کانگریس ملک میں افراتفری پھیلا رہی ہے اور آئینی اداروں پر سوال اٹھا رہی ہے: یوگی آدتیہ ناتھ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 12-10-2026
کانگریس ملک میں افراتفری پھیلا رہی ہے اور آئینی اداروں پر سوال اٹھا رہی ہے: یوگی آدتیہ ناتھ
کانگریس ملک میں افراتفری پھیلا رہی ہے اور آئینی اداروں پر سوال اٹھا رہی ہے: یوگی آدتیہ ناتھ

 



گورکھپور: اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پیر کے روز دہلی میں اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے احتجاج کے درمیان کانگریس پر ملک میں افراتفری پھیلانے اور آئینی اداروں کی ساکھ پر سوال اٹھانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کانگریس کو اپنے طرز عمل اور قیادت میں تبدیلی لانے کا مشورہ بھی دیا۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اپوزیشن کے احتجاج سے عام لوگوں کو پریشانی ہورہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ملک کے آئینی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ یوگی نے کہا، ’’یہ لوگ افراتفری پھیلا کر عام عوام کو پریشان کررہے ہیں۔ وہ ملک کے آئینی اداروں پر سوال اٹھانے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔

حیرت کی بات ہے کہ جب یہ انتخابات جیتتے ہیں تو اسے اپنی قابلیت قرار دیتے ہیں، لیکن جب ہار جاتے ہیں تو ای وی ایم اور الیکشن کمیشن کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔‘‘ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ نے مزید الزام لگایا کہ اس طرح کا طرز عمل کانگریس کی سیاست کا حصہ بن چکا ہے۔ انہوں نے پارٹی سے اپنا رویہ اور قیادت بدلنے کی اپیل کی۔ ان کے مطابق، ’’اس طرح کا طرز عمل کانگریس کی نیت کا حصہ بن چکا ہے۔ اسے اپنے بدعنوان طرز عمل اور ایسی قیادت کو بدلنا چاہیے جس پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا۔ اسے ہندوستان میں افراتفری نہیں پھیلانی چاہیے اور نہ ہی آئینی اداروں پر سوال اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘

‘ یوگی آدتیہ ناتھ نے خبردار کیا کہ عوام اس طرح کی سرگرمیوں کو زیادہ دنوں تک برداشت نہیں کریں گے اور اگر کانگریس نے اپنا یہی رویہ برقرار رکھا تو اسے سیاسی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’عوام اس افراتفری کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی زیادہ دنوں تک اسے برداشت کریں گے۔ اگر وہ اسی طرح کام کرتے رہے تو جو کچھ ان کے پاس باقی بچا ہے، وہ بھی انہیں کھونا پڑے گا۔‘‘ دریں اثنا، اپوزیشن اتحاد کے سپریم کورٹ تک احتجاجی مارچ کے پیش نظر وسطی دہلی میں حفاظتی انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔

مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اور بارہ اکتوبر 2026 کو صبح چھ بجے سے شام چار بجے تک بعض میٹرو اسٹیشنوں کے داخلے اور باہر نکلنے کے دروازے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حفاظتی انتظامات کے تحت پٹیل چوک، جن پتھ، راجیو چوک، منڈی ہاؤس، سینٹرل سیکریٹریٹ اور بارکھمبا روڈ میٹرو اسٹیشنوں کے داخلے اور باہر نکلنے کے دروازے شام چار بجے تک بند رہیں گے۔ بارکھمبا روڈ اور منڈی ہاؤس کے آس پاس دہلی پولیس کے علاوہ ریپڈ ایکشن فورس اور مرکزی ریزرو پولیس فورس کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی اس احتجاجی مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’12 اکتوبر کو ہندوستان ایک ساتھ پُرامن طریقے سے سپریم کورٹ کی طرف مارچ کرے گا۔ طلبہ، شہری سماجی تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں سے اپیل ہے کہ وہ ہماری جمہوریت کے دفاع کے لیے اس میں شامل ہوں۔‘‘ راہل گاندھی نے اعلان کیا تھا کہ اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ 12 اکتوبر کو ایک بار پھر سڑکوں پر اترے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیف جسٹس آف انڈیا کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران، جس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا، دہلی پولیس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں نے طلبہ اور خواتین کے ساتھ تشدد کیا۔ اپوزیشن اسی معاملے کو لے کر الیکشن کمیشن کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھے ہوئے ہے۔