نئی دہلی: دہلی کے وزیر پرویش ورما نے ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن شفاف اور منصفانہ طریقے سے کام کر رہا ہے اور ووٹرز کو ان کے نام یا دستاویزات میں پائی جانے والی خامیوں سے متعلق جاری کیے گئے نوٹس کا جواب دینے کا پورا موقع دیا جا رہا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے پرویش ورما نے کہا کہ کئی تنظیمیں اور اپوزیشن جماعتیں بار بار ایس آئی آر کے عمل پر سوال اٹھا رہی ہیں، جبکہ ووٹر لسٹ یا دستاویزات میں معلومات نامکمل ہونے کی صورت میں متعلقہ افراد کو نوٹس جاری کرنا ایک معمول کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا، ’’کئی تنظیمیں اور اپوزیشن کی کئی جماعتیں بار بار ایس آئی آر پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن ان تمام لوگوں کو نوٹس جاری کرتا ہے جن کی ووٹر لسٹ یا دستاویزات میں معلومات موجود نہیں ہیں۔ اگر دستاویزات میں کوئی کمی ہے تو ان سے اس بارے میں وضاحت طلب کی جاتی ہے۔ یہ ایک بالکل معمول کا عمل ہے۔‘‘ پرویش ورما نے بتایا کہ ایس آئی آر کے عمل کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ایک عرضی بھی دائر کی گئی ہے اور اس پر سماعت مقرر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی، اپوزیشن اور ان سے وابستہ تنظیمیں بھی اس معاملے پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ ان کے مطابق دہلی میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ وی وی آئی پی افراد کو بھی ایس آئی آر کے تحت نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی ووٹر کو لگتا ہے کہ اس کا نام ایس آئی آر کے عمل میں شامل نہیں کیا جا رہا ہے تو اسے نوٹس کا جواب دینے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ پرویش ورما نے کہا، ’’دہلی میں عام لوگوں اور وی وی آئی پی دونوں کو ایس آئی آر کے نوٹس دیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن شفاف اور منصفانہ طریقے سے کام کر رہا ہے۔ اگر کسی ووٹر کو لگتا ہے کہ اس کا نام ایس آئی آر کے عمل سے باہر رہ گیا ہے تو اسے نوٹس کا جواب دینے کا موقع دیا جاتا ہے۔‘
‘ انہوں نے بتایا کہ جن لوگوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں وہ 30 ستمبر تک الیکٹورل رجسٹریشن افسر (ای آر او) کے سامنے اپنا جواب جمع کرا سکتے ہیں۔ ان جوابات کی جانچ 29 اکتوبر تک کی جائے گی، جبکہ حتمی ووٹر لسٹ 4 نومبر کو جاری کی جائے گی۔ وزیر نے کہا کہ حتمی ووٹر لسٹ جاری ہونے کے بعد بھی اگر کسی شخص کا نام شامل نہیں ہوتا تو وہ مقررہ طریقہ کار کے تحت اعتراض درج کرا سکتا ہے۔ پرویش ورما نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ الیکشن کمیشن کے بارے میں لوگوں میں بداعتمادی پیدا نہ کرے۔
انہوں نے عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں اروند کیجریوال اور سوربھ بھاردواج، کانگریس اور ان سے وابستہ این جی اوز کا نام لیتے ہوئے کہا کہ انہیں لوگوں کو ایسی صورتحال میں نہیں لے جانا چاہیے جہاں ان کا الیکشن کمیشن پر اعتماد ختم ہو جائے۔ انہوں نے ایس آئی آر پر تنقید کرنے والی اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’’آپ باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور لوگوں سے جھوٹ بولتے ہیں۔‘‘ پرویش ورما نے ایک بار پھر کہا کہ الیکشن کمیشن شفاف اور منصفانہ طریقے سے کام کر رہا ہے۔
دریں اثنا، دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر نے اتوار کو جاری ایک وضاحت میں کہا تھا کہ انتخابی فہرستوں کی جاری خصوصی جامع نظرثانی کے دوران بعض ووٹرز کو نوٹس جاری کیے جانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کر دیے جائیں گے۔ سی ای او نے واضح کیا تھا کہ کسی بھی ووٹر کا نام اس وقت تک حذف نہیں کیا جا سکتا جب تک اسے اپنا موقف پیش کرنے کا موقع نہ دیا جائے اور مناسب، واضح اور اپیل کے قابل حکم جاری نہ کیا جائے۔