نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو ان دو عرضیوں پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جن میں احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے کے لیے معیاری ضابطۂ کار (ایس او پی) بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی گزاروں کا دعویٰ ہے کہ حالیہ مظاہروں کے سبب تقریباً 2 ہزار کروڑ روپے کا کاروباری نقصان ہوا اور کناٹ پلیس جیسے اہم تجارتی مراکز تک لوگوں کی رسائی متاثر ہوئی۔ چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ کے سامنے سینئر وکیل سچن پوری نے اس معاملے کا ذکر کرتے ہوئے فوری سماعت کی درخواست کی۔
انہوں نے بتایا کہ ایک عرضی ایک وکیل نے اور دوسری تاجروں کی ایک تنظیم نے دائر کی ہے۔ دونوں عرضیوں میں ایسے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جن سے احتجاجی مظاہروں کے دوران عدالتوں کے کام کاج اور کاروباری سرگرمیوں میں خلل نہ پڑے۔ سچن پوری نے عدالت کو بتایا، ’’حالیہ دنوں میں اس صورت حال کے باعث 2 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ ہم معیاری ضابطۂ کار نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایسا طریقۂ کار ہونا چاہیے جس سے وکلا اور تاجروں کے کام میں رکاوٹ نہ آئے۔ کناٹ پلیس جیسی جگہوں تک پہنچنا بالکل مشکل ہوگیا تھا۔‘
‘ عرضیوں میں احتجاجی مظاہروں کے انعقاد کو منظم کرنے کے لیے ایک ایسا نظام بنانے کی درخواست کی گئی ہے، جس سے احتجاج کے حق کا تحفظ بھی ہو اور عام لوگوں، تاجروں اور وکلا کو کم سے کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ عرضیاں ایسے وقت میں دائر کی گئی ہیں جب قومی دارالحکومت میں احتجاجی مارچ اور مظاہروں کے باعث ٹریفک کی آمدورفت، تجارتی علاقوں تک رسائی اور مختلف اداروں کے معمول کے کام کاج پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ عرضی گزار چاہتے ہیں کہ واضح رہنما اصول بنائے جائیں، تاکہ مظاہروں کے دوران عوامی آمدورفت غیر ضروری طور پر متاثر نہ ہو اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ نہ پڑیں۔
عدالت نے منگل کو اس معاملے کی سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ حال ہی میں نئی دہلی ٹریڈرس ایسوسی ایشن نے عوامی تحفظ اور املاک کو ممکنہ نقصان کے خدشات کے پیش نظر کناٹ پلیس کی مارکیٹیں بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری نے اندازہ لگایا تھا کہ اس صورت حال کے باعث تقریباً 2 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوسکتا ہے۔ تاجروں نے شکایت کی ہے کہ احتجاجی مظاہروں سے دہلی کے کاروباری علاقوں، ٹریفک کی نقل و حرکت اور عوام کی آمدورفت پر اثر پڑتا ہے۔
انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مظاہروں کے لیے مخصوص مقامات طے کیے جائیں، جہاں بڑی تعداد میں لوگوں کے اجتماع کو منظم کیا جاسکے اور کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ عرضیوں میں زور دیا گیا ہے کہ احتجاج کے انعقاد کے لیے واضح ضابطے بنائے جائیں، تاکہ مظاہرے کے حق کو برقرار رکھتے ہوئے عوام، تاجروں اور وکلا کو غیر ضروری پریشانی سے بچایا جاسکے اور عدالتوں سمیت دیگر اداروں کا کام بھی متاثر نہ ہو۔