دفاعی ماہر انیل گور نے دہشت گردی سے متعلق پاکستانی صحافی کو جے شنکر کے جواب کی حمایت کی

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 26-09-2026
دفاعی ماہر انیل گور نے دہشت گردی سے متعلق پاکستانی صحافی کو جے شنکر کے جواب کی حمایت کی
دفاعی ماہر انیل گور نے دہشت گردی سے متعلق پاکستانی صحافی کو جے شنکر کے جواب کی حمایت کی

 



جموں: دفاعی ماہر اور ریٹائرڈ کیپٹن انیل گور نے دہشت گردی سے متعلق سوال کرنے والے پاکستانی صحافی کو وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے جواب کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ’’عالمی فورم پر جھوٹ پھیلاتا ہے۔‘‘ گور نے جمعہ کو اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’دیکھیے پاکستان عالمی فورم پر کس طرح جھوٹ پھیلاتا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ میں خود اعتراف کیا تھا کہ انہیں اپنے دہشت گردوں پر قابو پانا پڑا، ورنہ دہشت گردی پوری دنیا میں پھیل جاتی۔ اس کے باوجود ان کے صحافیوں میں یہ سوال پوچھنے کی جرات ہے کہ ہم اپنے دہشت گردوں پر کب قابو پا رہے ہیں۔‘

‘ انہوں نے پاکستان میں دہشت گرد کیمپوں پر ہندوستانی کارروائی کے دوران مارے گئے دہشت گردوں کی نماز جنازہ اور دیگر رسومات میں پاکستانی حکام کی شرکت پر بھی سوال اٹھایا۔ گور نے کہا، ’’جب ہندوستان نے پاکستان میں موجود تمام دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنایا تو وہاں کون کون موجود تھا؟ ان ہلاک ہونے والے دہشت گردوں اور ان کے اہل خانہ کی نماز جنازہ میں کون شریک ہوا؟ سینئر فوجی افسر اور سینئر سیاست دان۔ ان میں اتنی ہمت نہیں کہ اپنے فیلڈ مارشل منیر یا اپنے وزیر اعظم شہباز شریف سے پوچھ سکیں کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں کیا کہا تھا۔‘‘

گور نے پاکستانی صحافی کو دیے گئے جے شنکر کے جواب کی بھی حمایت کی اور کہا کہ وزیر خارجہ نے سوال کا مناسب جواب دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے وزیر خارجہ نے یہ کہہ کر درست جواب دیا کہ ایک دہشت گرد ملک کو ہم سے اس طرح کے سوال پوچھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب جمعہ کو جے شنکر نے ایک پاکستانی صحافی کی جانب سے دہشت گردی سے متعلق سوال کے ذریعے انہیں زچ کرنے کی کوشش کا سخت جواب دیا تھا۔ جے شنکر نے پاکستانی صحافی کو جواب دیتے ہوئے کہا، ’’ایک دہشت گرد ملک مجھ سے یہ سوال پوچھ رہا ہے۔‘‘ یہ ایک مختصر پریس بریفنگ تھی، جس میں پہلے ہی واضح کردیا گیا تھا کہ وزرا صرف اپنے بیانات دیں گے۔

تاہم پروگرام کے اختتام کے قریب پاکستانی صحافی نے اچانک مداخلت کرتے ہوئے دہشت گردی سے متعلق ایک سوال کیا۔ جے شنکر لائبیریا کی وزیر خارجہ سارا بیسولو نیانتی کے ساتھ جہاز رانی اور ملاحوں کی حفاظت و سلامتی سے متعلق ’’گروپ آف فرینڈز‘‘ کی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر خارجہ اس وقت نیویارک میں ہیں، جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں ہندوستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس دوران ہندوستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی تقریر پر اپنے حقِ جواب کا بھی استعمال کیا۔

اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مشن کی فرسٹ سکریٹری پیتل گہلوت نے جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے نتائج سے خبردار کیا اور ہندوستان اور جموں و کشمیر سے متعلق اسلام آباد کے بیانات کو سختی سے مسترد کردیا۔ جے شنکر ہفتہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کریں گے۔ اپنے دورے کے دوران وہ مختلف کثیر ملکی اور دو طرفہ اجلاسوں میں بھی شرکت کر رہے ہیں۔ ہندوستان مسلسل پاکستان سے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف ’’قابلِ اعتبار کارروائی‘‘ کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں دہشت گردانہ حملے میں 26 شہریوں کی ہلاکت کے بعد ہندوستان نے آپریشن سندور کیا تھا۔

حکومت ہند کے مطابق پہلگام حملے کے بعد دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع میں ہندوستان کی کارروائی کو کئی ممالک کی حمایت حاصل ہوئی۔ اپریل 2025 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پریس بیان سمیت مختلف کثیر ملکی فورمز کی دستاویزات میں بھی پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی گئی تھی۔ ہندوستان کے مطابق پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ سے وابستہ اس کے مبینہ پراکسی گروپ دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کو 18 جولائی 2025 کو امریکی انتظامیہ نے غیر ملکی دہشت گرد تنظیم اور خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔

جولائی 2025 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 پابندیوں کی کمیٹی کی 36ویں مانیٹرنگ رپورٹ میں بھی ٹی آر ایف کے پہلگام دہشت گرد حملے سے تعلق کا ذکر کیا گیا تھا۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں اس کی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان میں پناہ لینے والی متعدد دہشت گرد تنظیموں اور افراد کو بین الاقوامی فہرستوں میں شامل کیا گیا ہے۔ ہندوستان نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو مالی مدد پہنچنے سے روکنے میں خامیوں کی نشاندہی بھی مسلسل کی ہے، جس کے نتیجے میں اس کی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس پر بین الاقوامی نگرانی برقرار رہی ہے۔ پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں تین مرتبہ رکھا گیا، جس میں آخری مدت جون 2018 سے اکتوبر 2022 تک رہی۔