دہشت گردی کی فنڈنگ کے معاملے میں سری نگر کے 4 مقامات پر ای ڈی کے چھاپے

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 03-11-2026
دہشت گردی کی فنڈنگ کے معاملے میں سری نگر کے 4 مقامات پر ای ڈی کے چھاپے
دہشت گردی کی فنڈنگ کے معاملے میں سری نگر کے 4 مقامات پر ای ڈی کے چھاپے

 



نئی دہلی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منگل کے روز جموں و کشمیر کے سری نگر میں 4 مقامات پر چھاپے مارے۔ یہ کارروائی کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے مبینہ اوور گراؤنڈ ورکر عمر عادل ڈار اور اس کے ساتھیوں سے جڑے دہشت گردی کی فنڈنگ کے ایک معاملے میں کی گئی ہے۔ حکام نے یہ اطلاع دی۔ حکام کے مطابق، مخصوص اطلاعات کی بنیاد پر یہ چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس کارروائی میں پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کے ساتھ قریبی تال میل رکھا جا رہا ہے۔

تحقیق سے واقف حکام نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ ’’یہ تفتیش ان الزامات سے متعلق ہے کہ عمر عادل ڈار کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے اوور گراؤنڈ ورکر (او جی ڈبلیو) کے طور پر کام کر رہا تھا اور تنظیم سے وابستہ سرگرمیوں میں سرگرم طور پر ملوث تھا۔‘‘ ای ڈی کے سری نگر زونل دفتر نے منگل کی صبح سویرے تلاشی کی کارروائی شروع کی۔ یہ قدم کچھ مخصوص اطلاعات اور زیر تفتیش معاملے کے دوران جمع کیے گئے مزید شواہد کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے۔ الزام ہے کہ عمر عادل ڈار کو اس کے ساتھیوں کے ساتھ پہلے بھی اس وقت گرفتار کیا گیا تھا، جب ان کے پاس سے بڑی مقدار میں نقد رقم اور کالعدم تنظیم سے متعلق قابل اعتراض لٹریچر برآمد ہوا تھا۔

تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ عمر عادل ڈار جموں و کشمیر میں علیحدگی پسند اور ہندوستان مخالف سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں پہلے بھی تقریباً 4 سال جیل میں رہ چکا ہے۔ حکام نے بتایا کہ موجودہ چھاپوں کا مقصد مبینہ جرائم سے حاصل ہونے والی رقم کا سراغ لگانا، مالیاتی نیٹ ورک اور فنڈنگ کے ذرائع کی شناخت کرنا، سرحد پار بیٹھے ہینڈلروں سے ان کے روابط کا پتہ لگانا اور دہشت گردی کی مبینہ مالی معاونت سے متعلق مزید شواہد جمع کرنا ہے۔

اس سے پہلے 30 اکتوبر کو شوپیاں پولیس نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں دہشت گردی کی فنڈنگ کے ایک نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے 10 مبینہ دہشت گرد معاونین کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ کارروائی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے جڑے مشتبہ مالیاتی نیٹ ورک کی تحقیقات کے بعد کی گئی تھی۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق، ملزمان مبینہ طور پر عام لوگوں سے خفیہ طریقے سے رقم جمع کر رہے تھے اور لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) اور دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کی سرگرمیوں میں مدد پہنچانے کے لیے اس رقم کو پہلے سے قائم مالیاتی نیٹ ورک کے ذریعے آگے بھیج رہے تھے۔