ممبئی: آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے بدھ کو کہا کہ ہندوستان کے لوگوں کو اپنی روایات کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے اور معاشرے اور دنیا کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر شخص کو اس بات کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کہ سبھی لوگوں کو ایک بھرپور اور بہتر زندگی مل سکے۔ انہوں نے یہ بات ناگپور ضلع کے دیولہ پور میں واقع گاؤ وگیان انوسندھان کیندر میں مختلف منصوبوں کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔ یہ پروگرام وشو ہندو پریشد کے سابق صدر آنجہانی اشوک سنگھل کی پیدائش کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا۔ موہن بھاگوت نے کہا کہ ہندوستانی روایات معاشرے اور دنیا کی سلامتی اور بہبود کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہماری زندگی، معاشرے، دھرم کی حفاظت اور دنیا کی بہتری کے لیے جس راستے کی ضرورت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے، وہ یہ ہے کہ ہندوستان کے لوگ اپنی روایات کے مطابق زندگی گزاریں اور کامیابی حاصل کریں۔ ہر شخص کی زندگی بھرپور ہونی چاہیے اور ہم سب کو اس کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے۔‘‘ آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ معاشرے کے حجم کے مقابلے میں ’’اچھے کاموں میں مصروف‘‘ لوگوں کی تعداد کافی نہیں ہے۔ انہوں نے سماجی کاموں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت پر زور دیا۔ بھاگوت نے کہا کہ اچھے لوگوں کو یاد کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اچھے کام کیے جائیں اور دوسرا صرف ان لوگوں کو یاد کیا جائے جنہوں نے اچھے کام کیے تھے۔ ان کے مطابق بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ کیا کیا جانا چاہیے، لیکن پھر بھی ان کا خیال ہوتا ہے کہ یہ کام کوئی دوسرا شخص کرے۔
انہوں نے کہا، ’’لوگ کہتے ہیں کہ ان کے پاس ملازمت ہے اور خاندان کی ذمہ داریاں ہیں، لیکن وہ توقع کرتے ہیں کہ معاشرے کے لیے کوئی اچھا کام کوئی اور کرے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی اچھا کام ہوتا ہے تو اس میں پورے معاشرے کی شراکت نظر آتی ہے۔ بھاگوت نے کہا کہ جو لوگ اپنی ذاتی زندگی میں قربانی اور مشکلات برداشت کرنے کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہ دوسروں کو بھی مشکل راستے اختیار کرنے اور آگے بڑھنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’جب آپ بہت کچھ دیتے ہیں تو بدلے میں بہت کچھ حاصل بھی کرتے ہیں۔‘‘ اس سلسلے میں انہوں نے آنجہانی موروپنت پنگلے اور وشو ہندو پریشد کے رہنما اشوک سنگھل کی مثال دی۔
بھاگوت کے مطابق دونوں نے اپنی زندگیاں ایک بڑے مقصد کے لیے وقف کردیں اور آج انہیں بڑے پیمانے پر عزت و احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں رہنماؤں نے ذاتی فائدے پر توجہ نہیں دی بلکہ خود کو معاشرے کی بھلائی کے لیے وقف کردیا اور اسی وجہ سے وہ اہم رہنماؤں کے طور پر ابھرے۔ بھاگوت نے کہا کہ جب موجودہ دور میں کوئی اچھا کام ہوتا ہے تو دنیا ان لوگوں کو بھی یاد کرتی ہے جنہوں نے ماضی میں اس کام کی بنیاد رکھی تھی۔ ان کے مطابق ایسے لوگوں کو یاد کرنا ہی ان کی جدوجہد اور عزم کو حقیقی خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔