کولکاتا: کاکروچ جنتا پارٹی (کاجپا) کی جانب سے جنتر منتر پر احتجاج کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مغربی بنگال کے وزیر دلیپ گھوش نے ہفتے کے روز کہا کہ دہلی میں بدامنی پیدا کرنے کی کوششوں سے عام لوگوں کو پریشانی ہو سکتی ہے۔ گھوش نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’دہلی میں بدامنی پیدا کرنے کی کوششوں سے عوام کو پریشانی ہو سکتی ہے۔ حکومت نے پہلے ہی انتظامات کر لیے ہیں تاکہ دہلی کے رہنے والوں سمیت کسی کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور باہر سے آنے والے لوگ امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ کر سکیں۔‘
‘ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا جمہوری حق ہے، لیکن امن و امان برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق، ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور ہر شخص کو احتجاج کے ذریعے اپنے خیالات ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم امن و امان میں خلل ڈالنے کی کوششوں کو روکا جانا چاہیے۔ دریں اثنا، کاجپا کے احتجاج کے پیش نظر ہفتے کے روز دہلی اور ہریانہ کی سرحد پر واقع سنگھو بارڈر پر سکیورٹی جانچ سخت کر دی گئی۔ اتر پردیش کے غازی آباد میں تلسی نکیتن سرحد پر بھی پولیس نے گاڑیوں کی بڑے پیمانے پر تلاشی لی، جس کے باعث وہاں ٹریفک جام کی صورت حال پیدا ہو گئی۔
ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے اہلکاروں نے منڈی ہاؤس سرکل سے فلیگ مارچ بھی کیا۔ جنتر منتر پر ہونے والے ’احتجاج 2.0‘ میں شرکت کے لیے کاجپا کے کارکن ابھیجیت دپکے کی آمد سے قبل اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹرمینل 3 پر بھی حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے۔ اس سے پہلے دن میں دہلی پولیس نے کناٹ پلیس کے علاقے میں فلیگ مارچ کیا اور جن پتھ کے قریب کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر ہونے والے کاجپا کے احتجاج سے پہلے قومی دارالحکومت کو ایک سخت حفاظتی حصار میں تبدیل کر دیا گیا۔
مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت پر دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے 35 ہزار سے زیادہ اہلکار پورے شہر میں تعینات کیے گئے۔ ماضی میں تشدد کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی پولیس نے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ پولیس کی زمینی سطح پر تعینات ٹیموں کو ہدایت دی گئی کہ احتجاج کرنے کی کوشش کرنے والے افراد کو حراست میں لیا جائے۔ اس مقصد کے لیے چھ اسٹیڈیموں اور کمیونٹی مراکز کو عارضی حراستی مراکز کے طور پر مختص کیا گیا ہے، جن میں چھترسال اور راجیو گاندھی اسٹیڈیم بھی شامل ہیں۔
مرکزی مسلح پولیس فورسز کے اہلکاروں کو آتشیں اسلحہ ساتھ نہ رکھنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ پولیس اہلکار لاٹھیاں لے کر تعینات کیے گئے ہیں۔ انہیں یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ مظاہرین کے ساتھ زبانی تکرار سے گریز کریں۔ شفافیت برقرار رکھنے اور تصادم کے امکانات کم کرنے کے لیے ڈیوٹی پر تعینات دہلی پولیس کے اہلکاروں کو وردی پر لگائے جانے والے باڈی کیمرے دیے گئے ہیں۔ یہ کیمرے کم روشنی میں بھی ویڈیو ریکارڈ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایک پولیس اہلکار نے اس سے پہلے کہا تھا، ’’یہ باڈی کیمرے ہماری اور دوسروں کی حفاظت کے لیے ہیں۔ جب کسی کے ساتھ دھکا مکی ہوتی ہے تو دہلی پولیس پر الزامات لگائے جاتے ہیں۔ یہ کیمرے ثابت کریں گے کہ ہم نے کسی کے ساتھ کچھ کیا یا نہیں۔ ان میں ہر چیز ریکارڈ ہوگی۔‘‘ احتجاج کے پیش نظر قومی دارالحکومت میں 35 ہزار سے زیادہ دہلی پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات ہیں۔ حفاظتی انتظامات سخت کرنے کے ساتھ مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایات کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے بھی امن و امان برقرار رکھنے کو کہا گیا ہے۔