نئی دہلی: دہلی پولیس نے بدھ کو کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور انڈیا اتحاد کے دیگر ارکان پارلیمنٹ کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ یہ ایف آئی آر منگل کو الیکشن کمیشن آف انڈیا کے خلاف احتجاج کے دوران مبینہ طور پر بغیر اجازت آکاشوانی بھون کے احاطے میں داخل ہونے کے سلسلے میں درج کی گئی ہے۔
دہلی پولیس کے مطابق انڈیا اتحاد نے پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے صدر دفتر نرواچن سدن تک مارچ کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اس مارچ کے لیے پولیس سے کوئی باضابطہ اجازت نہیں لی گئی تھی اور نہ ہی اجازت دی گئی تھی۔ پولیس نے مظاہرین کو الیکشن کمیشن کے دفتر کے قریب روک دیا، جس کے بعد اپوزیشن کے کئی رہنماؤں اور ارکان پارلیمنٹ نے وہیں دھرنا دے دیا۔
اس کے بعد راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا دیگر رہنماؤں کے ساتھ آکاشوانی بھون کے احاطے میں داخل ہوگئے اور وہاں احتجاج جاری رکھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین سے احاطہ خالی کرنے کے لیے کہا گیا، لیکن انہوں نے مبینہ طور پر وہاں سے جانے سے انکار کردیا۔ مظاہرین کا اصرار تھا کہ جب تک ارکان پارلیمنٹ کے ایک وفد کو الیکشن کمیشن کے حکام سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، وہ وہاں سے نہیں جائیں گے۔
دہلی پولیس کے مطابق حالات کو قابو میں رکھنے اور معاملے کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے پولیس نے مداخلت کی۔ راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر مظاہرین کو احاطے سے باہر نکالا گیا اور حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ منگل کے احتجاج کے دوران تقریباً 260 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں 10 ارکان پارلیمنٹ بھی شامل تھے۔
حراست میں لیے گئے رہنماؤں کو کنگز وے کیمپ میں واقع نیو پولیس لائنز لے جایا گیا، جہاں سے بعد میں انہیں رہا کردیا گیا۔ یہ احتجاج اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق الزامات اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر کیا گیا تھا۔ پولیس نے آکاشوانی بھون کے احاطے میں مبینہ طور پر بغیر اجازت داخل ہونے اور اس کے بعد وہاں احتجاج کرنے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ ایف آئی آر میں کون سی دفعات لگائی گئی ہیں، اس کی مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
دہلی پولیس نے منگل کو بھی لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، کانگریس رہنما پرینکا گاندھی واڈرا اور انڈیا اتحاد کے دیگر رہنماؤں کو آکاشوانی بھون کے احاطے سے حراست میں لیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی امن و امان برقرار رکھنے اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے کی گئی، کیونکہ مظاہرین مبینہ طور پر ’’بغیر اجازت‘‘ احاطے میں داخل ہوئے تھے اور وہاں دھرنا دے رہے تھے۔