ممبئی: آئی آئی ٹی بمبئی کے طالب علم ساحل واکوڑے کی مبینہ خودکشی کے معاملے میں پولیس نے طلبہ اور ادارے کے عملے سمیت 20 افراد کے بیانات قلمبند کیے ہیں۔ حکام نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔ پولیس ساحل کے موبائل فون سے کال ریکارڈ اور پیغامات حاصل کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق 22 سالہ ساحل، آئی آئی ٹی بمبئی کے شعبۂ انرجی سائنس اینڈ انجینئرنگ کے طالب علم تھے۔ 18 ستمبر کو امتحان ختم ہونے کے بعد وہ سیدھے اپنے ہاسٹل کے کمرے میں چلے گئے۔ شام تقریباً 7 بجے تک جب وہ کمرے سے باہر نہیں آئے تو دروازہ کھولا گیا، جہاں انہیں مردہ پایا گیا۔
پولیس نے جن 20 افراد سے پوچھ گچھ کی ہے، ان میں وہ طلبہ بھی شامل ہیں جو ساحل کے ساتھ امتحان گاہ میں موجود تھے۔ اس کے علاوہ امتحان کے نگران اور آئی آئی ٹی بمبئی کے مختلف انتظامی افسران سے بھی معلومات حاصل کی گئی ہیں۔ تفتیش کاروں کے مطابق ساحل کا موبائل فون پیٹرن لاک سے محفوظ تھا، جس کی وجہ سے پولیس فوری طور پر اس میں موجود کال ریکارڈ اور پیغامات تک رسائی حاصل نہیں کرسکی۔ تاہم فون کی اسکرین پر کئی مسڈ کالز کی اطلاعات دکھائی دے رہی تھیں۔ پولیس اور فرانزک ماہرین فون تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ساحل کی موت کے معاملے میں درج ایف آئی آر میں ذات کی بنیاد پر مبینہ امتیازی سلوک اور خودکشی کے لیے اکسانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں نامزد آئی آئی ٹی بمبئی کے فیکلٹی ممبر سوریہ نارائن ڈولا کو غیر جانب دارانہ تحقیقات میں سہولت کے لیے چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔
ساحل کے والدین رویندر اور سونالی واکوڑے نے جمعرات کو ممبئی کے آزاد میدان میں بھوک ہڑتال شروع کی۔ ان کا الزام ہے کہ ان کے بیٹے کو ادارے میں بار بار ذات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے مبینہ طور پر اسے ذہنی اذیت دینے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثنا، آئی آئی ٹی بمبئی نے اپنے ایک مواصلاتی بیان پر دو مرتبہ معذرت کی ہے۔ ادارے کے پہلے بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ ساحل کی موت اس وقت خودکشی کے نتیجے میں ہوئی جب مبینہ طور پر اسے امتحان کے دوران چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔
کچھ ٹی وی چینلز نے امتحان گاہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی نشر کی، جس میں ساحل کی نقل و حرکت دیکھی جاسکتی ہے۔ فوٹیج کے مطابق ایک پروفیسر نے مبینہ طور پر نقل کرتے ہوئے پکڑے جانے کے بعد ساحل سے بات کی اور انہیں امتحان گاہ سے باہر لے گئے۔ تاہم پولیس کی جانب سے اس معاملے میں ابھی کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق اب تک حاصل کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج اور مختلف افراد کے بیانات کی مدد سے واقعے سے پہلے پیش آنے والے واقعات کی مکمل ترتیب معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔