نئی دہلی: دہلی پولیس نے بدھ کو اپوزیشن کے احتجاج کے سلسلے میں تین ایف آئی آر درج کی ہیں، جبکہ معاملے میں مزید مقدمات بھی درج کیے جا رہے ہیں۔ پولیس نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ پولیس کے مطابق درج ایف آئی آر میں پولیس اہلکاروں پر مبینہ حملہ، سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے، دھکا دینے اور ہاتھا پائی کرنے اور پولیس اہلکاروں سے بدسلوکی سمیت مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔ اب تک درج ایف آئی آر کی تفصیلات میں کانگریس رہنماؤں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کے نام بھی شامل ہیں۔
یہ کارروائی بدھ کو اس وقت ہوئی جب خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے لیے جنتر منتر جانے کی کوشش کر رہے انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ کو دہلی پولیس نے روک دیا تھا۔ احتجاج کے دوران حراست میں لیے جانے والے اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ میں راہل گاندھی بھی شامل تھے۔ انہیں بارہ کھمبا روڈ پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ اس دوران وہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے لگائی گئی رکاوٹ کے دروازے کو کھولنے کی کوشش کرتے نظر آئے۔ بعد میں حراست کے دوران انہوں نے میڈیا کی جانب ہاتھ ہلایا اور فتح کا نشان بھی بنایا۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا کو بھی حراست میں لے کر چھترسال اسٹیڈیم پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ پولیس کارروائی کے دوران وہ زمین پر لیٹی ہوئی نظر آئیں۔ بعد میں انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاج کرنے والے ارکان پارلیمنٹ کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا
پولیس گاڑی سے آئین کی ایک نقل لہراتے ہوئے پرینکا گاندھی نے صحافیوں سے کہا، ’’اس ملک میں آئین کی کیا قدر ہے؟ ہم آئین کے لیے اپنی جان تک قربان کر دیں گے۔ ہمارے لیے کوئی قیمت زیادہ نہیں ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس اور انڈیا اتحاد آئین اور جمہوریت کو بچانے کے لیے سڑکوں پر نکلتے رہیں گے، گرفتاریاں دیں گے اور قانونی مقدمات کا سامنا کریں گے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں راہل گاندھی نے کہا، ’’آئین اور جمہوریت کو بچانے کے لیے کانگریس پارٹی اور اپوزیشن ضرورت پڑنے پر جتنی بار بھی سڑکوں پر اترنا پڑے، گرفتاریاں دینا پڑے یا قانونی مقدمات کا سامنا کرنا پڑے، اس کے لیے تیار ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’آمرانہ مودی حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان اتحاد‘‘ بے نقاب ہو چکا ہے اور اب استعفوں اور کارروائی کا وقت ہے۔ ان کے بقول، ’’ایک متکبر حکومت عوام کے جوش و جذبے کے سامنے زیادہ دیر نہیں ٹک سکتی۔‘‘ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ گیانیش کمار کے استعفیٰ دینے تک اپوزیشن کا احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم گیانیش کمار کے استعفیٰ تک احتجاج بند نہیں کریں گے۔ یہ ملک کی سب سے مقدس چیز کے تحفظ کی لڑائی ہے۔ نریندر مودی اور امت شاہ کچھ بھی کر لیں، وہ ہمیں روک نہیں سکتے۔‘
‘ اس سے ایک روز قبل دہلی پولیس نے کانگریس ارکان پارلیمنٹ راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر انڈیا اتحاد کے ارکان کے خلاف آکاشوانی بھون کے احاطے میں مبینہ طور پر بغیر اجازت داخل ہونے کے معاملے میں بھی ایف آئی آر درج کی تھی۔ یہ واقعہ منگل کو الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کے دوران پیش آیا تھا۔ دہلی پولیس کے مطابق انڈیا اتحاد نے پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے صدر دفتر نرواچن سدن تک مارچ کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اس مارچ کے لیے سرکاری اجازت نہیں لی گئی تھی اور نہ ہی اجازت دی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن کے دفتر کے قریب مظاہرین کو روکے جانے کے بعد اپوزیشن کے کئی رہنماؤں اور ارکان پارلیمنٹ نے وہیں دھرنا دے دیا۔ اس کے بعد راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر رہنما آکاشوانی بھون کے احاطے میں داخل ہوگئے اور وہیں احتجاج جاری رکھا۔
پولیس کے مطابق مظاہرین سے احاطہ خالی کرنے کو کہا گیا، لیکن انہوں نے مبینہ طور پر انکار کردیا اور کہا کہ جب تک ارکان پارلیمنٹ کے ایک وفد کو الیکشن کمیشن کے حکام سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، وہ وہاں سے نہیں جائیں گے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے بالآخر کارروائی کی گئی۔ راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر مظاہرین کو احاطے سے باہر نکال کر حراست میں لے لیا گیا۔