توانائی، قابل تجدید بجلی اور مینوفیکچرنگ ہندوستان کی ترقی کے اہم محرک بن سکتے ہیں: جیفریز

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 25-09-2026
توانائی، قابل تجدید بجلی اور مینوفیکچرنگ ہندوستان کی ترقی کے اہم محرک بن سکتے ہیں: جیفریز
توانائی، قابل تجدید بجلی اور مینوفیکچرنگ ہندوستان کی ترقی کے اہم محرک بن سکتے ہیں: جیفریز

 



نئی دہلی: عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر بڑھتی توجہ کے باوجود ہندوستان کی معیشت میں ترقی کے اپنے مضبوط اور طویل مدتی امکانات موجود ہیں۔ توانائی، بجلی کی بڑھتی ضرورت، قابل تجدید توانائی، مینوفیکچرنگ اور نجی شعبے کی بڑھتی سرمایہ کاری مستقبل میں ہندوستان کی معاشی ترقی کے اہم محرک بن سکتے ہیں۔ یہ بات عالمی مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی جیفریز کی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ جیفریز نے کہا کہ ہندوستان میں زیادہ وقت گزارنے کے بعد اس کا ماننا ہے کہ نجی شعبے میں ملک کے لیے طویل مدتی ترقی کا سب سے مضبوط موقع توانائی کے شعبے میں ہے، خاص طور پر قابل تجدید بجلی اور شمسی توانائی کی توسیع میں۔

رپورٹ میں چین کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر بجلی کے گرڈ کی توسیع اور بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجی میں ترقی نے وہاں بڑے پیمانے پر پیداوار اور کم لاگت کے فوائد پیدا کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجی کی ترقی کے باعث چین میں شمسی بجلی پہلے ہی کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کے مقابلے میں سستی ہوچکی ہے۔ جیفریز کے مطابق اگر ہندوستان میں بھی اسی طرح کا رجحان سامنے آتا ہے اور بجلی کی قیمت میں نمایاں کمی ہوتی ہے تو اس سے ملک کی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کو بڑا فروغ مل سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا، ’’ایسے وقت میں جب اے آئی سے متعلق موجودہ تاثر کے باعث ہندوستان پر توجہ کچھ کم ہوئی ہے، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہندوستان کے پاس ترقی کی اپنی مضبوط ساختی کہانی موجود ہے، جو اس وقت بھی برقرار رہ سکتی ہے جب اے آئی پر موجودہ تقریباً مکمل توجہ کم ہوجائے۔‘‘ رپورٹ نے ہندوستان کی توانائی منتقلی کو وسیع صنعتی ترقی سے بھی جوڑا ہے۔ اس کے مطابق ہندوستان کی مجموعی حتمی توانائی کی طلب میں بجلی کا حصہ 2023 میں 19 فیصد سے بڑھ کر 2035 میں 25 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس اضافے کی ایک وجہ قابل تجدید توانائی میں توسیع کے ساتھ توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی اور بجلی کی طلب کے بہتر انتظام میں پیش رفت ہوگی۔

جیفریز کا کہنا ہے کہ بجلی کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور قابل تجدید توانائی کی توسیع ہندوستان کی طویل مدتی اقتصادی ترقی کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔ رپورٹ میں روایتی مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی ہندوستان کی موجودہ پوزیشن کا ذکر کیا گیا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہندوستان مینوفیکچرنگ کے مقابلے میں خدمات کے شعبے میں زیادہ مضبوط رہا ہے، تاہم جیفریز کے مطابق کئی روایتی صنعتی شعبوں میں ہندوستان عالمی سطح پر چین کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ ان شعبوں میں خام فولاد، سیمنٹ، امونیا، موبائل فون اور سولر ماڈیولز شامل ہیں۔ تاہم رپورٹ نے ہندوستان اور چین کے درمیان پیداوار کے پیمانے میں موجود بڑے فرق کی بھی نشاندہی کی۔

گزشتہ سال چین نے 96.08 کروڑ ٹن خام فولاد اور 170 کروڑ ٹن سیمنٹ تیار کیا، جبکہ ہندوستان کی پیداوار بالترتیب 16.49 کروڑ ٹن خام فولاد اور 47 کروڑ ٹن سیمنٹ رہی۔ رپورٹ میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں حالیہ اضافے کو بھی ہندوستان کی معاشی سرگرمی کا ایک اہم اشارہ قرار دیا گیا ہے۔ دسمبر پر ختم ہونے والی چار سہ ماہیوں میں ہندوستان کی سالانہ بنیاد پر برائے نام مجموعی فکسڈ سرمایہ کاری اور جی ڈی پی کا تناسب 31.4 فیصد تھا، جو جون پر ختم ہونے والی چار سہ ماہیوں میں بڑھ کر 32.4 فیصد ہوگیا۔ مشینری کی درآمد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

یہ درآمد مالی سال 2020-21 میں 29 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 62 ارب ڈالر ہوگئی، جبکہ اگست تک کے 12 ماہ میں یہ 66 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق توانائی، بجلی، قابل تجدید ذرائع، صنعتی پیداوار اور نجی سرمایہ کاری میں یہ تبدیلیاں ہندوستان کی معیشت میں اے آئی سے الگ ایک طویل مدتی ساختی ترقی کی بنیاد فراہم کرسکتی ہیں۔