فن ہماری ثقافت کا آئینہ ہے، دیہی فنکاروں کو جدید تربیت اور معاشی مدد دی جائے: صدر مرمو

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 21-10-2026
فن ہماری ثقافت کا آئینہ ہے، دیہی فنکاروں کو جدید تربیت اور معاشی مدد دی جائے: صدر مرمو
فن ہماری ثقافت کا آئینہ ہے، دیہی فنکاروں کو جدید تربیت اور معاشی مدد دی جائے: صدر مرمو

 



نئی دہلی: صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بدھ کے روز کہا کہ فن صرف کینوس پر تصویریں بنانے یا پتھر پر مجسمے تراشنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری ثقافت کا حقیقی آئینہ ہے۔ انہوں نے روایتی اور دیہی فنکاروں کو جدید تربیت، بازار تک رسائی اور معاشی مدد فراہم کرنے پر زور دیا، تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔ صدر مرمو یہاں 65ویں قومی نمائشِ فن کی انعامی تقریب سے خطاب کر رہی تھیں۔ اس موقع پر انہوں نے ہندوستان کے لوک اور قبائلی فنون کی وسیع رنگارنگی کو اجاگر کیا اور سورا، سوہرا، مدھوبنی اور گونڈ مصوری جیسی روایتی فنکارانہ اصناف کا ذکر کیا۔

تقریب میں مرکزی وزیر ثقافت و سیاحت گجیندر سنگھ شیخاوت اور وزارت ثقافت کے سکریٹری وویک اگروال سمیت کئی اہم شخصیات موجود تھیں۔ صدر مرمو نے کہا، ’’فن صرف کینوس پر بنائی گئی شکلوں یا پتھر پر تراشے گئے مجسموں تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری ثقافت کا آئینہ ہے۔ اس میں ہمارے ماضی کی یادیں، حال کے تجربات اور مستقبل کی امیدیں جھلکتی ہیں۔‘‘ دور دراز علاقوں اور قبائلی خطوں کے فنکاروں کی حمایت پر زور دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ سورا اور مدھوبنی جیسے روایتی فنون کو دنیا بھر میں پذیرائی حاصل ہے، لیکن انہیں تخلیق کرنے والے فنکار اکثر اپنے گاؤں تک محدود رہ جاتے ہیں اور بڑے مقابلوں میں حصہ لینے کے مواقع سے محروم رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان میں سے بہت سے فنکار دور دراز اور اندرونی علاقوں میں رہتے ہیں، جہاں سے کولکاتا اور بھونیشور جیسے بڑے شہروں میں قائم اداروں تک پہنچنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ ایسے فنکاروں کو معاشی مدد، تربیت اور موجودہ دور کے تقاضوں سے واقفیت فراہم کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والے مقابلوں میں حصہ لے سکیں۔ صدر نے کہا کہ ان فنکاروں کے روایتی ہنر کو محفوظ رکھتے ہوئے انہیں معاشی طور پر مضبوط بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ صدر مرمو نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اس نمائش میں ملک بھر سے فنکاروں نے شرکت کی ہے۔

ان میں بڑے شہروں کے علاوہ شمال مشرقی ہندوستان اور دور دراز علاقوں کے فنکار بھی شامل ہیں۔ انہوں نے تیسرے پرنٹ بینالے انڈیا میں بین الاقوامی شرکت کی بھی ستائش کی اور کہا کہ اس طرح کے ثقافتی تبادلے باہمی مکالمے کو فروغ دیتے ہیں اور مختلف ملکوں کے درمیان فن کے اظہار کے دائرے کو وسیع کرتے ہیں۔ ہندوستان کی تخلیقی معیشت کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے للت کلا اکادمی اور وزارت ثقافت کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے پلیٹ فارم فراہم کرنا اہم ہے جہاں فنکار براہ راست اپنے فن پاروں کے خریداروں اور جمع کرنے والوں سے رابطہ کر سکیں اور اپنی تخلیقات کا مناسب معاوضہ حاصل کر سکیں۔ صدر مرمو نے کہا کہ تخلیقی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کے مواقع کے ساتھ معاشی مدد اور وسیع تر بازاروں تک رسائی بھی ضروری ہے۔

اس بات کی بھی کوشش ہونی چاہیے کہ فن صرف آرٹ گیلریوں تک محدود نہ رہے، بلکہ اسکولوں، یونیورسٹیوں، عوامی مقامات اور معاشرے کے وسیع تر طبقوں تک پہنچے۔ انہوں نے خاص طور پر نوجوان اور ابھرتے ہوئے فنکاروں کو مناسب مواقع فراہم کرنے پر زور دیا، تاکہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں۔