دہرادون: اتراکھنڈ میں ہیلی کاپٹر آپریٹروں نے شریک پائلٹ (کو پائلٹ) کی لازمی شرط کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پیر کو چار دھام یاترا کے لیے چارٹر ہیلی کاپٹر سروس بند کردی۔ اس فیصلے سے سردیوں کے لیے مندروں کے دروازے بند ہونے سے پہلے یاترا کے آخری مرحلے میں خلل پڑنے کا خدشہ ہے۔ ہیلی کاپٹر آپریٹروں نے اتوار کو اتراکھنڈ سول ایوی ایشن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (یوکاڈا) کو خط لکھ کر خبردار کیا تھا کہ اگر اس کا حکم واپس نہیں لیا گیا تو وہ 2 نومبر سے اپنی خدمات معطل کردیں گے۔
یوکاڈا کے ایک سینئر افسر نے پیر کی صبح بتایا کہ فی الحال ہیلی کاپٹر چار دھام کے مقامات سے یاتریوں کو واپس لا رہے ہیں، لیکن دہرادون سے کسی بھی یاتری کو ان مقامات تک نہیں پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہیلی کاپٹر کمپنیوں کے نمائندوں، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) اور یوکاڈا کے درمیان ایک میٹنگ جاری ہے۔ اس میٹنگ کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ یوکاڈا نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ چار دھام یاترا کے راستے پر پرواز کرنے والے تمام ہیلی کاپٹروں میں شریک پائلٹ کی موجودگی لازمی ہوگی۔
یہ فیصلہ 30 اکتوبر کو چمولی ضلع کے جوشی مٹھ کے قریب پیش آنے والے ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد کیا گیا تھا، جس میں 6 افراد کی موت ہوگئی تھی۔ ہیلی کاپٹر آپریٹروں نے کہا ہے کہ وہ موجودہ صورت میں دو پائلٹوں کی لازمی شرط کو قبول کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ انہوں نے چارٹر ہیلی کاپٹر خدمات کے لیے اس شرط پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ آپریٹروں کا کہنا ہے کہ ان سے مناسب مشاورت کیے بغیر اور اس فیصلے کے تجارتی و عملی اثرات کا جائزہ لیے بغیر دو پائلٹوں کی تعیناتی لازمی قرار دینے سے تمام کمپنیوں کے لیے اپنا کاروبار جاری رکھنا مالی طور پر ناممکن ہوجائے گا۔
ڈی جی سی اے کو بھیجے گئے خط میں انہوں نے کہا کہ ہر چارٹر پرواز میں دو پائلٹوں کی تعیناتی سے آپریٹنگ اخراجات، عملے کی ضرورت، رہائش اور دیگر انتظامی و لاجسٹک اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ موجودہ کاروباری نظام، چارٹر پروازوں کے طے شدہ کرایوں اور محدود منافع کو دیکھتے ہوئے کمپنیاں یہ اضافی بوجھ برداشت نہیں کرسکتیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ممکن نہیں کہ تمام اضافی اخراجات مسافروں سے وصول کیے جائیں۔ ہیلی کاپٹر آپریٹروں نے مزید کہا کہ حفاظت سے متعلق کسی بھی اضافی اقدام کو عملی، متناسب اور تجارتی اعتبار سے قابلِ برداشت ہونا چاہیے۔ ایسے فیصلے آپریٹنگ کمپنیوں سے مشاورت کے بعد ہی کیے جانے چاہئیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ تمام متعلقہ ہیلی کاپٹر آپریٹرز نے 2 نومبر 2026 سے چار دھام کے لیے اپنی چارٹر خدمات معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پابندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک متعلقہ حکام آپریٹروں سے مشاورت کرکے اس مسئلے کا جائزہ نہیں لیتے اور کوئی ایسا حل نہیں نکالتے جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔