متحدہ عرب امارات میں وفات پانے والے ہندوستانی شہری کو وہیں دفن کر دیا گیا، مرکز نے سپریم کورٹ کو بتایا

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 09-10-2026
متحدہ عرب امارات میں وفات پانے والے ہندوستانی شہری کو وہیں دفن کر دیا گیا، مرکز نے سپریم کورٹ کو بتایا
متحدہ عرب امارات میں وفات پانے والے ہندوستانی شہری کو وہیں دفن کر دیا گیا، مرکز نے سپریم کورٹ کو بتایا

 



نئی دہلی: مرکزی حکومت نے جمعہ کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ گزشتہ سال دسمبر میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں وفات پانے والے ایک ہندوستانی شہری کو وہیں دفن کر دیا گیا تھا۔ جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس اپریش کمار سنگھ پر مشتمل بنچ اس عرضی پر سماعت کر رہی تھی، جو متوفی کی والدہ نے اپنے بیٹے کی لاش ہندوستان لانے کی ہدایت دینے کی درخواست کے ساتھ دائر کی تھی۔

مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج نے بنچ کو بتایا کہ متوفی یو اے ای میں ایک نجی آجر کے یہاں کام کرتا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’اس کی موت کے بعد، جنوری 2026 میں کسی وقت اس کی لاش کو باقاعدہ طور پر وہیں دفن کر دیا گیا تھا۔‘‘ بنچ نے کہا کہ سرکاری وکیل کے بیان کو دیکھتے ہوئے اس معاملے میں مزید سماعت جاری رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اگر عرضی گزار معاوضے کا دعویٰ کرنا چاہتی ہیں تو حکومتِ ہند انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ اس سال فروری میں سپریم کورٹ نے اس عرضی پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی اور مرکزی حکومت سمیت دیگر متعلقہ فریقوں سے جواب طلب کیا تھا۔

عرضی گزار نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کا بیٹا روزگار کے سلسلے میں دبئی گیا تھا اور گزشتہ سال دسمبر میں وہیں اس کی موت ہو گئی۔ عرضی گزار کے وکیل نے کہا تھا کہ انہیں اطلاع دی گئی تھی کہ ان کے بیٹے کی موت گزشتہ سال 4 دسمبر کو ہوئی تھی، جبکہ اس سلسلے میں انہیں 4 فروری کو فون آیا تھا۔ عرضی میں عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ متوفی کی لاش ہندوستان لانے کی ہدایت دی جائے، تاکہ اس کی والدہ آخری رسومات اور مذہبی رسم و رواج ادا کر سکیں۔