ممبئی: فیڈریشن آف انڈین پائلٹس (ایف آئی پی) کے صدر کیپٹن سی ایس رندھاوا نے جمعرات کو کہا کہ فلائی دبئی کے کاک پٹ میں پیش آنے والا واقعہ کاک پٹ ریسورس مینجمنٹ (سی آر ایم) کی ’’مکمل ناکامی‘‘ کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پائلٹوں کے درمیان ہاتھا پائی کی نوبت کیسے آئی، اس کی تحقیقات ضروری ہیں۔ ان کا یہ بیان فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے۔
دبئی سے تل ابیب جانے والی اس پرواز کو کاک پٹ میں دونوں پائلٹوں کے درمیان مبینہ جھگڑے کے بعد سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ کی طرف موڑ دیا گیا تھا۔ اس واقعے میں ہندوستانی پائلٹ کیپٹن سمیت مچھھر شدید زخمی ہوئے تھے۔ رندھاوا نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’یہ سی آر ایم یعنی کاک پٹ ریسورس مینجمنٹ کی مکمل ناکامی کا معاملہ ہے۔ آخر ایسی صورت حال کیسے پیدا ہوئی کہ دونوں پائلٹوں کے درمیان جسمانی جھگڑا ہوگیا؟ اس معاملے کی تحقیقات ضروری ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’یہ بالکل غلط ہے، کیونکہ ہم پائلٹوں کو کبھی یہ تربیت نہیں دیتے کہ ایسی صورت حال پیدا ہو۔ لیکن ابھی ہمیں معلوم نہیں کہ اصل میں کیا ہوا۔ ایک بات بالکل واضح ہے کہ کاک پٹ ریسورس مینجمنٹ مکمل طور پر ناکام رہی۔ اپنے 50 سال کے تجربے میں میں پہلی بار ایسا واقعہ دیکھ رہا ہوں۔‘‘ کیپٹن سمیت مچھھر کی تعریف کرتے ہوئے رندھاوا نے کہا، ’’انہوں نے بہت بہادری کا مظاہرہ کیا اور بہت اچھا کام کیا۔‘
‘ انہوں نے بتایا کہ مچھھر 2022 تک ایف آئی پی کے رکن رہے اور اسپائس جیٹ میں چیک پائلٹ بھی تھے۔ ان کے بقول، ’’پیشہ ورانہ طور پر وہ اچھے پائلٹ تھے۔‘‘ رندھاوا نے کہا، ’’اگر یہ بات درست ہے کہ پائلٹ نے خودکشی کی کوشش کی اور طیارے کو گرانے کی کوشش کی، اور کیپٹن سمیت نے اسے قابو کرلیا، تو یہ بہت بہادری کا کام ہے اور ہماری نظر میں ہندوستانی پائلٹوں کے لیے باعث فخر ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایف آئی پی کی معلومات کے مطابق طیارے کو کیپٹن سمیت نے لینڈ نہیں کیا۔
ان کے مطابق، ’’جب انہیں طیارے سے باہر نکالا گیا تو وہ زمین پر آکسیجن ماسک کے ساتھ لیٹے ہوئے تھے۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا، ممکن ہے انہوں نے لینڈ کیا ہو، لیکن ہماری معلومات کے مطابق تیسرے پائلٹ نے طیارے کو لینڈ کرایا۔ تحقیقات کے بعد یہ بات واضح ہوجائے گی۔‘‘ رندھاوا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایک پائلٹ ہندوستانی تھا، جبکہ دوسرا پائلٹ عمانی نژاد تھا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں کچھ میڈیا رپورٹس میں پائلٹوں کو روسی اور یوکرینی بتایا گیا، بعد میں دونوں کو اماراتی بتایا گیا، لیکن اب سامنے آیا ہے کہ ایک پائلٹ ہندوستانی اور دوسرا اماراتی پائلٹ تھا جس کا تعلق عمانی نسل سے ہے۔
رندھاوا کے مطابق جب ہنگامی صورت حال پیدا ہوئی تو طیارہ اسرائیل سے تقریباً 250 سے 300 کلومیٹر دور تھا۔ پہلے اسکواک کوڈ 7700 جاری کیا گیا، جو فضائی ٹریفک کنٹرول کو طیارے میں ہنگامی صورت حال کی اطلاع دیتا ہے۔ کچھ دیر بعد اسے 7500 کردیا گیا، جو ہائی جیکنگ کی علامت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ طیارہ تقریباً ڈیڑھ منٹ میں 34 ہزار فٹ کی بلندی سے 17 ہزار فٹ تک نیچے آگیا۔ انہوں نے کہا کہ ریکارڈنگز میں پورے کیبن سے چیخنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ طیارہ تقریباً 12 ہزار سے 14 ہزار فٹ فی منٹ کی رفتار سے نیچے آیا، جو انتہائی تیز رفتار تھی۔
رندھاوا نے کہا کہ اس دوران طیارے کی رفتار مقررہ زیادہ سے زیادہ حد وی ایم او سے بھی تجاوز کرگئی۔ ان کے مطابق اس کے نتیجے میں طیارے کا حساس حصہ رڈّر ٹوٹ گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر طیارہ کچھ دیر مزید اسی رفتار سے چلتا رہتا تو اس کے پر بھی الگ ہوسکتے تھے اور طیارہ تباہ ہوسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پائلٹوں کے درمیان لڑائی میں اتنا خون بہنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جھگڑا صرف ایک یا ڈیڑھ منٹ تک محدود نہیں تھا۔ ان کے مطابق، ’’یہ مسئلہ کاک پٹ کے اندر پانچ سے دس منٹ پہلے سے چل رہا ہوگا۔‘‘
ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رندھاوا نے بتایا کہ ایک خاتون مسافر، جس کی بیٹی کاک پٹ کے قریب واش روم میں تھی، نے مبینہ طور پر کاک پٹ سے زور دار آوازیں اور چیخیں سنیں اور کیبن کریو کو اطلاع دی۔ ان کے مطابق جب عملہ اندر پہنچا تو دونوں پائلٹ خون میں لت پت اور تقریباً بے ہوش تھے۔ دہشت گردی کے امکان کے بارے میں رندھاوا نے کہا کہ اس وقت یہ محض ایک وسیع افواہ ہے۔ ان کے مطابق سعودی حکومت اور سول ایوی ایشن اتھارٹی معاملے کی تحقیقات کررہی ہے اور فی الحال صرف انہیں معلوم ہے کہ اصل میں کیا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ فلائی دبئی اور اسرائیل کو بھی ابھی پوری معلومات نہیں ہیں اور اسرائیل میں بھی دہشت گردانہ حملے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ دہشت گردانہ حملہ ثابت ہوتا ہے تو یہ بھی سوال اٹھے گا کہ آیا متعلقہ پائلٹ کا کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق تھا۔ ان کے مطابق اس صورت میں تحقیقات کا رخ مختلف ہوجائے گا۔ رندھاوا نے کہا کہ اسرائیلی حکومت اس پہلو کو اس لیے بھی دیکھ رہی ہے کیونکہ طیارے میں 7500 ہائی جیکنگ کوڈ درج کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں اس ملک پر اعتماد کرنا چاہیے جو تحقیقات کررہا ہے۔‘‘
ان کے مطابق کاک پٹ وائس ریکارڈر میں پائلٹوں اور ایئر ٹریفک کنٹرول کے درمیان گفتگو ریکارڈ ہوتی ہے، جبکہ فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر طیارے کی نقل و حرکت اور تکنیکی معلومات فراہم کرے گا۔ رندھاوا نے بتایا کہ شمال مغربی سعودی عرب میں واقع تبوک ایئرپورٹ اسرائیل سے تقریباً 200 سے 250 کلومیٹر دور ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک چھوٹا ایئرپورٹ ہے جہاں مسافروں کو عارضی پناہ دی گئی۔ دونوں پائلٹوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ تیسرے پائلٹ نے طیارے کو لینڈ کرایا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت نے تمام مسافروں کا ’’بہت اچھی طرح خیال رکھا‘‘ اور اسرائیل کو اپنے فوجی طیارے بھیجنے کی اجازت نہیں دی۔
ان کے مطابق سعودی اجازت کے بغیر اسرائیلی فوجی طیارے سعودی فضائی حدود میں داخل نہیں ہوسکتے۔ بعد میں مسافروں کو فلائی دبئی کے ایک طیارے کے ذریعے تل ابیب پہنچایا گیا۔ رندھاوا نے ہوائی سفر کی سکیورٹی میں تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایئرلائنز کو طیاروں میں اسکائی مارشل تعینات کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اسرائیل ممکنہ طور پر اسرائیل آنے والی ہر پرواز میں اسکائی مارشل کی موجودگی لازمی کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل ال دنیا کی محفوظ ترین ایئرلائنز میں شمار ہوتی ہے اور اس کی ہر پرواز میں دو سے چار اسکائی مارشل ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ کاک پٹ کے دو دروازے ہوتے ہیں اور وہاں غیر ملکی پائلٹ نہیں ہوتے، جبکہ خلیجی ممالک کی ایئرلائنز میں مختلف قومیتوں کے پائلٹ اور کیبن کریو کام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی صورت حال میں ثقافتی فرق اور سی آر ایم بہت اہم ہوجاتا ہے۔ رندھاوا نے کہا کہ پائلٹوں کے لیے ایک واضح ایس او پی ہونا چاہیے کہ ایسی صورت حال میں پہلا قدم کیا ہوگا۔ ان کے مطابق فی الحال اس حوالے سے کوئی تحریری ایس او پی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پائلٹ جارحانہ رویہ اختیار کرے تو کیبن کریو اور مسافروں کی مدد سے اسے قابو کیا جانا چاہیے، کیونکہ دونوں پائلٹوں کے بے ہوش یا ہلاک ہونے کی صورت میں طیارہ چلانے والا کوئی نہیں بچے گا۔
انہوں نے بتایا کہ خلیجی ممالک نے پائلٹوں کے لیے سائیکومیٹرک ٹیسٹ کا نظام پہلے شروع کیا تھا، جبکہ ڈی جی سی اے نے اب تک اسے ضروری نہیں سمجھا۔ رندھاوا کے مطابق اس واقعے کے بعد ہر پائلٹ کا سائیکومیٹرک ٹیسٹ اور ہر چار یا پانچ سال میں اس کی ذہنی کیفیت کا جائزہ لینا اہم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوا بازی کے شعبے میں ہر حادثے کے بعد کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے اور یہ ایک ’’بہت تکلیف دہ واقعہ‘‘ تھا۔ ان کے مطابق سعودی عرب جلد ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرسکتا ہے۔ ادھر ممبئی میں کیپٹن سمیت مچھھر کے ایک پڑوسی نے بتایا کہ علاقے کے لوگ ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کررہے ہیں اور ان کی صحت سے متعلق معلومات کا انتظار ہے۔
پڑوسی نے کہا، ’’انہوں نے ایسا کام کیا جس سے 180 افراد کی جان بچی۔ ہم ان کی جلد صحت یابی اور جلد واپس آنے کی دعا کررہے ہیں۔ ہم انہیں برسوں سے جانتے ہیں اور ایک قریبی خاندان کی طرح ہیں۔ انہوں نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ ہمیں صرف ان کی حالت کی فکر ہے اور امید ہے کہ جلد ان کے بارے میں معلومات ملیں گی۔‘‘ کیپٹن مچھھر کے سابق پڑوسی ڈاکٹر جینت شاہ نے بھی انہیں باصلاحیت، نرم مزاج اور اچھا انسان قرار دیتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے کہا، ’’سمت مچھھر باصلاحیت، نرم مزاج اور اچھے انسان ہیں۔ دبئی منتقل ہونے سے پہلے وہ تقریباً 10 سے 15 سال تک میرے پڑوسی رہے۔‘‘
ایک اور پڑوسی نے بھی کیپٹن سمیت مچھھر کی حالت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ وہ ٹھیک ہوجائیں۔ ہم ان کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔ وہ پوری عمارت کے سب سے بہادر شخص ہیں۔‘‘ ادھر حکومت ہند کے ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے کیپٹن مچھھر کی اہلیہ اور والدین سے بات کی اور سیکڑوں افراد کی جان بچانے میں ان کی بہادری کو سراہا۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے یہ بھی یقین دلایا کہ ہندوستانی سفارتی مشن کیپٹن مچھھر اور ان کے اہل خانہ کو ہر ممکن مدد فراہم کررہے ہیں۔