چھ سال تک ملزمان کو گرفتار نہ کرنے پر دہلی پولیس کی عدالت میں سرزنش

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 06-10-2026
چھ سال تک ملزمان کو گرفتار نہ کرنے پر دہلی پولیس کی عدالت میں سرزنش
چھ سال تک ملزمان کو گرفتار نہ کرنے پر دہلی پولیس کی عدالت میں سرزنش

 



نئی دہلی: راؤز ایونیو کمپلیکس کی خصوصی عدالت نے منگل کو دو ملزمان مکیش عرف پونیت اور پردیپ عرف گوری کو چھ سال تک گرفتار نہ کرنے پر دہلی پولیس کی سخت سرزنش کی۔ دونوں کے خلاف مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ (مکوکا) کے تحت مقدمہ درج ہے۔ عدالت نے کہا کہ سخت قانون مکوکا نافذ کیے جانے کے باوجود چھ سال تک ملزمان کو گرفتار نہ کرنا اور اس دوران ان کا قتل اور اقدام قتل سمیت دیگر جرائم میں ملوث رہنا پولیس کے طریقۂ کار پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ عدالت کے مطابق پولیس کا یہ رویہ مکوکا نافذ کرنے کے مقصد ہی کو ناکام بناتا ہے۔ خصوصی عدالت نے کہا کہ اس معاملے کی اطلاع دہلی پولیس کمشنر کو بھی نہیں دی گئی۔

عدالت نے اپنے حکم کی ایک نقل پولیس کمشنر کو بھیجنے کی ہدایت دی تاکہ تحقیقات میں غیر معمولی تاخیر اور ذمہ دار پولیس افسران و تفتیشی افسران کے خلاف مناسب کارروائی کے لیے تفصیلی جانچ کی جا سکے۔ خصوصی جج (مکوکا) گورو راؤ نے 5 اکتوبر کو حکم دیا کہ اگلی سماعت پر پولیس کمشنر کے دفتر سے اس سلسلے میں رپورٹ طلب کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ تفتیش مزید تاخیر کے بغیر جلد از جلد مکمل کی جائے۔ عدالت نے جوائنٹ کمشنر آف پولیس کو بھی اگلی سماعت پر ذاتی طور پر موجود رہنے اور رپورٹ کے ساتھ اپنے تبصرے پیش کرنے کی ہدایت دی۔ قانون کے مطابق مکوکا کے تحت درج مقدمات میں اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) کو تفتیشی افسر مقرر کیا جا سکتا ہے۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل ڈی سی پی لوکیشوران، ایڈیشنل ڈی سی پی روی نندن بی ایم اور ایڈیشنل ڈی سی پی رشی کمار موجود تھے۔ ان کے علاوہ تفتیشی افسر اے سی پی راکیش کمار، اے سی پی ایس کے گور اور ریٹائرڈ اے سی پی وپن کمار بھی عدالت میں موجود رہے۔ اے سی پی وویک بھگت نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھیجی تھی۔ عدالت نے بیرونی شمالی ضلع کے ڈی سی پی کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ عدالت نے اسے ’’بالکل رسمی اور محض آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں عدالت کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا گیا۔

عدالت نے کہا کہ ریکارڈ سے تفتیش میں ہونے والی خامیاں اور غیر معمولی تاخیر بالکل واضح ہے، اس کے باوجود بیرونی شمالی ضلع کے ایڈیشنل ڈی سی پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پولیس اہلکاروں نے اس معاملے میں ’’بہترین کوششیں‘‘ کی ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔ عدالت نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر یہی ایڈیشنل ڈی سی پی کے نزدیک ’’بہترین کوشش‘‘ ہے تو عدالت کے پاس مزید کہنے کو کچھ نہیں۔ عدالت نے کہا کہ ایڈیشنل ڈی سی پی کی جانب سے ’’بہترین کوشش‘‘ کا دعویٰ کسی مذاق سے کم نہیں ہے۔

عدالت نے اس سلسلے میں 11 جولائی 2024 کو دہلی پولیس ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری سرکلر کا بھی حوالہ دیا، جس میں تفتیش جلد مکمل کرنے اور ملزمان کو بروقت گرفتار کرنے کی ہدایت دی گئی تھی تاکہ انہیں مزید جرائم میں ملوث ہونے سے روکا جا سکے۔ عدالت نے کہا کہ اس سرکلر کے باوجود چھ سال گزر گئے، لیکن ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا اور ان سے متعلق تفتیش بھی مکمل نہیں ہوئی۔ اس دوران انہیں مزید جرائم کرنے کا وقت اور موقع ملتا رہا۔ خصوصی جج نے کہا، ’’ایسا لگتا ہے کہ ایڈیشنل ڈی سی پی کا خیال ہے کہ وہ عدالت یا عام لوگوں کے سامنے جواب دہ نہیں ہیں، جبکہ عام لوگوں کو اس پورے عرصے میں جرائم پیشہ گروہ کی سرگرمیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ ایسا لاپرواہ رویہ قطعی ناقابل قبول ہے۔‘‘ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں تعینات تمام تفتیشی افسران میں بظاہر صرف اے سی پی راکیش کمار نے درست سمت میں کوششیں کیں۔

مقدمے کی تفتیش طویل عرصے تک مختلف افسران کے پاس رہی، جبکہ ایف آئی آر کو منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش تقریباً ساڑھے پانچ سال بعد شروع ہوئی۔ عدالت نے کہا کہ شاید ایڈیشنل ڈی سی پی مکوکا کے پیچھے موجود قانون سازوں کے مقصد سے واقف نہیں ہیں۔ مکوکا کو منظم جرائم کے اس خطرے کو روکنے کے لیے بنایا گیا تھا جو معاشرے کے لیے سنگین خطرہ بن چکا تھا۔

عدالت نے مزید کہا کہ مکوکا ایک خصوصی قانون ہے، جس کا مقصد منظم جرائم پیشہ گروہ یا گینگ کی مجرمانہ سرگرمیوں کو روکنا، ان پر قابو پانا اور ان سے نمٹنا ہے۔ لیکن اگر مکوکا کی انتہائی سخت دفعات نافذ کیے جانے کے باوجود ملزمان کو آزاد گھومنے، اپنی مرضی سے قتل سمیت سنگین جرائم کرنے کی اجازت مل جائے تو یہ قانون بنانے کے بنیادی مقصد کو ہی ناکام بنا دیتا ہے۔ عدالت کے مطابق مکیش عرف پونیت کے خلاف مکوکا نافذ کیا گیا تھا اور موجودہ ایف آئی آر 17 ستمبر 2020 کو درج ہوئی تھی۔ اس وقت اس کے خلاف تقریباً 20 ایف آئی آر درج تھیں، جن میں قتل کے دو اور اقدام قتل کا ایک مقدمہ بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ اس کے خلاف لوٹ مار اور ڈکیتی کے مقدمات بھی درج تھے۔