نجی شکایت میں ملزم کو سنے بغیر جرم کا نوٹس نہیں لیا جا سکتا: دہلی ہائی کورٹ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 30-09-2026
نجی شکایت میں ملزم کو سنے بغیر جرم کا نوٹس نہیں لیا جا سکتا: دہلی ہائی کورٹ
نجی شکایت میں ملزم کو سنے بغیر جرم کا نوٹس نہیں لیا جا سکتا: دہلی ہائی کورٹ

 



نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ نجی شکایت کے معاملے میں مجسٹریٹ قانونی استثناؤں کے تابع اور ملزم کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دینے کے بعد ہی شکایت کنندہ اور گواہوں سے حلف پر پوچھ گچھ کرکے کسی جرم کا باضابطہ نوٹس لے سکتے ہیں۔ جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس رویندر ڈوڈیجا کی بنچ نے کہا کہ مجسٹریٹ کو پہلے شکایت کنندہ اور موجود گواہوں سے پوچھ گچھ کرنی چاہیے اور یہ طے کرنا چاہیے کہ کارروائی آگے بڑھانے کے لیے بادی النظر میں کوئی معاملہ بنتا ہے یا نہیں۔ اسے بھارتی شہری سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 226 کے تحت شکایت کو محض مسترد نہیں کر دینا چاہیے۔

عدالت نے واضح کیا کہ جب بادی النظر میں کارروائی کا معاملہ بنتا نظر آئے تو مجسٹریٹ کو بی این ایس ایس کی دفعہ 223(1) کی پہلی شرط کے تحت مجوزہ ملزم کو نوٹس جاری کرنا چاہیے اور اسے اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دینا چاہیے۔ جرم کا باضابطہ نوٹس لینے کا فیصلہ ملزم کا موقف سننے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ بی این ایس ایس کے تحت نجی شکایات سے نمٹنے کے دوران مجسٹریٹ کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقہ کار سے متعلق ہے۔ بی این ایس ایس نے ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی جگہ لی ہے۔ بنچ نے خاص طور پر بی این ایس ایس کی دفعہ 223(1) میں استعمال کیے گئے لفظ ’’وائل‘‘ یعنی ’’کے دوران‘‘ پر غور کیا۔

اس دفعہ میں کہا گیا ہے کہ مجاز مجسٹریٹ کو ’’جرم کا نوٹس لیتے وقت‘‘ قانونی استثناؤں کے تابع شکایت کنندہ اور موجود گواہوں سے حلف پر پوچھ گچھ کرنی چاہیے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ’’وائل‘‘ کا لفظ اہم ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ شکایت کنندہ اور گواہوں سے پوچھ گچھ بی این ایس ایس کے تحت جرم کا نوٹس لینے کے عمل کا حصہ ہے۔

عدالت نے اس طریقہ کار کو سابقہ سی آر پی سی کے تحت موجود صورت حال سے مختلف قرار دیا۔ سی آر پی سی کی دفعہ 190 کے تحت مجسٹریٹ جرم کا نوٹس لیتا تھا، جس کے بعد دفعہ 200 کے تحت شکایت کنندہ اور گواہوں سے پوچھ گچھ کی جاتی تھی۔ بنچ نے بی این ایس ایس کی دفعہ 223(1) کی پہلی شرط پر بھی توجہ دی، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ملزم کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیے بغیر کسی جرم کا نوٹس نہیں لیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ بی این ایس ایس کی مختلف دفعات کو ایک ساتھ اور باہمی تال میل کے ساتھ پڑھا جانا چاہیے۔ صرف اس بنیاد پر کہ طریقہ کار سے متعلق دفعات الگ الگ ابواب میں شامل ہیں، یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ جرم کا نوٹس کس مرحلے پر لیا جائے گا۔

یہ معاملہ بڑی بنچ کے سامنے ان عرضیوں کے ذریعے پہنچا تھا جن میں مجسٹریٹ کے ان احکامات کو چیلنج کیا گیا تھا، جن کے تحت بی این ایس ایس کی دفعہ 223 کے تحت مجوزہ ملزم کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ بنچ کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ نجی شکایت کے معاملے میں جرم کا نوٹس کس مرحلے پر لیا جاتا ہے، شکایت کنندہ اور گواہوں سے پوچھ گچھ کا کیا کردار ہے اور ملزم کو کس مرحلے پر اپنا موقف پیش کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

ہائی کورٹ کے فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ بی این ایس ایس کے تحت شکایت کنندہ اور گواہوں سے پوچھ گچھ اور ملزم کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دینا، مجسٹریٹ کی جانب سے جرم کا باضابطہ نوٹس لینے کے فیصلے سے پہلے کے طریقہ کار کا اہم حصہ ہے۔ یہ فیصلہ نئے فوجداری طریقہ کار کے قانون کے تحت نجی شکایات سے نمٹنے کے لیے مجسٹریٹ کے اختیار کیے جانے والے طریقہ کار کو واضح کرتا ہے۔