پنجاب میں منشیات کے خلاف مہم: 52 مشتبہ افراد حراست میں، 20 ایف آئی آر درج

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 24-10-2026
پنجاب میں منشیات کے خلاف مہم:  52 مشتبہ افراد حراست میں، 20 ایف آئی آر درج
پنجاب میں منشیات کے خلاف مہم: 52 مشتبہ افراد حراست میں، 20 ایف آئی آر درج

 



لدھیانہ،: پنجاب میں ریاستی حکومت کی جانب سے جاری ’منشیات کے خلاف جنگ‘ مہم کے تحت پولیس نے اب تک 50 سے 52 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے اور 18 سے 20 ایف آئی آر درج کی ہیں۔ ایک افسر نے ہفتے کو یہ اطلاع دی۔ پولیس نے لدھیانہ میں منشیات کے کاروبار کے لیے نشان زد کیے گئے آٹھ اہم علاقوں میں کارروائی کی۔ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس روپندر سنگھ نے بتایا کہ یہ کارروائی پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل، ہریانہ کمشنریٹ کے تعاون سے کی جارہی ہے۔

روپندر سنگھ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’یہ پنجاب حکومت کی جاری ’منشیات کے خلاف جنگ‘ مہم کا حصہ ہے۔ پنجاب کے ڈی جی پی اور اے ڈی جی، ہریانہ کمشنریٹ کے تعاون سے ہم نے ان آٹھ نشان زدہ علاقوں میں دوبارہ کارروائی شروع کی ہے۔ اس کے نتیجے میں 18 سے 20 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور اب تک 50 سے 52 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ فی الحال ہم صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں اور یہ معلوم کررہے ہیں کہ کارروائی کے دوران کتنی مقدار میں منشیات یا دیگر اشیا برآمد ہوئی ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ مہم کے تحت پولیس ٹیموں نے ان آٹھ علاقوں میں دوبارہ کارروائی کی ہے اور وہاں نفاذِ قانون کی کارروائیاں جاری ہیں۔

ان کے مطابق، پولیس اس وقت کارروائی کے نتائج اور برآمد ہونے والی اشیا کی مقدار کا جائزہ لے رہی ہے۔ دوسری جانب، منشیات کے خلاف سرگرم کارکنوں کی ہلاکتوں کے بعد پنجاب حکومت کو تنقید کا سامنا ہے۔ حزب اختلاف ریاست میں امن و قانون کی صورت حال پر سوال اٹھا رہی ہے۔ اسی دوران شرومنی اکالی دل کے صدر سکھبیر سنگھ بادل نے عام آدمی پارٹی کی قیادت والی پنجاب حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ منشیات کے خلاف مہم چلانے والے مقتول کارکن پرویندر سنگھ جھوٹا کے اہل خانہ کو ہراساں کررہی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جھوٹا کی بیوہ اور والد کو ایسے لوگوں کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے بلایا جارہا ہے جن کے بارے میں الزام ہے کہ وہ اس کے قتل میں ملوث ہیں۔

سکھبیر سنگھ بادل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ پرویندر سنگھ جھوٹا نے پنجاب میں منشیات فروشوں کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جان گنوائی، لیکن انتظامیہ اس کے اہل خانہ کو انصاف دلانے کے بجائے انہیں پریشان کررہی ہے۔

پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’بھائی پرویندر سنگھ جھوٹا پنجاب میں منشیات فروشوں کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے۔ ان کی قربانی کا احترام کرنے اور انصاف فراہم کرنے کے بجائے انتظامیہ اب سوگوار خاندان کو ہراساں کررہی ہے۔ ان کی بیوہ اور والد کو انہی لوگوں کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے بلایا جارہا ہے جو مبینہ طور پر منشیات کے خلاف مہم چلانے والے اس کارکن کے قتل میں ملوث رہے ہیں۔‘

‘ یہ کارروائی پرویندر سنگھ جھوٹا کے قتل کے بعد انصاف فراہم کرنے کے مطالبات کے درمیان ہورہی ہے۔ جھوٹا کو 13 اکتوبر کو پنجاب کے ضلع مانسا میں ایک کیمسٹ کی دکان کے اندر گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ اس وقت وہ فیس بک پر براہ راست نشریات کررہے تھے۔ اس سے قبل مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے قتل کے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی تھی، جس میں کمار اور دیگر نامعلوم افراد کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔