نئی دہلی: نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے ہفتہ کو کہا کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، عالمی تجارت میں تبدیلی، تیز رفتار تکنیکی ترقی اور سنگین ہوتے موسمیاتی مسائل کے درمیان ہندوستان کی معاشی مضبوطی کا انحصار لچکدار پالیسی سازی اور تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت پر ہوگا۔ نئی دہلی میں پانچویں کوٹلیہ اکنامک کنکلیو کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ اقتصادی پالیسیاں بناتے وقت پالیسی سازوں کو عالمی حالات میں ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’پالیسی سازوں کو ہمیشہ زمینی حقائق اور صورتحال کو سمجھنا چاہیے۔ یہ بہت اہم ہے۔ ہمیں پالیسی بنانے میں اتنی لچک رکھنی ہوگی کہ خود پالیسی ہی بڑی کامیابی کا سبب بن جائے۔‘‘ تین روزہ کوٹلیہ اکنامک کنکلیو کا آغاز ’’تبدیلی کے دور میں مضبوطی‘‘ کے موضوع کے ساتھ ہوا ہے۔ اس کانفرنس میں عالمی اقتصادی جھٹکوں، عالمی تجارت میں تقسیم، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور ہندوستان کی اقتصادی ترجیحات سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔ رادھا کرشنن نے کہا کہ عالمی اقتصادی ماحول غیر معمولی تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جغرافیائی سیاسی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ عالمی تجارت تبدیل ہورہی ہے۔ ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کررہی ہے اور موسمیاتی چیلنج پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہوتے جارہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ان تبدیلیوں کی مخالفت کرنے کے بجائے خود کو ان کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔
نائب صدر کے مطابق، ’’تبدیلی کے اس دور میں ہندوستان کی مضبوطی تبدیلی کی مزاحمت کرنے سے نہیں بلکہ اعتماد، شمولیت اور اجتماعی کوشش کے جذبے کے ساتھ اسے قبول کرنے سے آئے گی۔‘‘ رادھا کرشنن نے کہا کہ ہندوستان موجودہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے دور میں اقتصادی طور پر مضبوط پوزیشن کے ساتھ داخل ہورہا ہے۔ انہوں نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی کی 7.8 فیصد شرح نمو کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی مضبوطی کا اندازہ صرف مجموعی شرح نمو سے نہیں لگایا جاسکتا، بلکہ اس کے لیے معیشت میں وسیع تر شمولیت بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا، ’’کسی ملک کو صرف جی ڈی پی دیکھ کر مکمل طور پر ترقی یافتہ ملک نہیں کہا جاسکتا۔ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ اس ملک کے معاشرے کے ہر طبقے کو جی ڈی پی سے کتنا فائدہ پہنچ رہا ہے۔‘‘ نائب صدر نے مالی شمولیت، براہ راست فائدہ منتقلی، جی ایس ٹی کے ذریعے معیشت کو باضابطہ بنانے اور خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو ایسی مثالوں کے طور پر پیش کیا جن کے ذریعے معیشت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شمولیت سے اقتصادی مضبوطی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مدت میں ہندوستان کی اقتصادی مضبوطی کا انحصار اس کے تحقیقی نظام کو مضبوط بنانے اور عالمی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانے پر بھی ہوگا۔
رادھا کرشنن نے کہا، ’’طویل مدت میں ہندوستان کی مضبوطی کا انحصار اس کے تحقیقی نظام کی طاقت پر بھی ہوگا۔ اس کے لیے ہندوستانی اور عالمی اداروں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی شراکت داریاں اختراع، کاروباری سرگرمیوں اور تحقیق، تعلیم اور پالیسی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کو فروغ دے سکتی ہیں، خاص طور پر ہندوستان کے آزاد تجارتی معاہدوں کے تناظر میں۔ کوٹلیہ اکنامک کنکلیو 3 سے 5 اکتوبر تک نئی دہلی میں منعقد کیا جارہا ہے۔