براہموس میزائل: خود کفیل ہندوستان کی طاقت، درست نشانہ اور فخر کی علامت

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 22-10-2026
براہموس میزائل: خود کفیل ہندوستان کی طاقت، درست نشانہ اور فخر کی علامت
براہموس میزائل: خود کفیل ہندوستان کی طاقت، درست نشانہ اور فخر کی علامت

 



نئی دہلی: براہموس اب محض ایک میزائل نہیں، بلکہ ایک پراعتماد اور خود کفیل نئے ہندوستان کی طاقت، نشانہ لگانے کی صلاحیت اور فخر کی علامت بن چکا ہے۔ ’آپریشن سندور‘ کے دوران ہندوستانی مسلح افواج نے پہلی مرتبہ اس ہتھیار کے نظام کو حقیقی جنگی کارروائی میں استعمال کیا۔ پاکستان کے اہم فوجی اہداف، بشمول نور خان جیسے بڑے فضائی اڈوں کو نشانہ بنا کر ہندوستانی مسلح افواج نے اس ہتھیار کی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ براہموس کا نظام ہندوستان کی دفاعی برآمدات کی حکمت عملی کا بھی ایک اہم ستون ہے۔ ہندوستان کی دفاعی برآمدات بڑھ کر 38,400 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں، جن میں سالانہ 62.7 فیصد کی نمایاں ترقی درج کی گئی ہے۔

براہموس کی کامیابی پر گفتگو کرتے ہوئے براہموس ایرو اسپیس کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر جیتیرتھ جوشی نے کہا، ’’برآمدات کے میدان میں براہموس کی کامیابی کی کہانی 2025 میں اس ہتھیار کے جنگی تجربے سے بھی پہلے شروع ہوگئی تھی۔ 2022 میں ہمیں برآمدات کا پہلا تاریخی آرڈر ملا۔ کروڑوں ڈالر کے اس معاہدے نے عالمی سطح پر ہندوستان کی دفاعی برآمدات کے عزائم کو آگے بڑھایا۔ آج براہموس ہندوستان کی فوجی برآمدات کی حکمت عملی میں صف اول کا مقام رکھتا ہے۔

ایک اہم دفاعی مصنوعات کی حیثیت سے اس سپر سونک کروز میزائل کی برآمدات کا دائرہ مسلسل وسیع ہوا ہے، خاص طور پر مئی 2025 میں آپریشن سندور کے دوران اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے اور جنگ میں آزمودہ ہتھیار کے طور پر اپنی شناخت قائم کرنے کے بعد۔ فلپائن کے ساتھ پہلے برآمدی معاہدے کے بعد اس سال جنوب مشرقی ایشیا کے مزید دو ممالک کے ساتھ بھی معاہدے کیے گئے ہیں۔ اس طرح آج ہم بین الاقوامی منڈی میں مضبوط پوزیشن میں ہیں اور اپنی برآمدات کو مزید وسعت دینے کے لیے کوشاں ہیں۔‘‘ ڈاکٹر جوشی نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے اور ہنگامی حالات میں پیداوار میں تیزی لانے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے براہموس اپنی سپلائی چین کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’قریب اور طویل مدت کی ہماری اولین ترجیحات میں اب تک مسلح افواج سے ملنے والے تمام آرڈروں کو مکمل کرنا شامل ہے۔

حیدرآباد، ناگپور، پیلانی اور حال ہی میں لکھنؤ میں قائم کیے گئے ہمارے نئے پیداواری مراکز اس مقصد کے لیے پوری رفتار سے کام کررہے ہیں۔ ہم اگلی نسل کے براہموس کی تیاری اور آزمائش کے لیے درکار مخصوص ٹیکنالوجیز پر تحقیق و ترقی کے کام کو تیز کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ’ٹیک برکس‘ قائم کیے جائیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے اور کسی ہنگامی صورت حال میں پیداوار میں فوری اضافہ کرنے کے لیے سپلائی چین کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق، پہلے ہر نظام یا اس کے ذیلی نظام کے لیے ایک یا دو صنعتی شراکت داروں پر انحصار کیا جاتا تھا، لیکن اب کمپنی ایسے 45 ذرائع تیار کرنا چاہتی ہے۔ اس سے معیار اور قیمت کے معاملے میں مسابقت کو بھی فروغ ملے گا۔ براہموس ہندوستان کی دفاعی برآمدات کو فروغ دینے کی کوششوں کی ایک نمایاں مثال بن چکا ہے۔

فلپائن، انڈونیشیا اور ویتنام کو آرڈر اور میزائلوں کی فراہمی کے ذریعے دفاعی برآمدات کا حجم 60 کروڑ امریکی ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔ ڈاکٹر جوشی نے کہا، ’’دنیا ہمیشہ براہموس کو حیرت اور تحسین کی نگاہ سے دیکھتی رہی ہے۔ آپریشن سندور کے بعد اس غیر معمولی طور پر ہمہ گیر میزائل نے ثابت کردیا ہے کہ یہ واقعی ایک منفرد اور پیچیدہ نظام ہے، جو آج کی کثیر جہتی اور شدید نوعیت کی جنگ میں مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔ ہندوستان کے ایک بے مثال ’پہلے حملے کے ہتھیار‘ کے طور پر براہموس نے اپنی طاقت اور برتری ثابت کی ہے۔ یہ اپنی نوعیت اور صلاحیت کے لحاظ سے انتہائی مہلک ہتھیار ہے، جو دشمن کے اہداف کو نہایت درستگی سے تباہ کرنے کے ساتھ اپنی خفیہ نقل و حرکت، تیزی اور پھرتی بھی برقرار رکھ سکتا ہے۔

‘‘ براہموس کے مستقبل کے اہم منصوبوں میں براہموس-این جی (نیکسٹ جنریشن) بھی شامل ہے۔ یہ سپر سونک کروز میزائل کی اگلی نسل ہے، جو موجودہ میزائل کے مقابلے میں چھوٹا، ہلکا اور ریڈار سے بچنے کی زیادہ صلاحیت رکھنے والا ہوگا۔ اسے ہندوستان کے دفاعی تحقیق و ترقی کے ادارے ڈی آر ڈی او اور روس کے ادارے این پی او ماشینوستروینیہ مشترکہ طور پر براہموس ایرو اسپیس کے ذریعے تیار کررہے ہیں۔ اس سے ہندوستان کی فضائی پلیٹ فارم سے حملہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ ڈاکٹر جوشی کے مطابق، اس میزائل کا پہلا نمونہ 2027 یا 2028 تک تیار کرنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں امید ہے کہ پہلا پروٹوٹائپ 2027 یا 2028 تک تیار ہوجائے گا۔

چونکہ اس نئے نظام میں مقامی طور پر تیار کردہ پرزوں اور ٹیکنالوجی کا تناسب زیادہ ہوگا اور اس میں متعدد نئی ٹیکنالوجیز اور جدید مواد بھی استعمال کیے جائیں گے، اس لیے وسیع پیمانے پر تحقیق و ترقی کی ضرورت ہے۔ ہم نے اس کے لیے منصوبہ بندی کرلی ہے اور اس سمت میں مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ فی الحال یہ نظام تیاری کے مرحلے میں ہے۔‘‘ براہموس ایرو اسپیس کا ایک اور مستقبل کا منصوبہ ایسا میزائل تیار کرنا ہے جس کی حملہ کرنے کی صلاحیت 1,500 کلومیٹر تک ہو۔ اس بارے میں ڈاکٹر جوشی نے کہا، ’’ہم نے میزائل کی مار کرنے کی حد بڑھانے کا پروگرام مرحلہ وار شروع کیا ہے۔

زمین، سمندر اور فضا سے کیے گئے تجرباتی فائر کے دوران میزائل نے اپنی ابتدائی 290 کلومیٹر کی حد سے آگے بڑھ کر زیادہ فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ 1,500 کلومیٹر تک مار کرنے والا میزائل ہمارے مستقبل کے منصوبے کا حصہ ہے، لیکن فی الحال یہ تصوراتی مرحلے میں ہے۔ اس نظام میں مزید بہتری کے لیے ہم اپنے مشترکہ منصوبے کے شراکت دار کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں۔

‘‘ دریں اثنا، 6 اکتوبر کو وزارت دفاع نے ہندوستانی بحریہ کے جہازوں کے لیے براہموس فائر کنٹرول سسٹم اور لانچروں کی خریداری کے سلسلے میں براہموس ایرو اسپیس کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ اس منصوبے میں کم از کم 68 فیصد مقامی مواد استعمال کیا جائے گا۔ اس سے چھوٹی، درمیانی اور خرد صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) سمیت ہندوستانی صنعتوں کو دفاعی پیداوار میں فعال شرکت کا موقع ملے گا اور ملک میں دفاعی سازوسامان کی تیاری کو فروغ حاصل ہوگا۔