نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ عدالتوں کی براہِ راست نشر ہونے والی کارروائی کی ویڈیوز کا تجارتی استعمال عدلیہ کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ عدالت نے زور دیا کہ ویڈیوز کے منتخب حصے کاٹ کر پیش کرنے، حقائق کو توڑ مروڑ کر دکھانے اور ذاتی تشہیر کے لیے ان کے استعمال کو روکنے کے لیے حفاظتی ضابطے ضروری ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے کہا، ’’آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ اس سے وکلا، ججوں اور خود اس ادارے کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہے۔‘‘ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ عدالتوں کی کارروائی کی ویڈیوز غیر مجاز طریقے سے حاصل کرنے اور ان سے پیسے کمانے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کر رہی تھی۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالت کا مقصد نہ تو کارروائی کی براہِ راست نشریات کو محدود کرنا ہے اور نہ ہی کسی کی آواز دبانا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی کارروائی کی ریکارڈنگ عوام کو معلومات فراہم کرنے کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ تجارتی مفادات پورے کرنے کے لیے۔ بنچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ وہ مختلف ہائی کورٹس اور دیگر متعلقہ فریقوں سے تجاویز جمع کریں، تاکہ اس سلسلے میں حفاظتی ضابطے تیار کیے جا سکیں۔ عدالت نے انہیں یہ بھی ہدایت دی کہ موصول ہونے والی تجاویز کو شامل کرتے ہوئے جواب داخل کیا جائے۔ جسٹس باگچی نے عدالتی کارروائی کے ویڈیو کلپس کو پیشہ ورانہ تشہیر کے لیے استعمال کرنے پر تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ ایسا کرنا وکالت کے پیشے پر لاگو اصولوں کے خلاف ہے۔ سینئر وکیل گوپال سنکرنارائنن نے تجویز دی کہ عدالتی سماعت کی ویڈیو دوبارہ شائع کرنے کی صورت میں پوری کارروائی دکھانا لازمی ہونا چاہیے اور اس میں اپنی طرف سے کوئی عنوان یا وضاحتی عبارت شامل نہیں کی جانی چاہیے۔ سپریم کورٹ نے اس سے قبل جولائی میں ہدایت دی تھی کہ اس کی یا متعلقہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کی پیشگی اجازت کے بغیر عدالتوں کی براہِ راست نشر ہونے والی کارروائی کو غیر مجاز طریقے سے حاصل کرنے، اس میں ترمیم کرنے، اسے اپ لوڈ کرنے، دوبارہ شیئر کرنے یا سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پھیلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
تاہم، عدالت نے واضح کیا تھا کہ ان ہدایات سے عدالتی کارروائی کی خبروں کی رپورٹنگ متاثر نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ نے یہ حکم ہرشیتا گروور کی جانب سے دائر مفادِ عامہ کی عرضی پر دیا تھا۔ اس عرضی میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر عدالتی کارروائی کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کے حصے کاٹنے، ان میں ترمیم کرنے، انہیں پھیلانے اور ان سے مالی فائدہ اٹھانے کے عمل کو منضبط کرنے کے لیے رہنما اصول وضع کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔