چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر کانگریس کا ملک گیر احتجاج

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 25-09-2026
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر کانگریس کا ملک گیر احتجاج
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر کانگریس کا ملک گیر احتجاج

 



نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفے اور عہدے سے ہٹائے جانے کے مطالبے کو لے کر کانگریس کارکنوں نے جمعہ کو کئی ریاستوں میں احتجاج کیا۔ یہ مظاہرے ملک گیر پروگرام کے تحت کیے گئے، جن کے دوران الیکشن کمیشن کے کام کاج اور ووٹر لسٹوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کو لے کر جاری سیاسی تنازع کے درمیان سی ای سی کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ جموں و کشمیر، آسام، اتراکھنڈ، مغربی بنگال، اتر پردیش، چندی گڑھ اور منی پور سمیت کئی ریاستوں میں کانگریس کارکنوں نے الیکشن کمیشن کے دفاتر کی جانب مارچ کیا اور سی ای سی گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

اتراکھنڈ کے دہرادون میں ریاستی کانگریس کی انچارج کماری سیلجا اور پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر گنیش گوڈیال کی قیادت میں کارکنوں نے پی سی سی دفتر سے ریاستی سیکریٹریٹ میں واقع الیکشن دفتر کی جانب مارچ کیا اور دفتر کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی۔ اتراکھنڈ پی سی سی صدر گنیش گوڈیال نے کہا کہ راہل گاندھی گزشتہ تین برس سے ’’ووٹ چوری‘‘ کے معاملے کو اٹھاتے رہے ہیں اور ان کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن کے ذریعے بی جے پی کی حکومتیں قائم کرائی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس غیر جانب دار اور شفاف انتخابات چاہتی ہے۔

اتراکھنڈ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر یشپال آریہ نے الزام لگایا کہ گزشتہ تین برس سے راہل گاندھی چیف الیکشن کمشنر کے کام کاج اور ایس آئی آر کے دوران ووٹوں کے حذف اور اضافہ جیسے معاملات پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دیگر دو الیکشن کمشنروں نے دس ماہ کے دوران 14 مرتبہ اعتراضات کیے، لیکن چیف الیکشن کمشنر نے انہیں نظر انداز کیا۔ آریہ نے مزید الزام عائد کیا کہ گزشتہ چند برسوں میں 13 کروڑ ووٹ حذف کیے گئے اور مرکزی حکومت نے انتخابی عمل میں مداخلت کی۔ انہوں نے گیانیش کمار کے خلاف کارروائی اور انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ لکھنؤ میں کانگریس کارکن پارٹی کے ریاستی دفتر میں جمع ہوئے اور ایس آئی آر کے خلاف احتجاج کیا۔

پارٹی کی جانب سے حضرت گنج میں واقع ریاستی الیکشن کمیشن کے دفتر کے گھیراؤ کا پروگرام بھی بتایا گیا۔ منی پور میں پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اوکرم ایبوبی سنگھ اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے رہنما کیشم میگھ چندر سنگھ کی قیادت میں کارکنوں نے لمپھیل پٹ میں واقع چیف الیکٹورل آفس کی جانب مارچ کیا۔ مظاہرین نے گیانیش کمار کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے گیانیش کمار کی فوری گرفتاری کے نعرے لگائے اور ان کا پتلا بھی نذر آتش کیا۔ احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے۔

جموں میں بھی کانگریس کے احتجاج کے پیش نظر الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ کانگریس رہنما چودھری لال سنگھ نے کہا کہ ملک بھر میں جہاں جہاں الیکشن کمیشن کے دفاتر موجود ہیں، وہاں احتجاج کیا جارہا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن اور حکومت پر انتخابی عمل میں مبینہ دھاندلی اور عوام کے ووٹ کے حق کے غلط استعمال کا الزام لگایا۔ سری نگر میں کانگریس کے ارکان اسمبلی نے قانون ساز اسمبلی کے اندر احتجاج کیا اور بینر اٹھا کر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔ گوہاٹی، چندی گڑھ، دہرادون، لکھنؤ اور کولکاتا میں بھی کانگریس رہنماؤں اور کارکنوں نے مظاہرے کیے۔ یہ احتجاج آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کی جانب سے دی گئی ملک گیر اپیل کے تحت کیا گیا۔

اے آئی سی سی نے ریاستی یونٹوں سے اپنے اپنے علاقوں میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک مارچ کرنے کو کہا تھا۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے جب انڈین ایکسپریس نے جمعرات کو ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں اور احکامات پر دس ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ اعتراض کیا تھا۔ تاہم الیکشن کمیشن نے ان اعتراضات کو ادارے کے اندر اختلاف رائے کا ثبوت قرار دینے سے انکار کیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ کسی کثیر رکنی آئینی ادارے میں مسودہ تیار کرنے کے دوران عملی سوالات، اندرونی تجاویز اور انتظامی مشورے معمول کے کام کا حصہ ہوتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ایس آئی آر سمیت تمام حتمی فیصلے متفقہ طور پر کیے گئے ہیں۔ دریں اثنا، ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کانگریس نے اشارہ دیا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں گیانیش کمار کے خلاف پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں محاسبے کی تحریک (امپیچمنٹ موشن) لانے پر غور کرسکتی ہیں۔ ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے اندرونی کام کاج سے متعلق یہ تنازع 29 ستمبر کو نئی دہلی میں ہونے والی کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں بھی زیر بحث آنے کی توقع ہے۔