حیدرآباد (تلنگانہ): حیدرآباد سٹی پولیس کے سائبر کرائم تھانے نے ستمبر 2026 میں سائبر جرائم سے متعلق 23 معاملات میں کارروائی کرتے ہوئے 9 ریاستوں سے 35 ملزمان کو گرفتار کیا اور متاثرین کو 88.48 لاکھ روپے واپس دلائے۔ یہ اطلاع جرائم اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے ایڈیشنل کمشنر پولیس ایم سرینواسلو کی جانب سے جاری کردہ پریس نوٹ میں دی گئی ہے۔ پریس نوٹ کے مطابق، ستمبر کے دوران قومی سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل پر متعدد شکایات موصول ہوئیں، جن کی بنیاد پر 83 ایف آئی آر درج کی گئیں۔
گرفتار کیے گئے ملزمان میں سوشل میڈیا کے ذریعے دھوکہ دہی کے 9 معاملات، سرمایہ کاری کے نام پر فراڈ کے 7، ڈیجیٹل گرفتاری کے 6، کاروباری لین دین اور ٹریڈنگ کے نام پر دھوکہ دہی کے 5 اور شناخت کی چوری کے 2 معاملات کے ملزمان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھتہ خوری، ملازمت کے نام پر فراڈ اور کسٹمر کیئر کے نام پر دھوکہ دہی کے ایک ایک معاملے میں بھی گرفتاریاں کی گئیں، جبکہ اشتہارات کے ذریعے دھوکہ دہی کے 3 معاملات بھی سامنے آئے۔
گرفتار ہونے والوں میں تلنگانہ سے 10، آندھرا پردیش سے 9، مہاراشٹر سے 6، کیرالا اور اتر پردیش سے 3، 3 ملزمان شامل ہیں۔ بہار، ہریانہ، راجستھان اور پنجاب سے ایک ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ کارروائی کے دوران پولیس نے 10 موبائل فون، چیک بک کی 7 کتابیں اور ایک فرضی کمپنی کی مہر بھی ضبط کی۔ پریس نوٹ کے مطابق، ان معاملات میں متاثرین کو مجموعی طور پر 17 کروڑ 34 لاکھ 96 ہزار 158 روپے کا نقصان ہوا تھا، جن میں سے 88 لاکھ 48 ہزار 134 روپے واپس دلائے گئے۔
رقم کی واپسی کے معاملے میں ٹریڈنگ کے نام پر دھوکہ دہی سب سے آگے رہی، جس کے متاثرین کو 40 لاکھ 24 ہزار 762 روپے واپس ملے۔ ستمبر کے دوران زونل سائبر سیلوں کو قومی سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل کے ذریعے 2,767 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 381 معاملات میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ ان کارروائیوں کے تحت 10 معاملات میں 11 افراد کو گرفتار کیا گیا اور متاثرین کو 67 لاکھ 54 ہزار 49 روپے واپس دلائے گئے۔ ڈیجیٹل نگرانی اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں کے دوران حیدرآباد سائبر کرائم پولیس نے فیس بک اور انسٹاگرام پر 140 ایسے سوشل میڈیا پروفائلز کی نشاندہی کی، جن کے ذریعے 30 اشتہارات پیسے دے کر چلائے جا رہے تھے۔
ان میں کم عمر بچوں کی ایسی ویڈیوز بھی شامل تھیں جن میں وہ گالی گلوچ، فحش یا نامناسب زبان استعمال کرتے دکھائی دیتے تھے اور ان ویڈیوز سے پیسے کمانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ ان اشتہارات میں پرانے اور نایاب سکوں، ٹریکٹر کے ڈیزائن والے پانچ روپے کے نوٹ، 786 کے سیریل نمبر والے کرنسی نوٹوں، سٹے بازی کے بارے میں گمراہ کن پیش گوئیوں اور جیت کی ضمانت دینے والی اسکیموں کی تشہیر بھی شامل تھی۔ پولیس نے شادی کے رشتے اور انتظامات فراہم کرنے، نجی ویڈیو کال کی سہولت دینے اور ملازمت دلانے کے نام پر چلائے جانے والے مشتبہ اشتہارات کی بھی نشاندہی کی۔
ایسے اشتہارات کے ذریعے لوگوں کو پیشگی رقم ادا کرنے یا اپنی ذاتی، مالی اور شناخت سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر آمادہ کیا جا سکتا تھا۔ پولیس کے مطابق، نشاندہی کیے گئے تمام 140 سوشل میڈیا پروفائلز کی متعلقہ پلیٹ فارموں سے شکایت کی گئی، جس کے بعد انہیں بند کر دیا گیا۔ مجموعی طور پر اب تک آن لائن گیمنگ، غیر قانونی سٹے بازی اور جعلی سرمایہ کاری کی ویب سائٹس کی تشہیر کرنے والے 1,457 سوشل میڈیا پروفائلز اور 2,603 اشتہارات ہٹائے جا چکے ہیں۔ ان سرگرمیوں کو فروغ دینے والوں کے خلاف 9 ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہیں۔
پولیس کی ’سی مترا‘ پہل کے تحت ستمبر میں متاثرین کی رہنمائی اور مدد کے لیے 1,928 فون کالز کی گئیں۔ موصولہ شکایات کی بنیاد پر 307 زیرو ایف آئی آر بھی درج کی گئیں۔ زیرو ایف آئی آر ایسی ابتدائی رپورٹ ہوتی ہے جو کسی بھی پولیس تھانے میں درج کی جا سکتی ہے، چاہے معاملہ اس کے مقررہ دائرۂ اختیار سے باہر کا ہو۔ گانیش وسرجن کے دوران عوامی پریشانی پیدا کرنے، لاپروائی سے کام لینے اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی دیگر سرگرمیوں سے متعلق واقعات کے سلسلے میں پولیس نے 6 ایف آئی آر درج کیں۔
ان معاملات کے ملزمان کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے اور متعلقہ قانونی دفعات کے تحت چارج شیٹ داخل کی جائے گی۔ حیدرآباد سائبر کرائم پولیس نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اعلیٰ سرکاری افسران کے نام سے بنائے گئے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، ٹیلی گرام اور واٹس ایپ پر چلنے والے فرضی سرمایہ کاری گروپوں، نقصان دہ اے پی کے فائلوں اور جعلی ویب لنکس سے ہوشیار رہیں۔ پولیس نے واٹس ایپ پر کسی دوسرے کی تصویر لگا کر دھوکہ دینے، محبت یا تعلقات کا جھانسہ دے کر بلیک میل کرنے اور جنسی نوعیت کی دھمکیوں کے ذریعے رقم وصول کرنے والے گروہوں سے بھی خبردار کیا ہے۔
اس کے علاوہ ڈیجیٹل گرفتاری کے نام پر ہونے والے فراڈ سے بھی محتاط رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ایسے معاملات میں دھوکہ باز خود کو مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی)، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ یا کسٹمز جیسے اداروں کا اہلکار ظاہر کرکے لوگوں کو ڈراتے ہیں اور ان سے رقم وصول کرتے ہیں۔ پولیس نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ رقم منتقل کرنے سے پہلے اس شخص کی شناخت کی تصدیق ضرور کریں جو رقم مانگ رہا ہو۔
نامعلوم فائلیں ڈاؤن لوڈ کرنے اور مشتبہ لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں، نیز ایسی سرمایہ کاری اسکیموں سے محتاط رہیں جو بہت زیادہ منافع کی ضمانت دیتی ہیں۔ سائبر فراڈ کا شکار ہونے والے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فوراً سائبر کرائم ہیلپ لائن نمبر 1930 پر رابطہ کریں یا قومی سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل پر شکایت درج کرائیں۔ پولیس کے مطابق، بروقت شکایت درج کرانے سے دھوکہ دہی کے ذریعے منتقل کی گئی رقم کو منجمد کرنے اور واپس حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔