نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز ایک مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا، جس میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کو ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ قومی دارالحکومت کے رہائشیوں کو اپنے احتجاجی مظاہروں کے سبب مبینہ طور پر ہونے والی پریشانی اور خلل کے معاوضے کے طور پر عبوری طور پر 50 کروڑ روپے جمع کرے۔ عدالت نے عرضی گزار سے کہا کہ وہ اس معاملے میں راحت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرے۔
قائم مقام چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے اور جسٹس سنجے شرما پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کہا کہ اسی نوعیت کے معاملات پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر غور ہیں۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بھی ہائی کورٹ کو بتایا کہ اس طرح کے معاملات سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ عدالتی نظم و ضبط کا تقاضا ہے کہ ایسی صورت حال میں وہ کارروائی سے گریز کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اسے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کرنا چاہیے جو سپریم کورٹ کے احکامات سے متصادم ہو۔ بنچ نے کہا، ’’عدالتی نظم و ضبط کا تقاضا ہے کہ ایسی صورت حال میں یہ عدالت کارروائی سے اپنے ہاتھ روک لے اور ایسے احکامات جاری نہ کرے جو متضاد ہوں۔‘‘ اس کے بعد عدالت نے وکیل راکیش کمار سینی کی جانب سے دائر مفاد عامہ کی عرضی نمٹا دی اور انہیں مطلوبہ راحت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔
عرضی میں سینی نے مطالبہ کیا تھا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کو عبوری طور پر 50 کروڑ روپے جمع کرنے کا حکم دیا جائے، تاکہ پارٹی کے احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے دہلی کے رہائشیوں کو مبینہ طور پر ہونے والی پریشانی اور ہراسانی کے معاوضے کی ادائیگی کی جا سکے۔ عرضی میں متاثرہ شہریوں کے دعوؤں کا جائزہ لینے اور معاوضے کی رقم طے کرنے کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔
عرضی گزار نے الزام لگایا کہ احتجاجی مظاہروں سے معمولات زندگی متاثر ہوئے اور تاجروں، سفر کرنے والوں، دفتروں میں کام کرنے والے افراد اور اسکول جانے والے بچوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ عرضی گزار نے متعلقہ حکام کو مناسب معاوضے کی ادائیگی کے لیے کارروائی شروع کرنے اور متاثرہ افراد کو فوری راحت فراہم کرنے کے لیے ایک فنڈ قائم کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔