بہار کا مکھانا دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے: پیوش گوئل

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 19-10-2026
بہار کا مکھانا دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے: پیوش گوئل
بہار کا مکھانا دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے: پیوش گوئل

 



نئی دہلی: مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا ہے کہ بہار کا جغرافیائی شناختی ٹیگ (جی آئی ٹیگ) حاصل کرنے والا متھلا مکھانا دنیا بھر میں لوگوں کی پسند بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس کی غذائی خصوصیات، خستہ ذائقے اور مختلف طریقوں سے استعمال کیے جانے کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر اس کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پیوش گوئل نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں متھلا مکھانا کو ایک بہترین غذائی شے قرار دیا اور اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا سہرا کسانوں کی محنت کو دیا۔ انہوں نے بہار کی مقامی مصنوعات کو بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے حکومت کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا، ’’بہار کا جی آئی ٹیگ حاصل کرنے والا متھلا مکھانا اپنی غیر معمولی غذائی خصوصیات، لذیذ خستہ پن اور مختلف طریقوں سے استعمال کیے جانے کی صلاحیت کے باعث دنیا بھر میں لوگوں کے دل جیت رہا ہے۔ اس عالمی کامیابی کے پیچھے ہمارے محنتی کسانوں کی انتھک محنت ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی کوششوں کے ساتھ ہم بہار کی مقامی اور قیمتی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘‘ مکھانا، جس کا سائنسی نام Euryale ferox ہے، پانی میں پیدا ہونے والی ایک فصل ہے۔ اس کی کاشت زیادہ تر کم گہرے تالابوں، جھیلوں اور دلدلی علاقوں میں کی جاتی ہے۔

اس کے بیجوں کو مختلف طریقوں سے تیار یا بھونا جاتا ہے اور پھر انہیں پھلا کر کھانے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ مکھانا عام طور پر ہلکی پھلکی غذا اور ناشتے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2025-26 کے دوران ہندوستان نے مکھانا اور اس سے تیار کردہ مصنوعات کی سات ہزار میٹرک ٹن سے زیادہ مقدار 20 سے زائد بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد کی۔ ان منڈیوں میں امریکہ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک شامل ہیں۔ ہندوستان کی مجموعی مکھانا پیداوار میں بہار کا حصہ تقریباً 85 فیصد ہے، جس کی وجہ سے یہ ریاست ملک میں مکھانا پیدا کرنے کا سب سے بڑا مرکز بن گئی ہے۔

ہندوستان دنیا میں مکھانا پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کی کاشت بنیادی طور پر بہار، مغربی بنگال اور آسام میں ہوتی ہے۔ صحت کے بارے میں بڑھتی ہوئی بیداری، مکھانا سے نئی مصنوعات تیار کرنے والے کاروباری اداروں اور کسانوں کی تنظیموں کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے باعث اب یہ پیداوار بہار میں اپنی روایتی کھپت سے آگے بڑھ کر ملک اور بیرون ملک کی منڈیوں تک پہنچ رہی ہے۔ مکھانا کی صنعت کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت نے جولائی 2025 میں مالیاتی بل 2025 کے تحت اس کے لیے ہم آہنگ نظامِ درجہ بندی (ایچ ایس) کا الگ کوڈ متعارف کرایا۔

اس اقدام سے مکھانا کی تجارت کے لیے ایک مخصوص شناختی کوڈ دستیاب ہوگیا ہے، جس سے اس کی درآمد و برآمد کے اعداد و شمار کو الگ سے درج کرنے میں مدد ملتی ہے۔ حکومت نے اس شعبے کو جدید بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔ قومی مکھانا بورڈ کے قیام کا اعلان مرکزی بجٹ 2025-26 میں کیا گیا تھا اور 15 ستمبر 2025 کو بہار میں اس کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ اس کے علاوہ، حکومت نے مکھانا کی ترقی کے لیے مرکزی شعبے کی ایک اسکیم منظور کی ہے، جس کے تحت مالی سال 2025-26 سے 2030-31 تک مجموعی طور پر 476.03 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔

اس اسکیم کا مقصد تحقیق اور جدت طرازی کو فروغ دینا، معیاری بیجوں کی دستیابی بہتر بنانا، کسانوں کی مہارت میں اضافہ کرنا، فصل کی کٹائی اور کٹائی کے بعد کے طریقوں کو جدید بنانا، مصنوعات کی قدر میں اضافہ اور برانڈنگ کو فروغ دینا، مارکیٹنگ اور برآمدات کو وسعت دینا اور معیار کی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ اسکیم کے تحت مالی سال 2025-26 کے لیے 30 کروڑ روپے اور 2026-27 کے لیے 90 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ حکومت کو امید ہے کہ ان اقدامات سے مکھانا کی پیداوار، اس کے معیار اور عالمی منڈیوں میں ہندوستانی مصنوعات کی رسائی کو مزید فروغ ملے گا۔