بھوپال: مدھیہ پردیش میں دیوالی کے دوران 12,000 کروڑ سے 14,000 کروڑ روپے تک کا کاروبار ہونے کی توقع ہے۔ کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز (کیٹ) کے اندازے کے مطابق مقامی اور دیسی مصنوعات کی مضبوط مانگ کے باعث ریاست بھر کی منڈیوں میں کاروباری سرگرمیاں تیز رہنے کا امکان ہے۔ تاجر تنظیم کے ابتدائی جائزے کے مطابق دیوالی سے پہلے 7 سے 10 دن کے دوران ریاست کی مختلف منڈیوں میں خریداری میں تیزی آنے کی توقع ہے۔
کیٹ بھوپال کے صدر اور مدھیہ پردیش کے ریاستی میڈیا انچارج دھرمیندر شرما نے جمعہ کو جاری ایک بیان میں کہا کہ دیسی مصنوعات میں بڑھتی دلچسپی، مقامی تاجروں سے خریداری کی حوصلہ افزائی اور صارفین کی قوت خرید میں اضافہ وہ اہم عوامل ہیں جو کاروبار کو فروغ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھوپال، اندور، گوالیار، جبل پور اور اجین جیسے بڑے شہروں کے علاوہ ساگر، ریوا، ستنا، رتلام، دیواس، کٹنی، چھندواڑہ اور کھنڈوا جیسے دوسرے درجے کے شہروں میں بھی اچھی فروخت متوقع ہے۔ شرما کے مطابق چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں کی مقامی منڈیوں میں بھی کپڑوں، راشن، مٹھائیوں، پوجا کے سامان اور گھریلو ضروریات کی خریداری سے کاروبار کو فائدہ ملنے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ دیوالی کے دوران ریاست میں مجموعی طور پر 12,000 کروڑ سے 14,000 کروڑ روپے تک کی فروخت متوقع ہے۔ شعبہ وار اندازے کے مطابق ٹیکسٹائل اور ریڈی میڈ کپڑوں میں تقریباً 2,200 کروڑ روپے، سونے، چاندی اور زیورات میں 2,000 کروڑ روپے، گاڑیوں میں 1,700 کروڑ روپے، الیکٹرانکس اور گھریلو آلات میں 1,300 کروڑ روپے، راشن اور تیزی سے فروخت ہونے والی صارفین کی اشیا (ایف ایم سی جی) میں 1,100 کروڑ روپے، جبکہ مٹھائی اور نمکین میں 900 کروڑ روپے کا کاروبار متوقع ہے۔
کیٹ کے اندازے کے مطابق تحائف اور گھریلو سجاوٹ کی اشیا میں 800 کروڑ روپے، پوجا کے سامان اور خشک میووں میں 650 کروڑ روپے، پٹاخوں میں 600 کروڑ روپے، فرنیچر اور گھریلو آرائش کے سامان میں 550 کروڑ روپے، جوتوں میں 350 کروڑ روپے اور دیگر تجارتی سرگرمیوں میں تقریباً 1,850 کروڑ روپے کا کاروبار ہونے کی توقع ہے۔ دھرمیندر شرما نے کہا کہ اس سال پٹاخوں کا کاروبار نسبتاً محدود رہنے کا امکان ہے۔ اس کی وجوہات میں ماحولیاتی بیداری میں اضافہ، ضابطے اور گرین پٹاخوں کی دستیابی شامل ہیں۔