نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کے روز آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو کو سمندری طوفان مورسُو سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر مرکز کی جانب سے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے بتایا کہ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) اور ریاستی آفات سے نمٹنے والی فورس (ایس ڈی آر ایف) کی ٹیمیں پہلے ہی متاثرہ علاقوں میں راحت اور امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ سے بات کی ہے اور طوفان سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔
انہوں نے لکھا، ’’آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو سے سمندری طوفان مورسُو کے اثرات کے بارے میں بات ہوئی۔ میں نے انہیں مرکز کی جانب سے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں پہلے ہی موقع پر موجود ہیں اور متاثرہ لوگوں کی مدد کر رہی ہیں۔ حکومت ہند پوری مضبوطی کے ساتھ عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔‘‘ امت شاہ نے فون پر وزیر اعلیٰ نائیڈو سے بات چیت کے دوران طوفان سے ہونے والے نقصانات اور اس کے اثرات کی تفصیلات حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ آفات سے نمٹنے والی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں۔
امت شاہ نے مزید کہا، ’’میں نے آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو سے فون پر بات کی اور سمندری طوفان مورسُو کے اثرات کی تفصیلات حاصل کیں۔ میں نے انہیں یقین دلایا کہ مرکزی حکومت ہر طرح کی مدد اور تعاون فراہم کرے گی۔ این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں پہلے ہی متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں اور راحت کے کاموں میں مصروف ہیں۔ حکومت ہند آندھرا پردیش کے عوام کے ساتھ پوری مضبوطی سے کھڑی ہے اور ہر طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔‘‘ ادھر کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بھی منگل کو اعلان کیا کہ ریاست کی امدادی ٹیمیں راحت اور بحالی کے کاموں میں مدد کے لیے آندھرا پردیش روانہ ہو رہی ہیں۔
انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’ہماری ٹیمیں طوفان سے متاثرہ علاقوں میں راحت اور بحالی کے کاموں میں مدد کے لیے آندھرا پردیش جا رہی ہیں۔ کرناٹک کے عوام آندھرا پردیش کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس مشکل وقت میں ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔‘‘ آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے ڈی کے شیوکمار اور کرناٹک کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے لکھا، ’’سمندری طوفان مورسُو کے دوران آندھرا پردیش کے ساتھ کھڑے ہونے پر کرناٹک کے معزز وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور وہاں کے عوام کا تہہ دل سے شکریہ۔ ضرورت کے اس وقت میں آپ کی بروقت مدد کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔‘
‘ دریں اثنا، آندھرا پردیش محکمہ موسمیات کی ڈائریکٹر کے ناگ رتنا نے منگل کو بتایا کہ سمندری طوفان صبح 3 بج کر 30 منٹ سے 5 بج کر 30 منٹ کے درمیان ریاست کے جنوبی ساحل سے ٹکرا گیا۔ گزشتہ 6 گھنٹوں کے دوران طوفان شمال-شمال مغرب کی جانب 8 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھا ہے۔ انہوں نے ماہی گیروں کو 4 نومبر تک سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔ طوفان کے دوران ہوا کے جھکڑوں کی رفتار 100 سے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، جو بڑھ کر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ رہی تھی۔ ڈائریکٹر کے مطابق ساحل سے ٹکرانے کا عمل مکمل ہونے میں مزید 2 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔
طوفان کا مرکز اونگول سے تقریباً 30 کلومیٹر، کاولی سے 50 کلومیٹر، باپٹلا سے 70 کلومیٹر، نیلور سے 100 کلومیٹر اور مچلی پٹنم سے 140 کلومیٹر دور تھا۔ گزشتہ 6 گھنٹوں سے اس کی رفتار 8 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی ہے اور اس کے اونگول کے قریب ساحل عبور کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ریاست کے کرشنا، گنٹور، باپٹلا، پالناڈو، مارکاپورم اور پرکاشم اضلاع کے کئی علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں شدید بارش کے امکان کے پیش نظر لوگوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔