دہلی ہائی کورٹ میں ایس ایس ایل سی ڈاٹ ان کی درخواست پر سماعت آج

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 06-11-2026
دہلی ہائی کورٹ میں ایس ایس ایل سی ڈاٹ ان  کی درخواست پر سماعت آج
دہلی ہائی کورٹ میں ایس ایس ایل سی ڈاٹ ان کی درخواست پر سماعت آج

 



نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ جمعہ کو ڈیجیٹل حقوق کی تنظیمSFLC.in کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کرے گی۔ درخواست میں دہلی پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر جاری کیے گئے 2 مواد ہٹانے کے نوٹس کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ان نوٹس کے ذریعے SFLC.in کے ایکس اکاؤنٹ اور اس سے شائع کی گئی بعض پوسٹس کو ہٹانے یا ان تک رسائی محدود کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت دائر درخواست میں 31 اکتوبر اور 2 نومبر 2026 کو جاری کیے گئے مبینہ نوٹس منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

یہ نوٹس مبینہ طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کی دفعہ 79(3)(b) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیئری گائیڈ لائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) رولز 2021 کے ضابطہ 3(1)(d) کے تحت جاری کیے گئے تھے۔ SFLC.in اور اس کی مجاز نمائندہ ممتا ورما نے مرکزی حکومت، دہلی پولیس، اسپیشل کمشنر آف پولیس (کرائم)، وزارت داخلہ اور ایکس کارپ کو اس معاملے میں فریق بنایا ہے۔ درخواست کے مطابق متنازع نوٹس میں SFLC.in کے ایکس ہینڈل @SFLCin اور اس اکاؤنٹ سے شائع کی گئی بعض پوسٹس کے خلاف کارروائی کی درخواست کی گئی تھی۔

درخواست گزاروں نے ان نوٹس کو من مانی، غیر معقول اور غیر متناسب قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ آئین کے آرٹیکل 14، 19(1)(a) اور 21 کے تحت حاصل ان کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ درخواست کے مطابق یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب SFLC.in کو ایک ایسے شخص کی جانب سے قانونی نوٹس موصول ہوا جس نے خود کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی نمائندگی کرنے والا شخص بتایا تھا۔ اس کے بعد تنظیم نے ایکس پر اس قانونی نوٹس کے بارے میں پوسٹ کرتے ہوئے اس کی صداقت پر سوالات اٹھائے۔

اس کے بعد SFLC.in کو ایکس کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے، جن میں بتایا گیا کہ دہلی پولیس کی طرف سے مواد ہٹانے کی درخواستیں کی گئی ہیں۔ مبینہ طور پر ان درخواستوں میں کئی یو آر ایل کی نشاندہی کی گئی تھی، جن میں تنظیم کا مکمل ایکس اکاؤنٹ اور بعض پوسٹس بھی شامل تھیں۔ ان درخواستوں میں مبینہ طور پر ہتک عزت، نفرت انگیز تقریر اور سلامتی یا تحفظ سے متعلق بنیادوں کا حوالہ دیا گیا تھا۔ درخواست کے مطابق 31 اکتوبر کے ایک نوٹس میں مبینہ طور پر 2 یو آر ایل کی نشاندہی کی گئی تھی، جب کہ 2 نومبر کے دوسرے نوٹس میں 42 یو آر ایل شامل تھے۔ ان میں SFLC.in کے ایکس اکاؤنٹ کا یو آر ایل اور اس کی جانب سے شائع کی گئی 4 پوسٹس بھی شامل تھیں۔

درخواست میں پورے ایکس اکاؤنٹ کو مواد ہٹانے کی درخواست میں شامل کیے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے من مانی اور غیر متناسب کارروائی قرار دیا گیا ہے۔ SFLC.in نے مبینہ نوٹس کی صداقت اور قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ایکس کے ذریعے موصول ہونے والی دستاویزات میں اس کارروائی کی بنیاد بننے والے کسی عدالتی حکم، ایف آئی آر یا شکایت کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔ تنظیم نے کہا کہ اس نے دہلی پولیس اور ایکس سے تصدیق اور وضاحت طلب کی کہ آیا یہ نوٹس واقعی پولیس حکام کی جانب سے جاری کیے گئے تھے۔