نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کو دو الگ الگ عرضیوں پر منگل کو سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ پہلی عرضی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) نے دائر کی ہے، جس میں 10 اور 11 اکتوبر کو دہلی میں ہونے والے احتجاج کے دوران وکلا اور عدالتوں کے کام میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ دوسری عرضی سینئر وکیل گوپال شنکرنارائنن نے عدالت کے سامنے پیش کی، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ کچھ شرپسند عناصر پولیس کی کارروائی کے بغیر وکلا، نوجوانوں اور دیگر مظاہرین پر کھلے عام حملے کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ حکام کی جانب سے احتجاج کے دوران عائد پابندیوں کے باوجود عدالتوں کے کام کاج اور وکلا کی آمد و رفت میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ تاہم، دوسری عرضی کا ذکر کیے جانے پر بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ سپریم کورٹ کو سیاسی لڑائی کا میدان نہیں بننے دیا جائے گا۔ سینئر وکیل گوپال شنکرنارائنن نے عدالت سے اپیل کی کہ ان مبینہ شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے جو ان کے مطابق مظاہرین اور وکلا پر حملے کر رہے ہیں، لیکن پولیس ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے ایسی ویڈیوز پر بھی تشویش ظاہر کی جن میں مبینہ طور پر حملہ آوروں کو تشدد کرتے ہوئے اور اپنے ان اعمال کی ویڈیوز بنا کر فخر کے ساتھ پیش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ شنکرنارائنن نے عدالت میں کہا، ’’نجی شرپسند عناصر کو روکا نہیں جا رہا ہے۔ وہ ویڈیوز بنا رہے ہیں اور فخر سے بتا رہے ہیں کہ انہوں نے کیا کیا ہے۔ میں حیران ہوں۔ میں نے کبھی کسی سینئر وکیل کو سڑکوں پر گھسیٹے جاتے نہیں دیکھا۔ ایک وقت ایسا آئے گا جب بنچ کو وکلا اور نوجوانوں کے تحفظ کے لیے آگے آنا پڑے گا۔‘
‘ انہوں نے دفعہ 163 کے تحت عائد پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’جب ہمارے سینئر وکلا کو سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا ہو تو ایسے وقت میں میں عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ پولیس کو تحمل سے کام لینے کی ہدایت دے۔‘‘ ابتدا میں عدالت نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کو سیاسی کشمکش کا میدان نہیں بننے دے گی۔ تاہم، جب سینئر وکیل نے واضح کیا کہ ان کی عرضی ایک الگ معاملہ ہے، جس میں مبینہ شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، تو عدالت نے اس معاملے کو بھی احتجاج سے متعلق دوسری عرضیوں کے ساتھ منگل کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
دوسری جانب، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اپنی عرضی کا ذکر کرتے ہوئے عدالت سے درخواست کی کہ احتجاج کے دوران پیدا ہونے والی بدنظمی سے وکلا اور عدالتوں کے کام کاج کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہدایات جاری کی جائیں۔ ایس سی بی اے کے صدر اور سینئر وکیل پردیپ رائے نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو وکلا کے کام میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی عدالتوں کے کام کاج میں رکاوٹ ڈالنی چاہیے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ وہ پہلے ہی متعلقہ حکام سے اپیل کر چکے ہیں کہ عدالتوں کے کام اور وکلا کی آمد و رفت میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہونے دی جائے۔ دونوں عرضیوں کا چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ کے سامنے الگ الگ ذکر کیا گیا اور اب ان پر منگل کو سماعت ہوگی۔ یہ پیش رفت احتجاج سے متعلق معاملات پر سپریم کورٹ میں اتوار کو ہونے والی خصوصی سماعت کے بعد سامنے آئی ہے۔
اتوار کی سماعت کے دوران عدالت نے ایک عرضی پر مرکزی حکومت اور دیگر متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا تھا۔ اس عرضی میں الزام لگایا گیا تھا کہ میٹرو، ریلوے اور انٹرنیٹ خدمات پر عائد مکمل پابندی ہٹانے کے عدالتی احکامات کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کی گئی ہے، اس لیے متعلقہ حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ سپریم کورٹ نے ابتدائی طور پر پایا کہ الزامات ایسے ہیں جن پر قانونی کارروائی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اس نے متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کرتے ہوئے انہیں منگل تک اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔