نئی دہلی: نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کو آٹھ ہفتے کی مہلت دی ہے تاکہ وہ ماحول کے مختلف حصوں میں پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات، یعنی مائیکرو پلاسٹکس، کے نمونے لینے، انہیں جانچ کے لیے تیار کرنے اور ان کا پتا لگانے کے یکساں طریقے تیار کرنے سے متعلق تازہ پیش رفت رپورٹ پیش کرسکے۔ این جی ٹی کے چیئرپرسن جسٹس پرکاش شریواستو اور ماہر رکن ڈاکٹر افروز احمد پر مشتمل بنچ نے یہ ہدایت ہندوستان میں نمک اور چینی کے مختلف برانڈز میں مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی اور انسانی خون میں ان ذرات کا پتا لگنے سے متعلق میڈیا رپورٹس پر شروع کی گئی کارروائی کی سماعت کے دوران دی۔
ٹریبونل نے سی پی سی بی کی جانب سے پیش رفت رپورٹ داخل کرنے کے لیے مزید وقت دینے کی درخواست منظور کرلی۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 4 فروری 2027 کو ہوگی۔ سی پی سی بی نے 13 اکتوبر کی اپنی رپورٹ میں ٹریبونل کو بتایا کہ سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف پیٹروکیمیکلز انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (سی آئی پی ای ٹی) نے میٹھے پانی اور مٹی میں مائیکرو پلاسٹکس کے نمونے لینے، نمونوں کو جانچ کے لیے تیار کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کے طریقۂ کار کو تیار کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یکساں طریقۂ کار تیار کرنے کے لیے تشکیل دی گئی مشترکہ کمیٹی نے اس سلسلے میں کئی اجلاس کیے ہیں۔
ان میں 9 ستمبر 2026 کو منعقدہ چھٹا اجلاس بھی شامل تھا، جس میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور ماحول کے مختلف حصوں میں مائیکرو پلاسٹکس کی شناخت کے لیے مخصوص طریقۂ کار تیار کرنے پر غور کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز نے ’’ماحول میں موجود مائیکرو پلاسٹکس کے تجزیے کے اصول‘‘ کے عنوان سے معیار آئی ایس 18998:2025 اختیار کیا ہے۔ تاہم، کمیٹی اب تک جانچ کے یکساں طریقۂ کار کو حتمی شکل نہیں دے سکی ہے، کیونکہ اس معیار میں بنیادی رہنما اصول تو دیے گئے ہیں، لیکن ماحول کے مختلف حصوں کے لحاظ سے نمونے لینے، انہیں تیار کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کے تفصیلی طریقے متعین نہیں کیے گئے ہیں۔
سی پی سی بی نے ٹریبونل کو مزید بتایا کہ سی آئی پی ای ٹی کے علاوہ نیشنل سینٹر فار سسٹین ایبل کوسٹل مینجمنٹ (این سی ایس سی ایم) اور کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کے نیشنل انوائرنمنٹل انجینئرنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ایس آئی آر-نیری) نے بھی ماحول کے مختلف نمونوں میں مائیکرو پلاسٹکس کی شناخت کے طریقے تیار کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ مجوزہ تقسیم کے مطابق، این سی ایس سی ایم سمندری پانی، ساحلی علاقوں کی تہہ میں جمع تلچھٹ، گاد اور جانداروں میں مائیکرو پلاسٹکس کی جانچ کے طریقۂ کار پر کام کرے گا، جبکہ سی ایس آئی آر-نیری ہوا میں ان ذرات کی شناخت کے لیے طریقہ تیار کرے گا۔
سی پی سی بی نے بتایا کہ متعلقہ اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے مجوزہ طریقۂ کار کی تفصیلات پر مشتمل تجاویز پیش کریں۔ ان تجاویز کا جائزہ بورڈ کی سائنسی، تکنیکی اور مالیاتی جائزہ کمیٹی لے گی۔ اس کے بعد مفاہمت کی یادداشتوں کے ذریعے متعلقہ اداروں کو کام سونپا جائے گا۔ ان مطالعات کے لیے مالی وسائل سی پی سی بی کے زیر انتظام این جی ٹی ای سی فنڈ سے فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں یکساں طور پر استعمال کیے جانے والے جامع طریقۂ کار کی تیاری کے لیے ضروری ہوگا کہ ماحول کے ہر حصے کے لحاظ سے معیار مقرر کیے جائیں اور مختلف تجربہ گاہوں میں ان طریقوں کی جانچ کرکے ان کی صحت اور قابل اعتماد ہونے کی تصدیق کی جائے۔
اس کے بعد ہی ان طریقوں کو ملک گیر سطح پر نافذ کرنے کی سفارش کی جاسکے گی۔ سی پی سی بی نے پانی، مٹی یا تلچھٹ، ہوا، گاد اور جانداروں میں مائیکرو پلاسٹکس کی شناخت کے یکساں طریقے تیار کرنے اور انہیں حتمی شکل دینے کے لیے تقریباً 12 ماہ کا وقت مانگا ہے۔ ٹریبونل اس معاملے میں 13 اگست 2024 کو شائع ہونے والی ایک خبر، جس کا عنوان تھا ’’مطالعے میں انکشاف: ہندوستان میں نمک اور چینی کے تمام برانڈز میں مائیکرو پلاسٹکس موجود‘‘، سے متعلق درخواست کی سماعت کررہا تھا۔ اس کے علاوہ 29 مارچ 2022 کو میڈیا میں شائع ہونے والی ’’انسانی خون میں مائیکرو پلاسٹکس کی شناخت‘‘ کے عنوان سے رپورٹ کے بعد دائر درخواست سے متعلق کارروائی بھی زیر سماعت ہے۔