صنعتوں اور تعلیمی اداروں میں تعاون ضروری: پریتی اڈانی

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 24-10-2026
صنعتوں اور تعلیمی اداروں میں تعاون ضروری: پریتی اڈانی
صنعتوں اور تعلیمی اداروں میں تعاون ضروری: پریتی اڈانی

 



نئی دہلی: اڈانی یونیورسٹی کی صدر پریتی اڈانی نے ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے ہنرمند افراد تیار کرنے کی غرض سے صنعتوں اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط تعاون پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی ترقی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ہم انسانی ذہانت کو کتنی دانش مندی سے فروغ دیتے ہیں اور اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ کمپنی کے ایک بیان کے مطابق، اڈانی یونیورسٹی احمدآباد میں اپنے مجوزہ عالمی کیمپس میں چِپ ڈیزائن، تیاری اور پیکیجنگ کے شعبوں میں مہارت پیدا کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

پریتی اڈانی نے ہارڈویئر، اختراع، پروسیسنگ اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز سے متعلق کانفرنس ’چِپس 2026‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیمی کنڈکٹر صنعت کو مضبوط بنانے کے لیے صرف جدید پیداواری مراکز قائم کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ ایسے ہنرمند افراد بھی تیار کرنا ضروری ہیں جو پیچیدہ ٹیکنالوجی کو ڈیزائن کرنے، اسے ترقی دینے اور اس میں مزید بہتری لانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری تکنیکی ترقی کا حقیقی پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ ہماری مشینیں کتنی ذہین ہوجاتی ہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ ہم بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے انسانی ذہانت کو کتنی دانش مندی سے فروغ دیتے ہیں اور اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں۔‘‘

بیان کے مطابق، ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر شعبے کے عزائم صرف چِپ بنانے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ان میں چِپ کی تیاری کے ڈیزائن، مینوفیکچرنگ اور پیکیجنگ کے شعبوں میں بھی صلاحیت پیدا کرنا شامل ہے۔ ہندوستان سیمی کنڈکٹر مشن اور دھولیرا و سانند میں جاری منصوبوں سے اس شعبے کو فروغ مل رہا ہے، جس سے گجرات کی حیثیت ایک اہم سیمی کنڈکٹر مرکز کے طور پر مضبوط ہورہی ہے۔ پریتی اڈانی نے کہا، ’’ہندوستان نے دنیا کو ٹیکنالوجی کے شعبے میں غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد دیے ہیں۔ اب ہمارے پاس یہ موقع ہے کہ ہم دنیا بھر کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اپنے ملک میں ہی ڈیزائن، ترقی اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو مزید آگے بڑھائیں۔‘‘

دریں اثنا، مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث جدید سیمی کنڈکٹر چِپس، ڈیٹا سینٹرز اور بجلی کی قابل اعتماد فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے۔ اڈانی یونیورسٹی احمدآباد میں اپنے مجوزہ کثیر شعبہ جاتی عالمی کیمپس میں سیمی کنڈکٹر ڈیزائن، مینوفیکچرنگ اور پیکیجنگ کے شعبوں میں مہارت پیدا کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ یونیورسٹی نوجوان انجینئروں کے لیے خصوصی تعلیمی پروگرام، صنعت میں کام کرنے والے پیشہ ور افراد کے لیے اعلیٰ سطح کے تربیتی کورس اور اساتذہ کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے منصوبے بھی پیش کرنے کی تیاری کررہی ہے۔

ان اقدامات کا مقصد تعلیمی تحقیق اور تربیت کو صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ پریتی اڈانی نے مزید کہا، ’’احمدآباد میں اپنے نئے عالمی معیار کے کثیر شعبہ جاتی کیمپس کو ترقی دیتے ہوئے ہمارا مقصد تعلیم، تحقیق اور صنعت کو ایک ساتھ لانا ہے، تاکہ حقیقی مسائل کا حل تلاش کیا جاسکے۔ ہم سیمی کنڈکٹر ڈیزائن، مینوفیکچرنگ اور پیکیجنگ کے شعبوں میں صلاحیتیں پیدا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاکہ تعلیمی علم کو عملی اختراع سے جوڑا جاسکے۔‘‘ ’چِپس 2026‘ کا انعقاد آئی آئی ٹی منڈی، وی ایل ایس آئی سوسائٹی آف انڈیا اور قانونی فرم سیرل امرچند منگل داس کے اشتراک سے کیا گیا۔

وی ایل ایس آئی سوسائٹی آف انڈیا ایک پیشہ ور تنظیم ہے جو بہت بڑے پیمانے پر انٹیگریشن (وی ایل ایس آئی) ٹیکنالوجی اور اس کے استعمال کو فروغ دیتی ہے۔ اس کانفرنس میں گجرات اسٹیٹ الیکٹرانکس مشن، سیمی کنڈکٹر کمپنیوں اور تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس دوران تحقیق اور تکنیکی تعلیم کو صنعت کی ضروریات کے مطابق بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔