نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ اور امدادِ باہمی امت شاہ نے اتوار کو نئی دہلی کے اندرا گاندھی انڈور اسٹیڈیم میں پرم وندنیہ ماتا بھگوتی دیوی شرما کی صد سالہ یوم پیدائش اور اکھنڈ دیپ کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ تقریبات میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے گائتری پریوار کے عقیدت، قربانی اور لگن کے 100 سالہ سفر پر روشنی ڈالی اور گائتری منتر کی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک چراغ جلانے کے لیے ایک شعلہ کافی ہوتا ہے، لیکن اسے مسلسل 100 سال تک روشن رکھنے کے لیے تین بنیادی خصوصیات ضروری ہیں، یعنی تپسیا، قربانی اور غیر متزلزل عزم۔
امت شاہ نے کہا کہ اکھنڈ جیوتی کے 100 سال مکمل ہونا محض ایک چراغ کو مسلسل روشن رکھنے کی کامیابی نہیں ہے، بلکہ یہ لاکھوں لوگوں کی روحانی ریاضت اور تپسیا کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 100 کا عدد تکمیل کی علامت سمجھا جاتا ہے اور یہ سال ہندوستان کے لیے بھی تکمیل اور حصولیابی کا سال ہے۔ اس تناظر میں اکھنڈ جیوتی کے 100 سال اور ماتا بھگوتی دیوی شرما کی صد سالہ یوم پیدائش کی خصوصی اہمیت ہے۔ اپنے خطاب کی ابتدا کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ یہاں موجود ہر شخص اس مقدس شعلے سے پھیلنے والی روحانی روشنی کو محسوس کر رہا ہے۔
انہوں نے اس موقع کو عقیدت، خدمت اور عزم کا دن قرار دیا۔ ماتا بھگوتی دیوی شرما کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماتا جی نے دوسروں کی زندگیوں کو روشن کرنے کے لیے خود سخت تپسیا کی۔ پنڈت شری رام شرما آچاریہ کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ گرو دیو کا ہندوستانی ثقافت کے لیے بہت بڑا تعاون ہے۔ اسی طرح گائتری منتر کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے میں بھی ان کا کردار غیر معمولی رہا ہے۔ گائتری منتر کو مکمل تبدیلی کا راستہ قرار دیتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ ان کے تجربے کے مطابق اس منتر میں انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کی قوت موجود ہے۔
انہوں نے نوجوانوں میں گائتری منتر کے بارے میں معلومات کی کمی پر تشویش ظاہر کی اور بتایا کہ کئی مواقع پر جب انہوں نے نوجوانوں سے اس منتر کے بارے میں پوچھا تو بہت سے لوگ اس کی اہمیت سے واقف نہیں تھے۔ انہوں نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) کے طلبہ کے ساتھ اپنی ایک ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس موقع پر انہوں نے طلبہ کو گائتری منتر کی اہمیت سمجھائی تھی۔ امت شاہ نے کہا کہ پنڈت شری رام شرما آچاریہ نے وضاحت کی تھی کہ گائتری منتر کے 24 حروف انسانی جسم میں موجود نیک صفات سے متعلق 24 لطیف مراکز سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں۔
اس منتر کے ذریعے ان مراکز کو بیدار اور ہم آہنگ کیا جاتا ہے۔ ان خوبیوں کی نشوونما سے انسان میں دوسروں کی بھلائی کا جذبہ، حوصلہ اور ذہانت پروان چڑھتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ گائتری منتر صرف مذہبی رسومات تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ انفرادی شخصیت کی تعمیر اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا ایک طاقتور ذریعہ بھی ہے۔ امت شاہ نے گائتری پریوار کے 100 سالہ سفر کو قربانی، تپسیا اور روحانی ریاضت کی ایک قابلِ ذکر مثال قرار دیا۔ یہ تقریب گائتری پریوار کی جانب سے ماتا بھگوتی دیوی شرما کی صد سالہ یوم پیدائش، اکھنڈ دیپ کے 100 سال مکمل ہونے اور پنڈت شری رام شرما آچاریہ کے روحانی سفر کے 100 سال پورے ہونے کی مناسبت سے منعقد کی گئی تھی۔