عالمی سلامتی کو ٹیکنالوجی، اے آئی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے نئے چیلنجز سے خطرات لاحق: نائب صدر

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 25-09-2026
عالمی سلامتی کو ٹیکنالوجی، اے آئی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے نئے چیلنجز سے خطرات لاحق: نائب صدر
عالمی سلامتی کو ٹیکنالوجی، اے آئی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے نئے چیلنجز سے خطرات لاحق: نائب صدر

 



عالمی سلامتی کو ٹیکنالوجی، اے آئی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے نئے چیلنجز سے خطرات لاحق: نائب صدر

نئی دہلی: نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے جمعہ کو کہا کہ دنیا کا اسٹریٹجک ماحول تیزی سے تبدیل ہورہا ہے اور روایتی سلامتی کے خدشات ٹیکنالوجی، سائبر اسپیس، مصنوعی ذہانت، توانائی کی سلامتی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے نئے چیلنجز کے ساتھ تیزی سے جڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تبدیلیوں کے اثرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ پوری عالمی برادری پر پڑ رہے ہیں۔ نائب صدر نئی دہلی میں نیشنل ڈیفنس کالج کے زیر اہتمام چوتھے انٹرنیشنل اسٹریٹجک انگیجمنٹ پروگرام (آئی این-اسٹیپ) سے خطاب کررہے تھے۔ یہ دو ہفتے پر مشتمل ایگزیکٹو تربیتی پروگرام ہے، جس میں 28 غیر ملکی ممالک کے نمائندوں سمیت مختلف ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔

رادھا کرشنن نے کہا، ’’ہمارے اردگرد کا اسٹریٹجک ماحول تیزی سے تبدیل ہورہا ہے اور روایتی سلامتی کے خدشات ٹیکنالوجی، سائبر اسپیس، مصنوعی ذہانت، توانائی کی سلامتی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں سامنے آنے والے نئے چیلنجز کے ساتھ تیزی سے جڑ رہے ہیں۔‘

‘ انہوں نے کہا کہ ان تبدیلیوں کے اثرات صرف انفرادی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وسیع تر عالمی برادری بھی ان سے متاثر ہوگی۔ غیر ملکی مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ اہم ایجادات اور نئی ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے فائدے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مختلف ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کا فائدہ پوری دنیا کو ملنا چاہیے۔

رادھا کرشنن نے کووڈ-19 وبا کے دوران ہندوستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے نہ صرف اپنے شہریوں کو مفت کووڈ ویکسین فراہم کی بلکہ دوسرے ممالک کو بھی ویکسین فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عالمی کمپنیاں بنیادی طور پر اپنے مفادات کو مدنظر رکھتی ہیں، لیکن نریندر مودی حکومت نے بین الاقوامی سطح پر کروڑوں لوگوں کی مدد کی۔

نائب صدر نے کہا کہ ہندوستان مختلف ممالک میں قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی حالات کے دوران تیزی سے مدد پہنچانے والے اہم ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کسی بھی جگہ لوگوں کو درپیش تکلیف اور مشکلات کو مشترکہ طور پر محسوس کرتے ہوئے ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔