نئی دہلی: چیف اکنامک ایڈوائزر (سی ای اے) وی اننتھا ناگیشورن نے کہا ہے کہ ہندوستان کی اقتصادی ترقی اسی وقت حقیقی اور بامعنی تبدیلی میں تبدیل ہو سکتی ہے جب اس کے فوائد کارکنوں اور کمپنیوں کے درمیان منصفانہ طور پر تقسیم ہوں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف یا منصفانہ حصہ داری کسی پر احسان نہیں بلکہ صحت مند اور پائیدار مارکیٹ اکانومی کے لیے ضروری شرط ہے۔ یہ بات ناگیشورن نے یہاں اے آئی ایم اے کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا، ’’ترقی ملک کو اسی وقت بدلتی ہے جب اس کا فائدہ ایمانداری کے ساتھ ان لوگوں کے درمیان تقسیم ہو جو کام کرتے ہیں اور ان لوگوں کے درمیان جو سرمایہ لگاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ منصفانہ حصہ داری کی بحث کو کارکنوں اور کاروباری اداروں کے درمیان انتخاب کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق دونوں ایک ہی اقتصادی نظام کا حصہ ہیں۔ سرمایہ لگانے والوں کو مناسب منافع حاصل کرنے کا حق ہے، لیکن کارکنوں کو بھی اپنے کام سے پیدا ہونے والی خوشحالی میں بامعنی حصہ ملنا چاہیے۔ ناگیشورن نے کہا کہ منصفانہ رویہ کسی قسم کی خیرات نہیں ہے۔
ایک پائیدار مارکیٹ اس وقت قائم رہ سکتی ہے جب صارفین کے پاس اتنی قوتِ خرید ہو کہ وہ کاروباری اداروں کی تیار کردہ اشیا اور خدمات خرید سکیں۔ ان کے بقول، ’’ایک صحت مند مارکیٹ کو ایسے صارفین کی ضرورت ہوتی ہے جو خریداری کی استطاعت رکھتے ہوں اور آخرکار یہ صارفین کسی نہ کسی ادارے کے کارکن ہی ہوتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سرمایہ مناسب منافع کا مستحق ہے، لیکن اس منافع کو حاصل کرنے کا ایک درست طریقہ بھی ہے اور ایسا طریقہ بھی جو آخرکار خود کاروبار کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر اجرتوں کو کم رکھا جائے، سپلائرز کو ادائیگی میں تاخیر کی جائے اور اس فرق کو منافع کے طور پر اپنے پاس رکھا جائے تو یہ طرزِ عمل طویل مدت میں نقصان دہ ہوگا۔
یہ نظام اس وقت تک چل سکتا ہے جب تک صارفین کی بچت ختم نہیں ہو جاتی۔ ان کے مطابق منافع حاصل کرنے کا بہتر راستہ حقیقی لاگت کو کم کرنا ہے اور اس سلسلے میں حکومتوں کی بھی ذمہ داری ہے۔ حکومت کے کردار پر بات کرتے ہوئے ناگیشورن نے کہا کہ حکومت کو سستی بجلی، مناسب قیمت پر زمین اور کاروباری اداروں کے لیے آسان ضابطے فراہم کرنے چاہئیں تاکہ کاروبار کرنے کی لاگت کم ہو سکے۔
انہوں نے کہا، ’’کاروبار کی لاگت کم کرنا روزگار پیدا کرنے کے لیے حکومتوں کے کام کا بنیادی حصہ ہے۔ حکومتیں خود مستقل روزگار پیدا نہیں کرتیں۔ وہ صرف اقتصادی سرگرمیوں کے لیے ماحول کو آسان بنا سکتی ہیں اور یہی سرگرمیاں، جو کاروباری ادارے انجام دیتے ہیں، روزگار پیدا کرتی ہیں۔‘‘ چیف اکنامک ایڈوائزر نے کہا کہ ہندوستان کے سامنے اب صرف تیز اقتصادی ترقی کا چیلنج نہیں ہے، بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ ترقی بہتر ملازمتوں، زیادہ اجرت اور عام ہندوستانیوں کے لیے زیادہ اقتصادی تحفظ میں تبدیل ہو۔
انہوں نے کہا کہ اب ملک کو اقتصادی ترقی کو ’’تبدیلی‘‘ میں بدلنے پر توجہ دینی چاہیے۔ 6.5 سے 7 فیصد کی درمیانی مدت کی ترقی کی توقع ناگیشورن کے مطابق ہندوستان کی اقتصادی ترقی کے امکانات کے بارے میں اب بڑی حد تک اتفاق پایا جاتا ہے اور محتاط اندازے بھی درمیانی مدت میں سالانہ تقریباً 6.5 سے 7 فیصد ترقی کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران سے پیدا ہونے والی مشکلات کے باوجود ہندوستانی معیشت نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 7.8 فیصد کی شرح سے ترقی کی۔
انہوں نے ترقی اور حقیقی تبدیلی کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی ترقی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر سال معیشت کتنی بڑی ہوئی، جبکہ تبدیلی کا تعلق اس بات سے ہے کہ اس ترقی کی نوعیت کیا ہے، اس کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے، کتنے کارکن غیر محفوظ روزگار سے نکل کر پیداواری اور مستحکم ملازمتوں میں جا رہے ہیں اور کیا عام خاندانوں کے معیارِ زندگی میں واقعی بہتری آ رہی ہے۔
انہوں نے جون 2024 میں حکومت کی واپسی کے بعد کیے گئے مختلف اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ ان میں روزگار پر توجہ دینے والا پہلا بجٹ، غیر ملکی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے لیے تجارتی معاہدے، کاروباری ضابطوں کو کم کرنے کی کوششیں، مالیاتی استحکام، بینکنگ شعبے کی مضبوط مالی حالت اور قرض تک بہتر رسائی شامل ہیں۔
ناگیشورن نے کہا، ’’ترقی اس وقت حقیقی تبدیلی بنتی ہے جب وہ منصفانہ ہو۔‘‘ ان کے مطابق منصفانہ حصہ داری کو صرف اخلاقی اصول کے طور پر نہیں بلکہ ایک سادہ حساب کے طور پر بھی سمجھنا چاہیے کہ پیدا ہونے والی دولت میں سے کس کو کتنا حصہ مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی مسابقتی معیشتیں ضروری نہیں کہ وہی ہوں جہاں کارکنوں کو سب سے کم اجرت دی جاتی ہو، بلکہ زیادہ مسابقتی معیشتیں وہ ہیں جو کارکنوں کی پیداواری صلاحیت بڑھاتی ہیں، سپلائرز کو مضبوط بناتی ہیں اور دونوں کو اس قدر میں حصہ لینے کا موقع دیتی ہیں جس کی تخلیق میں وہ اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔