نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے منگل کو لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آئینی اداروں پر بار بار حملہ کرنے سے نہ تو جمہوریت کو کوئی فائدہ ہوگا اور نہ ہی کانگریس عوام کی حمایت دوبارہ حاصل کر سکے گی۔ ’انڈیا‘ اتحاد کے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کے بعد رجیجو نے راہل گاندھی اور کانگریس سے کہا کہ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کو مسلسل نشانہ بنانے کا ان کا نام نہاد ’’روزانہ کا ڈرامہ‘‘ اب بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو عوام کی خدمت پر توجہ دینی چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد اور انتخابی حمایت حاصل کی جا سکے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے رجیجو نے کہا، ’’کانگریس پارٹی، راہل گاندھی اور ان کے ساتھیوں کا یہ روزانہ کا ڈرامہ اب بند ہونا چاہیے۔ وہ مسلسل الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ ڈرامہ 2014 سے مسلسل جاری ہے۔ آخر یہ کب تک چلے گا؟ جمہوریت میں اگر آپ عوام کی خدمت کرتے ہیں تو عوام آپ کو اپنا مینڈیٹ دیتے ہیں۔ جب آپ مینڈیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو الیکشن کمیشن کو برا بھلا کہتے ہیں۔ جب سپریم کورٹ معافی مانگنے کو کہتی ہے تو آپ سپریم کورٹ پر حملہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کو عدلیہ پر اعتماد نہیں ہے۔ آپ الیکشن کمیشن کو بدعنوان اور حکومت کو بھی بدعنوان قرار دیتے ہیں۔‘
‘ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سیاست سے نہ جمہوریت کو فائدہ ہوگا اور نہ ہی کانگریس دوبارہ مضبوط ہو سکے گی۔ رجیجو نے راہل گاندھی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’میں خاص طور پر راہل گاندھی سے کہنا چاہتا ہوں کہ مودی جی سے سیکھیں۔ بی جے پی کے ان کارکنوں سے سیکھیں جو بے لوث ہو کر مسلسل اپنے لیے نہیں بلکہ سماج اور ملک کے لیے کام کرتے ہیں۔ آپ کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے اور یہ ڈرامہ بند کرنا چاہیے۔ اگر آپ عوام کی خدمت کرتے رہیں گے تو لوگ آپ پر اعتماد کریں گے۔ ڈرامہ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘‘ رجیجو کا یہ بیان راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کے الیکشن کمیشن کے دفتر کی طرف مارچ کے بعد آیا۔
اپوزیشن نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے تقریباً 300 ارکان پارلیمنٹ کو الیکشن کمیشن سے ملاقات کرنے سے روک دیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ منتخب نمائندوں کو انتخابی ادارے سے ملنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی۔ راہل گاندھی نے صحافیوں سے کہا تھا کہ اپوزیشن ’’جمہوریت کو بچانے‘‘ کے لیے الیکشن کمیشن کے دروازے پر پہنچی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کی قیادت والی حکومت اور آئینی اداروں پر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ اس کے جواب میں رجیجو نے حکومت میں کانگریس کے ماضی کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس پارٹی کو کئی دہائیوں تک ملک پر حکومت کرنے کا موقع ملا، وہ آج جمہوری اداروں پر سوال اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’کانگریس پارٹی کو 55 سال تک ملک پر حکومت کرنے کا موقع ملا، جس میں ایمرجنسی کے دو سال بھی شامل ہیں۔
اس دوران ایمرجنسی نافذ کی گئی اور آئین کی تمہید میں بھی تبدیلی کی گئی۔ یہ کانگریس پارٹی کا کردار ہے اور آج وہ جمہوریت کی بات کرتی ہے۔‘‘ رجیجو نے کانگریس سے یہ بھی کہا کہ وہ غیر ملکی عناصر کی جانب سے مبینہ طور پر پھیلائے جانے والے ’’ہندوستان مخالف‘‘ بیانیے کو فروغ نہ دے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے غیر ملکی عناصر ملک کو کمزور کرنے، ہندوستان کے آئینی اداروں کو بدنام کرنے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ہندوستان مخالف بیانیے کو آگے بڑھاتے ہیں، اس لیے کانگریس کو کم از کم ایسے بیانیوں کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ ملک کی سیاست بدل چکی ہے اور صرف کسی سیاسی خاندان سے تعلق رکھنا اب سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ملک وکسِت بھارت کی جانب آگے بڑھ چکا ہے۔ ملک بدل گیا ہے۔ صرف کسی خاص خاندان میں پیدا ہونے سے اب کوئی شخص وزیر اعظم نہیں بن سکتا۔ ملک کے نوجوان بھی بدل چکے ہیں اور نئی سوچ کے ساتھ مودی جی کی قیادت میں 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘ رجیجو نے سوال کیا کہ کانگریس کو الیکشن کمیشن، سپریم کورٹ اور دیگر آئینی اداروں کو بار بار نشانہ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس اپنے لیے باقی رہ جانے والی عوامی حمایت بھی حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے عوام کی خدمت کرنی چاہیے، کیونکہ سوشل میڈیا پر بیانیے بنانے سے کامیابی نہیں ملے گی۔ انہوں نے اپوزیشن میں اپنے کام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود 25 سال اپوزیشن میں رہ کر گاؤں گاؤں پیدل سفر کیا اور عوام کی خدمت کی۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کو سوشل میڈیا مہمات پر انحصار کرنے کے بجائے عوام سے زمینی سطح پر رابطہ مضبوط کرنا چاہیے۔ ادھر الیکشن کمیشن کی طرف اپوزیشن کے مارچ کے دوران دارالحکومت میں کشیدگی بھی دیکھی گئی۔
راہل گاندھی، کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا اور ’انڈیا‘ اتحاد کے دیگر رہنماؤں کو الیکشن کمیشن کے دفتر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے قریب واقع آکاشوانی کمپلیکس میں دھرنا دیا۔ کانگریس کارکنوں نے انتخابی ادارے کے دروازے سے اندر جانے کی کوشش بھی کی، جس کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔ پولیس نے کچھ کانگریس کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ آکاشوانی بھون میں داخل ہوئے، جہاں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا کی دفعہ 163 کے تحت پابندی کے احکامات نافذ تھے۔
راہل گاندھی نے اس سے پہلے کہا تھا کہ جمہوری اداروں کو کمزور کرنے میں مبینہ طور پر ملوث کسی شخص کو نہیں بخشا جائے گا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر مبینہ ’’ووٹ چوری‘‘ میں مدد کرنے کا الزام بھی لگایا تھا۔ رجیجو نے آخر میں کانگریس پر زور دیا کہ وہ آئینی اداروں سے مسلسل ٹکراؤ کے بجائے عوامی خدمت کے ذریعے ووٹروں کا اعتماد حاصل کرنے پر توجہ دے۔ انہوں نے کہا، ’’مودی جی کی قیادت والی ہماری حکومت کو چیلنج کرنا بند کریں۔ ہندوستان کے عوام مضبوطی سے مودی جی اور این ڈی اے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘