مسلم خواتین کے غیر مساوی وراثتی حقوق پر مرکز سے جواب طلب

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 23-09-2026
مسلم خواتین کے غیر مساوی وراثتی حقوق پر مرکز سے جواب طلب
مسلم خواتین کے غیر مساوی وراثتی حقوق پر مرکز سے جواب طلب

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کو مسلم پرسنل لا کے تحت مسلمانوں میں صنفی امتیاز پر مبنی وراثت اور جانشینی کے غیر تحریری اصولوں کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی ایک مفادِ عامہ کی درخواست پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا۔ سپریم کورٹ نے نوجوانوں کے امور اور کھیل کی وزارت اور قانون و انصاف کی وزارت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے امتیاز حسین شہاب الدین ملا کی درخواست پر غور کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ موجودہ نظام صنفی امتیاز کو ادارہ جاتی شکل دیتا ہے، کیونکہ اس کے تحت خواتین وارثوں کو ان کے مرد ہم منصبوں کے مقابلے میں وراثت میں نصف حصہ ملتا ہے اور انہیں آبائی اور خاندانی جائیداد میں برابر کے حقوق حاصل نہیں ہوتے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے وکیل ایم سنگھ اور انیل سی نشانی کے دلائل پر غور کیا۔

وکلا نے کہا کہ اس طرح کا غیر مساوی سلوک آئین کے آرٹیکل 14 یعنی مساوات کے حق، آرٹیکل 15 یعنی امتیاز پر پابندی اور آرٹیکل 21 یعنی زندگی اور شخصی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ انیل نشانی نے کہا کہ پرسنل لا صرف یہ کہہ کر آئینی جانچ سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتے کہ وہ ’’پرسنل لا‘‘ ہیں۔ اگر کوئی قانونی شق واضح طور پر من مانی پر مبنی ہو تو اس کی آئینی حیثیت کی جانچ کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے اس معاملے کا موازنہ سپریم کورٹ کے تاریخی ’’شایرا بانو‘‘ فیصلے سے کیا۔ درخواست میں سپریم کورٹ سے مسلمانوں میں جائیداد اور وراثت کے معاملات میں خواتین اور مردوں کے لیے مساوی حقوق کے بارے میں ایک مستند فیصلہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے یہ بھی ہدایت جاری کرنے کی درخواست کی ہے کہ مسلم خواتین کو آبائی اور خاندانی جائیداد سمیت وراثت اور جانشینی میں مساوی حقوق فراہم کیے جائیں۔

درخواست میں مسلم وراثت کے ان اصولوں کو بھی چیلنج کیا گیا ہے جو بغیر وصیت کے وراثت کی صورت میں مسلسل نافذ ہیں اور جنہیں قانونی حیثیت حاصل ہے۔ درخواست گزار کا الزام ہے کہ ان اصولوں کے نتیجے میں مرد اور خواتین وارثوں کے جائیداد کے حقوق میں فرق پیدا ہوتا ہے۔

درخواست میں ہندو وراثت ایکٹ، خاص طور پر 2005 کی ترمیم کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس کے تحت ہندو مشترکہ خاندان کی جائیداد میں بیٹیوں کو برابر کی شریک وارث کے طور پر قانونی شناخت دی گئی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مسلم وراثتی قانون میں اس طرح کی اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے وراثتی حقوق میں عدم مساوات برقرار ہے۔