انسٹاگرام اکاؤنٹ بند کرنا سرکاری معاملہ نہیں: دہلی ہائی کورٹ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 29-10-2026
انسٹاگرام اکاؤنٹ بند کرنا سرکاری معاملہ نہیں: دہلی ہائی کورٹ
انسٹاگرام اکاؤنٹ بند کرنا سرکاری معاملہ نہیں: دہلی ہائی کورٹ

 



نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ محض سوشل میڈیا پلیٹ فارم فراہم کرنا، جہاں لوگ ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں اور سماجی طور پر میل جول رکھ سکیں، کسی سرکاری کام یا عوامی ذمہ داری کے زمرے میں نہیں آتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ صرف اس بنیاد پر میٹا پلیٹ فارمز انڈیا کے خلاف آئین کی دفعہ 226 کے تحت ہائی کورٹ میں رِٹ درخواست دائر نہیں کی جا سکتی کہ اس کا پلیٹ فارم معلومات پھیلانے اور عوامی رائے بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جسٹس امیت مہاجن نے یہ تبصرے سارتھک بھگت کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران کیے۔

درخواست گزار نے شکایت کی تھی کہ انسٹاگرام نے اسے پیشگی اطلاع دیے بغیر اور اپنا موقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیے بغیر اس کے اکاؤنٹس بند کر دیے تھے۔ عدالت نے کہا کہ انسٹاگرام عوامی بحث و مباحثے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن اس کا بنیادی کام اظہارِ خیال کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔ عوامی مباحثے میں اس کا کردار اس کی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے، نہ کہ کوئی ایسی عوامی ذمہ داری جسے ادا کرنا اس پر قانوناً لازم ہو۔ عدالت نے 27 اکتوبر کو جاری اپنے حکم میں کہا کہ میٹا پر کسی عوامی ذمہ داری کے تحت ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا لازم نہیں ہے اور نہ ہی قانون اسے اپنی خدمات فراہم کرنے کا پابند بناتا ہے۔ اس کی خدمات رضاکارانہ ہیں اور صارفین کی سرگرمیوں پر منحصر ہیں۔

ہائی کورٹ نے مزید کہا کہ میٹا کی سرگرمیاں نجی نوعیت کی ہیں اور حکومت نے کوئی روایتی سرکاری کام اس کمپنی کو سونپا نہیں ہے۔ اس لیے میٹا پلیٹ فارمز انڈیا ایسا عوامی کام انجام نہیں دیتا اور نہ ہی ایسی عوامی ذمہ داری نبھاتا ہے جس کی بنیاد پر اسے آئین کی دفعہ 226 کے تحت ہائی کورٹ کے رِٹ دائرۂ اختیار میں لایا جا سکے۔ عدالت کے مطابق، اس نجی کمپنی کے خلاف درخواست گزار کے لیے مناسب قانونی راستہ دیوانی مقدمہ دائر کرنا ہو سکتا ہے، جس میں وہ، اگر کوئی نقصان ہوا ہے تو، ہرجانے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

سارتھک بھگت نے ہائی کورٹ میں عرض کیا تھا کہ انسٹاگرام نے ان کے اکاؤنٹس بند کرتے وقت نہ تو پہلے کوئی اطلاع دی اور نہ ہی اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا۔ انہیں بھیجے گئے نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ان کے اکاؤنٹس انسٹاگرام کے کمیونٹی معیارات کی مبینہ خلاف ورزی کے سبب بند کیے گئے ہیں اور ان سے متعلق معلومات مستقل طور پر حذف کر دی جائیں گی۔ نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ اس فیصلے پر دوبارہ نظرثانی کی درخواست نہیں کر سکتے۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے انسٹاگرام کی ایپ کے اندر موجود طریقۂ کار کے ذریعے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی تھی، لیکن ان کے اکاؤنٹس بحال نہیں کیے گئے اور انہیں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اکاؤنٹس بند کرنے کی مخصوص وجوہات کیا تھیں۔ انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ 11 ستمبر 2026 کو انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیری گائیڈلائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) قواعد، 2021 کے ضابطہ 3 اے کے تحت گریونس اپیلیٹ کمیٹی میں اپیل دائر کی تھی۔

ان کے مطابق، قواعد میں مقررہ 30 دن کی مدت گزر جانے کے باوجود ان کی اپیل پر فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔ عدالت نے مرکزی حکومت کے خلاف راحت دینے سے بھی انکار کر دیا، کیونکہ درخواست گزار یہ واضح کرنے میں ناکام رہے کہ حکومت نے اپنی کسی قانونی ذمہ داری کو پورا کرنے میں کوتاہی کی ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ حکمِ امتناعی یا مینڈیمس کی رِٹ ایک غیر معمولی عدالتی چارہ جوئی ہے، جس کے ذریعے کسی سرکاری ادارے کو وہ کام کرنے کا پابند بنایا جا سکتا ہے جسے انجام دینا اس کی قانونی ذمہ داری ہو، لیکن وہ اسے پورا نہ کر رہا ہو۔

عدالت کے مطابق، درخواست میں پیش کیے گئے دلائل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حکومت نے اپنی کسی قانونی ذمہ داری کو پورا کرنے میں واضح طور پر کوتاہی کی ہے یا اسے انجام دینے میں ناکام رہی ہے۔ اس لیے مینڈیمس کی رِٹ جاری کرنے کے لیے ضروری قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔ تاہم، گریونس اپیلیٹ کمیٹی میں اپیل پر فیصلہ کرنے میں تاخیر سے متعلق درخواست گزار کی شکایت پر عدالت نے کمیٹی کو ہدایت دی کہ وہ اپیل پر جلد از جلد فیصلہ کرے۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے درخواست اور اس سے متعلق زیر التوا درخواستوں کو نمٹا دیا۔