے مطابق کانٹے سیاننا کا نامزدگی کاغذ اس لیے مسترد کیا گیا کیونکہ وہ ریاستی اسمبلی کے منتخب ارکان کے 10 فیصد یا 10 منتخب ارکان، جو بھی کم ہو، کے دستخط حاصل کرنے کی لازمی شرط پوری نہیں کر سکے۔ راج کمار لوہانی کا نامزدگی کاغذ اس لیے مسترد ہوا کیونکہ وہ 2 نومبر 2026 کو دوپہر 3 بجے تک لازمی ’فارم 26‘ کا حلف نامہ جمع نہیں کرا سکے۔
نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 5 نومبر کو دوپہر 3 بجے ختم ہو گئی۔ چونکہ میدان میں کوئی دوسرا امیدوار باقی نہیں رہا تھا، اس لیے پوری کو ایوانِ بالا یعنی راجیہ سبھا کے لیے بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا گیا۔ یہ نشست مرکزی وزیر مملکت ایل مروگن کے 14 اکتوبر کو استعفیٰ دینے کے بعد خالی ہوئی تھی۔
ایوانِ بالا میں ان کی مدت اصل طور پر 2 اپریل 2030 کو ختم ہونی تھی۔ ہردیپ سنگھ پوری نے 31 اکتوبر کو بھوپال میں مدھیہ پردیش اسمبلی میں اپنا نامزدگی کاغذ داخل کیا تھا۔ اس موقع پر مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو، نائب وزرائے اعلیٰ راجندر شکلا اور جگدیش دیوڑا، بی جے پی کے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال، ریاستی کابینہ کے وزرا اور پارٹی کے دیگر رہنما موجود تھے۔