ترون تیج پال کی سزا کے خلاف اپیل، سپریم کورٹ کا گوا پولیس کو نوٹس

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 25-09-2026
ترون تیج پال کی سزا کے خلاف اپیل، سپریم کورٹ کا گوا پولیس کو نوٹس
ترون تیج پال کی سزا کے خلاف اپیل، سپریم کورٹ کا گوا پولیس کو نوٹس

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو صحافی ترون تیج پال کی اس اپیل پر گوا پولیس کو نوٹس جاری کیا، جس میں انہوں نے 2013 کے عصمت دری کے معاملے میں بمبئی ہائی کورٹ کی جانب سے سنائی گئی 10 سال قید کی سزا کو چیلنج کیا ہے۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پی بی ورالے پر مشتمل بنچ نے تیج پال کو بھی گوا حکومت کی اس درخواست پر نوٹس جاری کیا، جس میں ان کی سزا میں اضافہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

تیج پال کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں ٹرائل کورٹ کی بری کرنے کی کارروائی کو ہائی کورٹ نے پلٹ دیا تھا۔ انہوں نے عدالت سے تیج پال کی ضمانت کی درخواست پر بھی سماعت کرنے کی اپیل کی۔ کپل سبل نے کہا، ’’یہ بری کیے جانے کے فیصلے کو پلٹنے کا معاملہ ہے۔ مجھے اپیل کا حق حاصل ہے اور میں نے خود کو عدالت کے حوالے کر دیا ہے۔

ہائی کورٹ نے بھی سزا کو چار ہفتوں کے لیے معطل کیا تھا۔‘‘ سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ اس معاملے کی سماعت کے لیے ایک مخصوص تاریخ مقرر کرے گی۔ اس سے قبل 25 اگست کو سپریم کورٹ نے تیج پال کو 10 سال کی قید کی سزا بھگتنے کے لیے تین ہفتوں کے اندر خود کو عدالت کے حوالے کرنے کی ہدایت دی تھی۔ عدالت نے سزا کے لیے خود کو حوالے کرنے سے استثنا دینے کی ان کی درخواست بھی مسترد کر دی تھی۔

اس کے بعد تیج پال نے اس معاملے میں ٹرائل کورٹ کے سامنے خود کو پیش کر دیا تھا۔ ترون تیج پال کو تعزیرات ہند کی متعدد دفعات کے تحت قصوروار قرار دیا گیا تھا۔ ان میں دفعہ 376(2)(ایف) بھی شامل ہے، جو اعتماد یا اختیار کی پوزیشن میں موجود شخص کی جانب سے عصمت دری سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ دفعہ 354(اے) یعنی جنسی ہراسانی اور دفعہ 354(بی) یعنی کپڑے اتارنے کی نیت سے حملہ یا مجرمانہ طاقت کے استعمال کی دفعات بھی شامل ہیں۔ دفعہ 376(2)(ایف) کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے۔