نئی دہلی: سابق ججوں اور آئینی عہدوں پر فائز رہ چکے افراد کے ایک گروپ نے سیاسی جماعتوں، میڈیا اور شہریوں سے ہندوستان کے آئینی اداروں کے دفاع کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن، اعلیٰ عدلیہ اور قانونی اداروں کے خلاف جاری مہم پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 7 اکتوبر کو جاری کیے گئے کھلے خط میں دستخط کنندگان نے کہا کہ وہ ’’سابق ججوں اور آئینی عہدوں کے سابق تجربہ کار عہدیداروں‘‘ کی حیثیت سے یہ خط لکھ رہے ہیں اور ان کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق یا وابستگی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی اداروں پر تنقید کرنا جمہوری حق ہے، لیکن الزام لگایا کہ اب آئینی عہدیداروں کو بغیر کسی عدالتی ثبوت کے ’’چور‘‘، ’’کٹھ پتلی‘‘ اور ’’سمجھوتہ شدہ‘‘ قرار دیا جارہا ہے۔
سابق ججوں اور آئینی عہدیداروں نے خاص طور پر ’’ووٹ چوری‘‘ کے الزامات پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزامات عدالت میں ثبوت کے ساتھ پیش کرنے کے بجائے پریس کانفرنسوں میں لگائے جارہے ہیں۔ خط میں کہا گیا کہ جب الیکشن کمیشن نے حلف نامے کے ذریعے دعویٰ ثابت کرنے کو کہا تو ایسا حلف نامہ پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے انتخابی شکست کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر کی جانے والی ’’منتخب تنقید‘‘ پر بھی سوال اٹھایا۔ خط میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ بعض سرگرم کارکنوں کے گروپ مناسب ثبوت کے بغیر عدالتوں میں عرضیاں دائر کرتے ہیں اور جب عدالتی فیصلے ان کے مفاد میں نہیں آتے تو ان فیصلوں پر تنقید شروع کردی جاتی ہے۔
سابق ججوں کے مطابق اس طرح کے حملوں سے عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد کمزور ہونے کا خطرہ ہے۔ انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے بارے میں دستخط کنندگان نے کہا کہ یہ انتخابات سے متعلق آئینی اور قانونی نظام کا حصہ ہے۔ عوامی نمائندگی ایکٹ، 1950 کی دفعہ 21(3) کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو انتخابی فہرستوں میں نظرثانی کا اختیار حاصل ہے اور ماضی میں بھی خصوصی گہری نظرثانی کی جاتی رہی ہے۔
خط کے مطابق اس مشق کا مقصد فوت شدہ افراد کے نام، ایک سے زیادہ مرتبہ درج نام اور رہائش تبدیل کرچکے ووٹروں کے نام درست کرنا ہے، جبکہ اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ تمام اہل شہریوں کے نام انتخابی فہرست میں شامل ہوں۔ دستخط کنندگان نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں نقل مکانی اور شہری آبادی میں اضافے کے باعث انتخابی فہرستوں کی اصلاح ضروری ہوگئی ہے۔ خط میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے ایس آئی آر کو قانونی اور الیکشن کمیشن کے اختیارات کے دائرے میں قرار دیا ہے، جبکہ نوٹس، سماعت، اعتراض اور اپیل جیسے حفاظتی انتظامات بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق یہ عمل آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی آئینی ضرورت کو آگے بڑھاتا ہے۔
انتخابی اداروں کی ساکھ پر مسلسل حملوں کے خلاف خبردار کرتے ہوئے دستخط کنندگان نے کہا کہ جمہوریت کے لیے عوام کا اعتماد بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بار بار شہریوں سے یہ کہنا کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، انتخابی عمل پر اعتماد کو کمزور کرسکتا ہے اور ملک میں بدامنی اور انتہا پسند عناصر کے لیے جگہ پیدا کرسکتا ہے۔ سابق ججوں اور آئینی عہدیداروں نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ انتخابات میں حصہ لیں لیکن انتخابی عمل کی ساکھ کو مجروح نہ کریں اور اپنی شکایات ثبوت کے ساتھ الیکشن کمیشن اور عدالتوں کے سامنے پیش کریں۔ انہوں نے میڈیا سے بھی کہا کہ کسی الزام کو نشر یا شائع کرنے سے پہلے اس کی جانچ اور تصدیق کی جائے، جبکہ آئینی اداروں سے شفاف رہنے اور جائز خدشات کا ازالہ کرنے کی اپیل کی۔